آج کل جب بھی کسی اسکول یا کالج کا نتیجہ آتا ہے تو ایک عجیب سا ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ ادارے اپنی پوزیشن ہولڈرز کی فہرستیں لگاتے ہیں، اساتذہ اپنے ”ٹاپرز“ کا ذکر فخر سے کرتے ہیں، طلبہ ایک دوسرے کے نمبر پوچھتے ہیں اور والدین کے گھروں میں بھی پہلا سوال یہی ہوتا ہے : ”کتنے نمبر آئے؟“ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ بچے نے کیا سیکھا، کیا سمجھا، کس چیز میں دلچسپی ہے۔ نمبر ہی معیار بن گئے، نمبر ہی مقصد، اور نمبر ہی منزل۔ ہم نے تعلیم کو علم سے نہیں، نمبروں سے جوڑ دیا ہے۔ اور یہی وہ بنیادی غلطی ہے جس کی قیمت آج پوری قوم خاموشی سے چکا رہی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں شرح خواندگی تقریباً 58 سے 60 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ یونیسکو کے مطابق دو کروڑ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ مگر اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ جو بچے اسکول جاتے ہیں، ان میں سے بھی بیشتر عملی زندگی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 تک دنیا میں سب سے زیادہ مطلوب مہارتیں تخلیقی سوچ، تجزیاتی صلاحیت اور ڈیجیٹل اسکلز ہوں گی۔ جبکہ ہمارا نصاب ابھی تک انہی بنیادوں پر کھڑا ہے جو دہائیوں پہلے رکھی گئی تھیں۔
دنیا کہاں کھڑی ہے، یہ سمجھنے کے لیے چند مثالیں کافی ہیں۔
جرمنی کا ”ڈوئل ایجوکیشن سسٹم“ دنیا بھر میں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جہاں طالب علم کلاس روم کے ساتھ ساتھ کسی کمپنی یا ورکشاپ میں بھی عملی تربیت حاصل کرتا ہے۔ اس نظام کی وجہ سے جرمنی میں نوجوانوں کی بے روزگاری یورپ میں سب سے کم ہے۔ جنوبی کوریا نے 1970 کی دہائی میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو قومی پالیسی کا مرکز بنایا اور تیس سال میں ایک زرعی معیشت سے ٹیکنالوجی کی عالمی طاقت بن گیا۔ سنگاپور نے ”اسکل فیوچر“ کے نام سے ایک قومی پروگرام شروع کیا جس کے تحت ہر شہری کو عمر بھر سیکھنے کا حق اور وسائل دیے جاتے ہیں۔ فن لینڈ، جو عالمی تعلیمی درجہ بندی میں مسلسل اوپر رہتا ہے، وہاں امتحانات کا بوجھ کم سے کم ہے اور تخلیقی سوچ، تجربہ اور تحقیق کو اصل تعلیم سمجھا جاتا ہے۔
ان تمام ممالک نے یہ تبدیلی راتوں رات نہیں لائی، دس سے تیس سال کی مسلسل اصلاحات اور سیاسی عزم نے انہیں یہاں تک پہنچایا۔
پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ نصاب برسوں سے وہی ہے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت نہ ہونے کے برابر ہے، اور ڈیجیٹل دنیا سے واقفیت اب بھی شہری اشرافیہ تک محدود ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ لاکھوں گریجویٹ نکلتے ہیں مگر صنعت کا شکوہ ہے کہ کام کے قابل افرادی قوت نہیں ملتی۔ یہ تضاد خود بتاتا ہے کہ مسئلہ تعداد کا نہیں، معیار اور مطابقت کا ہے۔
حل موجود ہے، مگر اس کے لیے سوچ بدلنی ہوگی۔ اسکول کی سطح پر ڈیجیٹل لٹریسی، کوڈنگ کا ابتدائی تعارف اور مسئلہ حل کرنے کی تربیت لازمی ہونی چاہیے۔ کمیونیکیشن، پریزنٹیشن اور گروپ ورک کو نصاب میں جگہ ملنی چاہیے کیونکہ یہی صلاحیتیں عملی زندگی میں کام آتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں زرعی، برقی اور میکانیکی تربیت نوجوانوں کو فوری روزگار سے جوڑ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ فری لانسنگ، گرافک ڈیزائن اور انٹرپرینیورشپ جیسے شعبے نصاب کا حصہ بنیں تاکہ نوجوان نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، روزگار دینے والے بنیں۔
تدریسی تجربے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب طلبہ کو پروجیکٹ، تحقیق یا عملی مسئلے دیے جائیں تو ان کی آنکھوں میں ایک الگ چمک آ جاتی ہے۔ وہ چمک جو رٹے ہوئے سبق میں کبھی نظر نہیں آتی۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اصل سیکھنا شروع ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے پورے نظام کو اسی لمحے کے گرد بنانا ہے۔
اصل تبدیلی کتابوں سے پہلے سوچ میں آنی چاہیے۔ جب تک ہم تعلیم کو محض سرٹیفکیٹ اور ملازمت کا زینہ سمجھتے رہیں گے، خلا بڑھتا رہے گا۔ دنیا نے ثابت کر دیا ہے کہ تعلیمی اصلاح ممکن ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ارادہ سچا ہو اور تسلسل قائم رہے۔
فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ اپنی نسل کو صرف ڈگری دینی ہے یا واقعی ہنر اور خودمختاری بھی دینی ہے۔


