سوال تو اس نے بہت معصومانہ کیا تھا مگر افسر صاحب غصہ کر گئے۔ اس نے پوچھا تھا پنجاب میں جو بھی فورس بنتی ہے، وہ تڑی فورس کیوں بن جاتی ہے۔ کیا یہ تربیت کی کمی ہے یا اہلکاروں کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ عوام کو سکھ کا سانس نہ لینے دیں۔ نوجوان نے سوال پیرا فورس کے حوالے سے کیا تھا جس کے افسر و جوان آج کل آپے سے باہر ہوئے پھرتے ہیں۔ ایک پیرا فورس نوجوان کی تصویر نے تو سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ وہ ٹماٹروں کی ڈھیری پر کھڑا ہے اور بے چارے سبزی فروش کو دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔ پیرا فورس میں آنے سے پہلے شاید اس کے گھر میں جو سالن پکتا ہو، اس کے لئے ٹماٹر بھی دستیاب نہ ہوتے ہوں،کیونکہ ٹماٹر بھی بعض اوقات جنسِ نایاب بن جاتے ہیں۔ اب پیرا میں بھرتی ہو کر وہ رزق کی توہین پر اتر آیا ہے۔ غریب خوانچہ فروشوں کے چھابے الٹاتے تو میں نے کئی بار خود آنکھوں سے دیکھا ہے۔ قانون سے بات کرو، قانون کی بات کرو، مگر ہماری جتنی بھی ایسی فورسز ہیں ان کے اہلکار قانون کا نام لیں تو چڑجاتے ہیں۔ بعض تو اتھرے جٹ کی طرح پوجھتے ہیں، ہن توں مینوں قانون سکھائیں گا۔ پولیس نے ڈولفن فورس بنائی تو دعویٰ کیا گیا تھا جرائم پیشہ افراد کے خلاف سریع الحرکت فورس ثابت ہوگی۔ فوری مدد کو پہنچے گی۔ بڑی خوش کی بات تھی لیکن صاحبو کچھ ہی دن بعد اس پر بھی روائتی پولیس کا رنگ چڑھ گیا۔ جگہ جگہ ناکے لگاکے لین دین کی شکایات شروع ہو گئیں، حتیٰ کہ شہریوں سے الجھنے اور مارپیٹ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ یہ ایلیٹ فورس کا نام تو آپ نے ضرور سناہوگا۔ بڑی اچھی فورس تھی جیسا کہ نام سے ظاہر ہے لیکن اپنی حد تک نہیں رہی۔ کبھی ٹریفک پولیس بن جاتی ہے اور کبھی عام پولیس کا کردار اپنا لیتی ہے۔ مقصد شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانا نہیں، عدم تحفظ میں مبتلا کرنا ہے۔ ذکر ٹریفک پولیس کا ہوا ہے تو یہ بھی سن لیں کہ اس نے ٹریفک چلانے پر آج تک توجہ نہیں دی۔ ساری توجہ چالان کرنے یا چالان کے نام پر شہریوں کو لوٹنے پر مرکوز ہے۔ ملتان اس حوالے سے کچھ زیادہ ہی آگے رہا ہے۔ یہاں افسروں نے پرائیویٹ لفٹرز چلادیئے جس کے چالانوں کا پیسہ پنجاب حکومت کے خزانے میں جانے کی بجائے ویلفیئر فنڈ کے نام پر افسروں کی جیبوں میں جاتا رہا۔ سارے شہر کو پتہ چل گیا کینٹ والے لفٹر کی آمدنی کس بڑے افسر کو جاتی ہے اور شہر والوں پر لفٹرز کس نے چلا رکھے ہیں۔ جب اس حوالے سے ٹارگٹ بھی مل جائے تو پھر قانون ایک طرف رہ جاتا ہے۔ ٹریفک قوانین کے برعکس ایسی گاڑیاں بھی لفٹرز اٹھا لیتے ہیں جن میں کوئی بیمار، کوئی خاتون یا بزرگ بیٹھا ہوتا ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ ایک اچھی بھلی نئی فورس بھی کچھ ہی عرصے بعد عوام کا اعتماد کیوں کھو دیتی ہے۔ سی سی ڈی مجرموں کے لئے تو خوف کی علامت بن ہی گئی ہے تاہم اس میں تعینات کچھ مہاکاریگر اس کے نام پر ڈرا کر اپنا دھندہ شروع کئے ہوئے ہیں۔بے مہابہ اختیارات جو چیک اینڈ بیلنس کے بغیر ہوں خرابی کو جنم دیتے ہیں۔ہمارے سرکاری محکموں خاص طور پر لاء انفورسمنٹ اداروں کی یہ ذہنیت بن گئی ہے کہ عوام کو خوف میں مبتلا رکھنا ہے۔ قانون کی طاقت نہیں منوانی بلکہ بڑھک بازی کے ذریعے دباؤ ڈالنا ہے جس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے اور اکثر نکلتا ہے کہ لوگ ان اداروں کے اہلکاروں سے دست و گریبان ہوجاتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ کسی بھی ایسے ادارے کی ناکامی ہوتی ہے جس کے پاس قانونی کارروائی کے اختیارات ہوں اور اس کے ملازمین ہاتھا پائی پر اتر آئیں۔ ایسے واقعات پر اصولاً تو انکوائری ہونی چاہیے کہ حالات ایسے کیوں پیدا ہوئے معاملہ اس حد تک کیوں گیا؟ اس کی بجائے اعلیٰ افسر ہمیشہ جوش میں آکر ان لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیتے ہیں جنہوں نے لڑائی جھگڑا کیا۔ کوئی بھی فورس ہو اس کے پاس قانونی کارروائی کا کلی اختیار ہوتا ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ لڑائی جھگڑے کے بعدقانون کو استعمال کرے۔ مجھے ایک سینئر افسر سے ملنے کااتفاق ہوا باتوں باتوں میں یہی موضوع چھڑ گیا۔ ان کی رائے دوسری تھی انہوں نے کہا لوگ جب قانون کی پابندی نہیں کرتے اور اس پر دھمکیاں بھی دیتے ہیں تو بات خراب ہوتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پیرا فورس کی مثال دی جس کا کام تجاوزات کے خلاف آپریشن ہے، ہمارے عوام کے نزدیک جو بہت ناپسندیدہ کام ہے۔ کیونکہ وہ تجاوزات کو اپنا حق سمجھتے ہیں اگر بات بار بار تنبیہ کے باوجود بن نہ رہی ہو تو سختی کرنا پڑتی ہے۔ اس پر وہی لوگ مظلوم بن جاتے ہیں،جنہوں نے مختلف جگہوں پر قبضے کئے ہوتے ہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ پیرا فورس جب گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو تاجر مزاحمت کرتے ہیں۔ میں نے کہا موقع پر ہاتھا پائی کے بغیر اگر پولیس میں مقدمہ درج کرا دیا جائے تو زیادہ بہتر نہیں ہوگا۔ ایسا ہو سکتا ہے اگر آپ نے دکان سیل کرنی ہے تو وہ موقع پر ہی کرنا پڑے گی اور مزاحمت ہوتی ہے تو قانون کی طاقت سے نمٹنا بھی پڑے گا۔
اس میں دو آراء نہیں کہ قانون نافذ کرنے کے لئے مختلف فورسز کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے عوام ان فورسز پر اعتماد نہیں کرتےّ پیرا فورس ہی کے بارے میں یہ عمومی شکایت سامنے آتی ہے کہ وہ امتیازی سلوک کرتی ہے۔ اس کے اہلکار یکساں قانون نافذ نہیں کرتے بلکہ مختلف عوامل کی وجہ سے جس میں رشوت بھی ایک اہم عنصر ہے، وہ کسی کو رعایت دے دیتے اور کسی کو اسی نوعیت کی تجاوزات میں نشانہ بناتے ہیں۔ زندگی بھر یہ خواہش ہی رہی کہ ایسی فورسز کے ملازمین کو عوام کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرتے دیکھیں، جو منظر بھی سامنے آتا ہے وہ مار دھاڑ سے بھرپور ہوتا ہے، حتیٰ کہ خواتین تک سے اسی انداز میں سلوک کیا جاتا ہے۔ میں ایک بار ٹریفک پولیس کے وارڈنز کو لیکچر دے رہا تھا۔ میں نے کہا جب میں کسی وارڈن کو دست و گریبان ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے۔ اگر موٹرسائیکل والا الجھ رہا ہے تو اس سے الجھنے کی بجائے چالان کرکے اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ وردی پر ہاتھ ڈالنے کو بڑا جرم قرار دینے والے اس نکتے پر بھی سوچیں کہ وہ یہ نوبت آنے ہی کیوں دیتے ہیں؟
بشکریہ: روزنامہ پاکستان


