بالاکوٹ: سیاحت کا دروازہ، غفلت کا ملبہ ؟

شیئر کریں

بالاکوٹ: سیاحت کا دروازہ، غفلت کا ملبہ یا حکمرانوں کے وعدوں کا قبرستان؟

تحریر: موسی خان

بالاکوٹ صرف ایک شہر نہیں، شمالی پاکستان کا پہلا تعارف سمجھا جاتا ہے۔
یہ وہ دروازہ ہے جہاں سے ناران، کاغان اور جھیل سیف الملوک کا سفر شروع ہوتا۔
یہاں سے گزرتے ہوئے سیاح پاکستان کے حسن کا پہلا عکس اپنی آنکھوں میں سجاتے ہیں۔
دریائے کنہار کے کنارے آباد یہ خوبصورت شہر فطرت کا ایک نایاب تحفہ دکھائی دیتا۔ پہاڑوں کے درمیان بہتا پانی انسان کے اندر عجیب سی تازگی اور سکون پیدا کرتا ہے۔


لیکن افسوس، اس خوبصورتی کے دامن پر غفلت، بدانتظامی اور گندگی کے بدنما داغ نمایاں ہیں۔
جو شہر سیاحوں کے خوابوں کی پہلی منزل ہونا چاہیے تھا، وہ مایوسی کی تصویر بن چکا۔ بالاکوٹ میں داخل ہوتے ہی جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر استقبال کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ سیاح حیران ہوتے ہیں کہ کیا واقعی یہی پاکستان کا مشہور ترین سیاحتی گیٹ وے ہے۔
سڑکوں کے کنارے پڑا کچرا حکومتی کارکردگی کا خاموش مگر شرمناک اشتہار بن چکا ہے۔ یہاں بہتے نالوں سے اٹھنے والی بدبو شہریوں کے ساتھ سیاحوں کو بھی پریشان کرتی ہے۔ مارکیٹوں کے اطراف صفائی کا فقدان انتظامیہ کی سنجیدگی پر بڑے سوالات اٹھاتا ہے۔
شہر کی گلیاں چیخ چیخ کر پوچھتی ہیں، آخر ذمہ دار کون ہے اس تباہی کا۔

بالاکوٹ کا نام سنتے ہی کبھی حسین وادیوں کی یاد آیا کرتی تھی لوگوں کو۔
آج یہی نام سن کر سیاح ٹریفک، گندگی اور بدانتظامی کی شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کروڑوں روپے کے فنڈز کہاں خرچ ہوتے ہیں، یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں گردش کرتا۔ ٹی ایم اے بالاکوٹ کے دفاتر میں فائلیں چلتی ہیں مگر صفائی کا نظام نہیں چلتا۔

افسران کے کمروں میں اے سی چلتے ہیں مگر شہر کے نالے بند پڑے دکھائی دیتے۔ ملازمین کی تعداد کم نہیں لیکن میدان میں عملی کام نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتا۔


صبح دفاتر تاخیر سے کھلتے ہیں اور عوامی مسائل شام تک رُلتے رہتے ہیں مسلسل۔
ایسا لگتا ہے جیسے یہ ادارہ عوام کیلئے نہیں، صرف تنخواہوں کیلئے قائم رکھا گیا۔
سیاحتی موسم قریب آتے ہی بالاکوٹ کی اہمیت کئی گنا بڑھ جایا کرتی ہے ہمیشہ۔ ہزاروں گاڑیاں روزانہ یہاں سے گزرتی ہیں اور لاکھوں لوگ اس شہر کو دیکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بالاکوٹ دراصل پورے پاکستان کی سیاحتی ساکھ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر دروازہ ہی گندا ہو تو اندر کے خوبصورت مناظر بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔
ناران جانے والا ہر سیاح بالاکوٹ کی موجودہ صورتحال دیکھ کر افسردہ ضرور ہوتا ہے۔ یہ شہر حکومت کیلئے ریونیو پیدا کرتا ہے مگر بدلے میں لاپرواہی حاصل کرتا ہے۔


سوال یہ ہے کہ آخر بالاکوٹ کے ساتھ یہ مسلسل ناانصافی کیوں روا رکھی جارہی ہے۔ کیا متعلقہ افسران نے کبھی بغیر پروٹوکول شہر کا پیدل دورہ کرنے کی زحمت اٹھائی؟
کیا انہوں نے کبھی بازاروں میں جمع گندگی اور بدبو کو قریب سے محسوس کیا؟
شاید نہیں، کیونکہ مسائل ہمیشہ غریب عوام کے حصے میں ہی لکھے جاتے ہیں اکثر۔
بالاکوٹ کے شہری بھی آخر انسان ہیں، انہیں بھی صاف ماحول میں جینے کا حق حاصل۔
یہاں چھوٹے بچے گندگی کے درمیان کھیلنے پر مجبور ہیں، جو لمحہ فکریہ ہے یقیناً۔
گندگی صرف بدصورتی پیدا نہیں کرتی بلکہ خطرناک بیماریوں کو بھی جنم دیتی ہے مسلسل۔
مچھروں کی افزائش اور آلودہ ماحول شہری صحت کیلئے بڑا خطرہ بنتا جارہا ہے روزانہ۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سیاحت کے ساتھ انسانی زندگی بھی متاثر ہوگی شدید۔
بالاکوٹ کی خوبصورتی کو سنوارنے کیلئے کسی بڑے معجزے کی ضرورت نہیں ہرگز۔
صرف نیت، دیانتداری اور مؤثر نگرانی شہر کی تقدیر بدل سکتی ہے آسانی کے ساتھ۔
دنیا بھر کے سیاحتی مقامات صفائی، نظم و ضبط اور خوبصورت ماحول سے پہچانے جاتے ہیں۔
ترکی، ملائشیا اور دبئی نے سیاحت کو معیشت کا ستون صفائی کے ذریعے بنایا ہمیشہ۔
ہم کیوں نہیں سیکھتے کہ خوبصورت مقامات کو محفوظ رکھنا قومی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔
بالاکوٹ میں جگہ جگہ خوش آمدیدی بورڈز نصب کیے جاسکتے ہیں انتہائی کم اخراجات کے ساتھ۔
سڑکوں کے کنارے پھول، پودے اور روشنیوں کا انتظام ماحول کو دلکش بنا سکتا ہے۔
بازاروں میں جدید ڈسٹ بن رکھے جائیں تو صفائی کا معیار نمایاں بہتر ہوسکتا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں کی دھلائی شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرسکتی ہے نمایاں۔
سیاحتی علاقوں میں صفائی عملے کی خصوصی ٹیمیں مستقل بنیادوں پر تعینات ہونی چاہئیں فوری۔
لیکن یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ ذمہ داری لینے کیلئے کوئی تیار دکھائی نہیں دیتا۔
افسران میٹنگز میں مصروف رہتے ہیں جبکہ شہر مسائل کے بوجھ تلے کراہتا رہتا مسلسل۔
یہ رویہ صرف غفلت نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے ساتھ کھلا مذاق بھی محسوس ہوتا۔
حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر بالاکوٹ کے مسائل اپنی جگہ قائم رہتے ہیں برسوں سے۔
ہر نیا افسر ترقیاتی دعوے کرتا ہے مگر عملی نتائج کہیں نظر نہیں آتے۔
سیاستدان جلسوں میں سیاحت کے فروغ کی بات کرتے ہیں مگر زمینی حقیقت مختلف ہوتی ہے۔
اگر بالاکوٹ واقعی اہم ہے تو پھر اس کی حالت بہتر کیوں نہیں بنائی جاتی۔
یہ سوال اب صرف شہریوں کا نہیں بلکہ ہر آنے والے سیاح کا بنتا جارہا۔
بالاکوٹ کو جدید سیاحتی ماڈل سٹی بنایا جاسکتا ہے اگر نیت صاف موجود ہو۔
یہاں خوبصورت واکنگ ٹریکس، پارکس اور فیملی پوائنٹس بنائے جاسکتے ہیں آسانی سے۔
دریائے کنہار کے کنارے سیاحوں کیلئے یادگار تفریحی مقامات تعمیر کیے جاسکتے ہیں فوری۔
لیکن افسوس، یہاں بنیادی صفائی تک یقینی نہیں بنائی جاسکی برسوں گزرنے کے باوجود۔
کچھ عرصہ پہلے بھی عوامی شکایات سامنے آئیں مگر کوئی واضح تبدیلی نہیں آسکی۔
یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں سنجیدگی مفقود ضرور ہے۔
بالاکوٹ کے نوجوان بھی چاہتے ہیں کہ ان کا شہر خوبصورتی میں مثال بنے ہمیشہ۔
مقامی کاروباری طبقہ بھی صاف ستھرے ماحول سے فائدہ اٹھا سکتا ہے براہ راست۔
ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور دکانیں بہتر ماحول میں زیادہ کاروبار حاصل کرسکتی ہیں آسانی سے۔
سیاحت صرف تصویروں کا نام نہیں بلکہ مکمل نظام اور مثبت تاثر کا معاملہ ہوتی۔
اگر پہلا تاثر خراب ہو تو سیاح دوبارہ آنے سے گریز کرنے لگتے ہیں اکثر۔
یہی وجہ ہے کہ بالاکوٹ کی بہتری دراصل پورے خطے کی بہتری تصور ہوگی۔
میں نے خود کئی سیاحوں کو یہاں کی صورتحال پر افسوس کرتے ہوئے سنا ہے۔
وہ کہتے ہیں قدرت نے حسن دیا مگر انسانوں نے اس حسن کی قدر نہیں کی۔
یہ جملہ سن کر دل واقعی دکھ سے بھر جاتا ہے بارہا اور مسلسل۔
کیونکہ بالاکوٹ جیسا شہر لاپرواہی نہیں بلکہ خصوصی توجہ کا مستحق ہونا چاہیے تھا۔
یہاں کے لوگ محبت کرنے والے، مہمان نواز اور خلوص رکھنے والے لوگ ہیں بےحد۔
مگر بدقسمتی سے نظام کی کمزوریاں ان کی اچھی شناخت کو نقصان پہنچارہی ہیں مسلسل۔
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر خصوصی صفائی مہم کا آغاز کیا جائے۔
ٹی ایم اے بالاکوٹ کی کارکردگی کا غیرجانبدارانہ آڈٹ بھی ناگزیر ہوچکا ہے اب یقیناً۔
فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے لانا شفافیت کیلئے ضروری قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
حاضری نظام کو سخت بنایا جائے تاکہ ملازمین اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں روزانہ۔
شہر میں جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا۔
مقامی تاجروں اور سماجی تنظیموں کو بھی صفائی مہم میں شامل کیا جانا چاہیے۔
مساجد، سکولوں اور کالجوں میں صفائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔
کیونکہ صرف حکومت نہیں، شہری بھی اپنے ماحول کے برابر ذمہ دار ہوا کرتے ہیں۔
اگر عوام اور انتظامیہ مل جائیں تو شہر بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
بالاکوٹ میں ٹریفک کا نظام بھی سیاحوں کیلئے مستقل پریشانی بنتا جارہا ہے روزبروز۔
غلط پارکنگ اور بے ہنگم رش سے بازاروں میں شدید مشکلات پیدا ہوتی رہتی ہیں۔
ٹریفک اہلکار محدود وسائل کے باوجود جدوجہد کرتے ہیں مگر مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔
یہاں مستقل پارکنگ پلازے اور متبادل راستے تعمیر کرنا ناگزیر ہوچکا ہے اب۔
بارش کے دنوں میں گندگی اور پانی جمع ہونے سے صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے۔
سیاح اکثر سوشل میڈیا پر ویڈیوز بناکر بالاکوٹ انتظامیہ پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے، بدنامی لمحوں میں پھیل جاتی ہے۔
ایک منفی ویڈیو ہزاروں ممکنہ سیاحوں کا ارادہ بدلنے کیلئے کافی ہوتی ہے اکثر۔
اس نقصان کا اندازہ شاید متعلقہ اداروں کو ابھی تک نہیں ہوسکا مکمل طور پر۔
بالاکوٹ کی ترقی صرف مقامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت سے جڑا معاملہ بھی ہے۔
سیاحت مضبوط ہوگی تو روزگار بڑھے گا، غربت کم ہوگی اور کاروبار ترقی کرے گا۔
لیکن اگر حالات یہی رہے تو نقصان صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہے گا۔
قدرتی حسن اللہ کی نعمت ہوتا ہے اور نعمتوں کی حفاظت فرض سمجھنی چاہیے ہمیشہ۔
جو قومیں اپنی خوبصورتی کی حفاظت نہیں کرتیں، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہتی ہیں۔
بالاکوٹ کے حالات دیکھ کر یہی احساس بار بار دل میں جنم لیتا رہتا ہے۔
یہ شہر توجہ مانگ رہا ہے، آواز دے رہا ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔
انتظامیہ کو سمجھنا ہوگا کہ سیاحت صرف تصاویر کھنچوانے کا نام نہیں ہرگز۔
یہ قومی وقار، مقامی معیشت اور عوامی اعتماد کا اہم ترین معاملہ بھی ہوتا۔
اگر بالاکوٹ کو سنوار لیا جائے تو یہ پورے پاکستان کیلئے مثال بن سکتا ہے۔
یہاں بین الاقوامی معیار کی سیاحتی سہولیات قائم کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
دریا کنارے فیملی پارکس، خوبصورت بیٹھکیں اور معلوماتی مراکز قائم ہوسکتے ہیں آسانی سے۔
مقامی ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے ثقافتی فیسٹیول بھی منعقد کیے جاسکتے ہیں سالانہ بنیادوں پر۔
لیکن سب سے پہلی ضرورت صفائی اور نظم و ضبط کی بحالی ہے فوری۔
ایک صاف شہر خود بخود لوگوں کے دل جیت لیتا ہے ہمیشہ کیلئے۔
ہمیں صرف عمارتیں نہیں بلکہ اچھا نظام اور بہتر سوچ بھی تعمیر کرنا ہوگی۔
بالاکوٹ کی موجودہ صورتحال دیکھ کر دل میں کئی تلخ سوالات جنم لیتے ہیں مسلسل۔
کیا واقعی ہمارے ادارے صرف کاغذی کارکردگی دکھانے کیلئے رہ گئے ہیں اب؟
کیا عوامی خدمت کا جذبہ سرکاری دفاتر سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہوچکا ہے شاید؟
کیا فنڈز صرف فائلوں میں خرچ ہوتے ہیں جبکہ شہر تباہ حال رہتے ہیں؟
یہ سوالات سخت ضرور ہیں مگر زمینی حقیقت ان سے بھی زیادہ تلخ محسوس ہوتی۔
آج اگر کوئی غیرملکی سیاح یہاں آئے تو وہ کیا تاثر لے کر جائے؟
کیا وہ پاکستان کی تعریف کرے گا یا بدانتظامی کی کہانیاں سنائے گا واپس جاکر؟
یہ سوچنا اب حکام کیلئے ناگزیر ہوچکا ہے، ورنہ نقصان بڑھتا ہی جائے گا۔
بالاکوٹ کو لاوارث سمجھنے کی روش فوری ختم کرنا ہوگی سنجیدگی کے ساتھ اب۔
یہ شہر پاکستان کے سیاحتی مستقبل کا اہم ترین چہرہ بن سکتا ہے یقیناً۔
ضرورت صرف دیانتدار قیادت، متحرک انتظامیہ اور بیدار شہری شعور کی ہے آج۔
میں یہ کالم کسی مخالفت یا ذاتی تنقید کیلئے نہیں لکھ رہا ہرگز۔
یہ تحریر صرف اپنے شہر اور وطن سے محبت کے جذبے کی عکاس ہے۔
تنقید کا مقصد تذلیل نہیں بلکہ اصلاح اور بہتری کی راہیں ہموار کرنا ہوتا۔
اگر آج خاموش رہے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
کیونکہ ہم نے قدرتی حسن کو اپنی آنکھوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھا ہوگا۔
بالاکوٹ کو بچانا صرف انتظامیہ نہیں، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔
آئیں عہد کریں کہ اپنے شہر کو صاف، خوبصورت اور مہذب بنانے میں کردار ادا کریں۔
دکاندار اپنی دکانوں کے سامنے صفائی کا خاص خیال رکھیں روزانہ مستقل بنیادوں پر۔
شہری کچرا سڑکوں پر پھینکنے کے بجائے مقررہ مقامات تک پہنچائیں ذمہ داری کے ساتھ۔
طلبہ صفائی آگاہی مہمات میں حصہ لے کر مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
علماء کرام بھی خطبات میں صفائی کی اہمیت اجاگر کرکے بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
کیونکہ صفائی صرف شہری ضرورت نہیں بلکہ ہماری مذہبی تعلیمات کا اہم حصہ بھی ہے۔
اسلام نے ہمیشہ پاکیزگی، خوبصورتی اور نظم و ضبط کو اہمیت دی ہے واضح انداز میں۔
افسوس ہم دعوے تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر ان اصولوں سے دور ہوتے جارہے۔
بالاکوٹ کو بدلنے کیلئے سب سے پہلے سوچ بدلنے کی ضرورت ہے فوری طور پر۔
جب نیت بدلتی ہے تو شہر، ادارے اور قوموں کی تقدیریں بھی بدل جاتی ہیں۔
مجھے یقین ہے اگر مخلص قیادت سامنے آئے تو حالات ضرور بہتر ہوسکتے ہیں جلد۔
یہ شہر دوبارہ اپنی خوبصورتی، تازگی اور سیاحتی وقار واپس حاصل کرسکتا ہے آسانی سے۔
حکام اگر چاہیں تو چند ماہ میں نمایاں تبدیلی ممکن بنائی جاسکتی ہے عملی اقدامات سے۔
لیکن شرط یہی ہے کہ فائلوں سے نکل کر میدان میں کام کرنا ہوگا مستقل۔
بالاکوٹ انتظار کررہا ہے ایسے لوگوں کا جو خدمت کو عبادت سمجھتے ہوں واقعی۔
یہ شہر انتظار کررہا ہے صاف سڑکوں، خوشبودار فضاؤں اور بہتر نظام کا شدت سے۔
یہ شہر انتظار کررہا ہے ان وعدوں کا جو برسوں پہلے کیے گئے تھے۔
اور شاید یہی انتظار اب شہریوں کی آنکھوں میں تھکن بن کر اترچکا ہے۔
لیکن امید ابھی زندہ ہے، کیونکہ امید ختم ہوجائے تو قومیں مرجاتی ہیں ہمیشہ۔
میں آج بھی یقین رکھتا ہوں کہ بالاکوٹ بدل سکتا ہے، ضرور بدل سکتا ہے۔
صرف ایک ایماندار فیصلہ، ایک مضبوط ارادہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے فوری۔
اگر آج اصلاح نہ کی گئی تو کل بہت دیر ہوچکی ہوگی یقیناً۔
پھر شاید ہم خوبصورت وادیوں کے دروازے پر صرف افسوس لکھتے رہ جائیں گے۔
بالاکوٹ کو بچالیجیے، کیونکہ یہ صرف ایک شہر نہیں، پاکستان کا چہرہ بھی ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے