کیا مطلوبہ انفرا اسٹرکچر کے بغیر ڈیجیٹل معیشت ممکن ہے؟

شیئر کریں

پاکستان میں اس وقت ایک اہم سوال ابھر رہا ہے کہ کیا ہم واقعی ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا صرف اس کا تاثر پیدا ہو رہا ہے؟

ایک طرف آئی ٹی برآمدات 3 ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہیں، جو بظاہر ایک کامیابی ہے۔ مگر دوسری طرف وہی معیشت کمزور انٹرنیٹ، محدود رسائی اور مہارتوں کے واضح خلا کا شکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی بنیادوں پر یہ ترقی دیرپا ہو سکتی ہے؟

حالیہ برسوں میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ تقریباً 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ اس میں بڑا حصہ فری لانسرز، سافٹ ویئر خدمات اور بیرونی کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے شعبوں سے آ رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک مثبت رجحان ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیگر معاشی شعبے دباؤ میں ہیں۔

لیکن اگر اس ترقی کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔

پاکستان ابھی بھی ڈیجیٹل تیاری کے عالمی معیار میں پیچھے ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار خطے کے ممالک جیسے بھارت اور ویتنام سے کم ہے۔ اس کے علاوہ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل سہولیات کا فرق بھی بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے بڑی آبادی اس نئی معیشت سے باہر رہ جاتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی مضبوط بنیادوں پر نہیں بلکہ کمزور ڈھانچے کے باوجود ہو رہی ہے۔

سب سے بڑی رکاوٹ انفراسٹرکچر کی ہے۔ فائبر نیٹ ورک محدود ہے، کنیکٹیویٹی غیر مستقل ہے، اور خاص طور پر چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیجیٹل معیشت چند بڑے شہروں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔

دوسرا اہم مسئلہ انسانی وسائل کا ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی ایک بڑی طاقت ہو سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے محروم ہے۔ تعلیمی ادارے زیادہ تر نظریاتی تعلیم دیتے ہیں جبکہ مارکیٹ کو عملی مہارتیں درکار ہیں۔ اسی وجہ سے ڈیجیٹل شعبہ زیادہ تر فری لانسرز پر انحصار کرتا ہے، جو اگرچہ زرمبادلہ لاتے ہیں مگر بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی کا متبادل نہیں بن سکتے۔

تیسرا مسئلہ پالیسی کا ہے۔ مختلف ادارے اپنی اپنی سطح پر کام کر رہے ہیں، مگر ان کے درمیان ہم آہنگی کم ہے۔ نتیجتاً پالیسی میں تسلسل نہیں رہتا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ابھی تک کم قدر سرگرمیوں تک محدود ہے۔ اگر ہم نے سافٹ ویئر مصنوعات، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے پیمانے پر کاروبار کی طرف پیش رفت نہ کی تو ہم عالمی معیشت میں نیچے ہی رہیں گے۔

اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو چند واضح خطرات سامنے آ سکتے ہیں۔ آئی ٹی برآمدات کی رفتار سست ہو سکتی ہے، دیگر ممالک ہم سے آگے نکل سکتے ہیں، اور باصلاحیت افراد ملک چھوڑتے رہیں گے۔

اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں۔

سب سے پہلے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سنجیدہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ فائبر نیٹ ورک کو بڑھانا، انٹرنیٹ کی رسائی بہتر بنانا، اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے تیاری کرنا ناگزیر ہے۔

دوسرا، مہارتوں کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ تعلیم کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق بنانا ضروری ہے تاکہ نوجوان واقعی قابلِ روزگار بن سکیں۔

تیسرا، حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ترقی دینے میں مدد دیں۔ اس میں آسان پالیسی، سرمایہ کاری کے مواقع اور کاروباری ماحول کی بہتری شامل ہے۔

چوتھا، ڈیجیٹل سہولیات جیسے ادائیگی کے نظام اور شناختی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہو گا تاکہ کاروبار کرنا آسان ہو سکے۔

آخر میں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ باصلاحیت افراد کو ملک میں مواقع دیے جائیں۔ اگر یہ لوگ باہر جاتے رہے تو مقامی معیشت کمزور ہی رہے گی۔

پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ہمارے پاس نوجوان آبادی ہے، ابتدائی ترقی موجود ہے، اور امکانات بھی ہیں۔ مگر اگر بنیادیں مضبوط نہ کی گئیں تو یہ ترقی زیادہ دیر نہیں چل سکے گی۔

ڈیجیٹل معیشت میں کامیابی صرف رفتار سے نہیں بلکہ مضبوط بنیادوں سے حاصل ہوتی ہے۔
اور جب بنیادیں کمزور ہوں تو ترقی نہیں، بلکہ ایک حد ہوتی ہے۔ جس سے آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے