ونڈوز صارفین خبردار! عام تصاویر کے ذریعے سسٹم ہیک کرنے والا خطرناک وائرس بے نقاب

شیئر کریں

کیلیفورنیا: ڈیجیٹل سیکیورٹی کی دنیا میں ایک ایسا تہلکہ خیز انکشاف ہوا ہے جس نے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے کروڑوں صارفین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

سائبر انٹیلی جنس کے ماہرین نے ایک انتہائی منظم اور خفیہ مہم کا سراغ لگایا ہے جس میں ہیکرز بظاہر معصوم نظر آنے والی تصویری فائلوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

سائفرما نامی ادارے کے محققین کی جانب سے منظر عام پر لائی گئی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’آپریشن سائلنٹ کینوس‘ نامی یہ مہم اتنی مہارت سے ترتیب دی گئی ہے کہ ایک عام صارف تو کیا، جدید اینٹی وائرس پروگرامز بھی اسے پہچاننے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

اس حملے کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ کسی مشکوک لنک یا سافٹ ویئر کے بجائے ایک ایسی فائل کے ذریعے کیا جا رہا ہے جسے ہم روزانہ بلا خوف و خطر استعمال کرتے ہیں یعنی ایک عام سی تصویر۔

اس تخریب کاری کا آغاز ایک ایسی فائل سے ہوتا ہے جس کا نام اور فارمیٹ بظاہر بالکل نارمل لگتا ہے، جیسے کہ کوئی سسٹم اپ ڈیٹ کی تصویر ہو۔ جب یہ فائل کسی کمپیوٹر میں پہنچتی ہے تو یہ محض ایک بصری مواد نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر ایک پیچیدہ اور خطرناک اسکرپٹ چھپا ہوتا ہے جو خاموشی سے فعال ہو جاتا ہے۔

یہ عمل اتنا خفیہ ہوتا ہے کہ صارف کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے سسٹم کی حفاظتی دیواریں گرائی جا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اپنی کمانڈز کو کسی مستقل فائل میں محفوظ کرنے کے بجائے میموری میں براہ راست تخلیق کرتا ہے، جس کی وجہ سے روایتی سیکیورٹی اسکینرز اسے پکڑنے سے قاصر رہتے ہیں۔

یہ ہتھکنڈہ ہیکرز کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ کمپیوٹر کے اندر ایک ایسا خفیہ راستہ بنا سکیں جہاں سے وہ مزید نقصان دہ ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر سکیں۔

حملہ آوروں نے اس مہم میں مائیکروسافٹ کے اپنے ہی ٹولز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی چالاکی دکھائی ہے۔ وہ سسٹم کے اندر موجود فائلز کو ہائی جیک کر کے ایک کسٹم لانچر تیار کرتے ہیں جو ونڈوز کے اندر ایک متوازی اور خفیہ ڈیسک ٹاپ ماحول تخلیق کر دیتا ہے۔

یہ خفیہ ماحول صارف کی نظروں سے مکمل طور پر اوجھل رہتا ہے لیکن بیک گراؤنڈ میں ہیکرز کو وہ تمام اختیارات فراہم کر دیتا ہے جو ایک عام مالک کے پاس ہوتے ہیں۔

اس طرح حملہ آور صارف کی حساس معلومات، پاس ورڈز اور ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں اور کمپیوٹر پر ان کا کنٹرول ایک خاموش سائے کی طرح برقرار رہتا ہے جو ہر وقت فعال رہتا ہے۔

اس سائبر حملے کی ایک اور تشویشناک جہت اس کا مستقل مزاج ہونا ہے۔ ہیکرز نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اگر صارف اپنا کمپیوٹر ری اسٹارٹ بھی کر دے، تب بھی ان کا قبضہ ختم نہ ہو۔

اس مقصد کے لیے وہ ونڈوز کے اندر ایک خودکار سروس بنا دیتے ہیں جو کمپیوٹر آن ہوتے ہی دوبارہ متحرک ہو جاتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے حملوں سے بچنے کے لیے صارفین کو نامعلوم ذرائع سے آنے والی کسی بھی فائل، چاہے وہ محض ایک تصویر ہی کیوں نہ ہو، اسے کھولنے میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔

موجودہ صورتحال میں ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کے لیے محض اینٹی وائرس پر بھروسا کرنے کے بجائے غیر معمولی فائلوں کی نگرانی اور انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہونا ناگزیر ہو گیا ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے