پاکستان اس وقت شدید توانائی اور پیٹرولیم بحران کا شکار ہے۔ بجلی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں، گیس کی قلت، درآمدی تیل پر انحصار، صنعتی بندشیں اور عالمی منڈی میں تیل و ایل این جی کی غیر یقینی قیمتوں نے معیشت کو شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان، ایران اور ترکمانستان کے درمیان مجوزہ گیس و تیل پائپ لائن منصوبے ایک مرتبہ پھر قومی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ یہ منصوبے پاکستان کو توانائی بحران سے نکال سکتے ہیں لیکن صرف سیاسی نعروں اور سفارتی رکاوٹوں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔
ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے پہلے دورِ صدارت میں باقاعدہ معاہدے کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے پاکستان کو روزانہ تقریباً ایک ارب مکعب فٹ گیس فراہم ہونا تھی۔ ایران نے اپنی سرزمین پر پائپ لائن کا بڑا حصہ مکمل بھی کر لیا، مگر پاکستان ایران کے خلاف امریکی پابندیوں اور امریکہ سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ کے باعث اپنی حدود میں منصوبے پر پیش رفت نہ کر سکا۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ایران کے ساتھ اس منصوبے کو وقتی طور پر مؤخر کرنے اور قانونی تنازع سے بچنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے، تاہم یہ امکان بھی برقرار رکھا گیا ہے کہ اگر امریکی پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو نہ صرف یہ منصوبہ بلاتاخیر دوبارہ فعال کیا جانا چاہیے بلکہ ایران سے سستے خام تیل لینے کے معاملات کو بھی عملی صورت دینی چاہیے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور زمینی راستے سے گیس کی فراہمی سمندری ایل این جی درآمدات کے مقابلے میں نسبتاً سستی ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان اس وقت مہنگی ایل این جی درآمدات اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے شدید متاثر ہے۔ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے بحران نے واضح کر دیا کہ عالمی توانائی سپلائی لائنز کس قدر غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔
اسی پس منظر میں تاپی منصوبے کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ترکمانستان دنیا کے بڑے گیس ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور تاپی منصوبے کے ذریعے ترکمان گیس افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت تک پہنچائی جانی تھی۔ اس منصوبے سے پاکستان کو نہ صرف گیس ملتی بلکہ ٹرانزٹ تجارت، علاقائی روابط اور وسط ایشیا تک رسائی کے نئے دروازے بھی کھلتے۔ انگریزی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ترکمانستان اب بھی اپنی گیس برآمدات کو متنوع بنانے کے لیے تاپی کو اہم منصوبہ قرار دے رہا ہے۔
تاہم زمینی حقائق اس منصوبے کے لیے بھی سازگار دکھائی نہیں دیتے۔ افغانستان کی غیر یقینی صورتحال، پاکستان کی افغانستان اور بھارت سے بڑھتی کشیدگی تو اب دشمنی میں بدلتی جا رہی ہے، دونوں ممالک کے خلاف حالیہ جنگ اور بھارت کی غیر مستقل مزاجی اور عدم دلچسپی، سکیورٹی خدشات اور مالیاتی مسائل تاپی منصوبے کو فی الوقت ناممکنات کی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں توانائی پالیسی ہمیشہ سیاسی مفادات اور بیرونی دباؤ کے درمیان پھنسی رہی ہے۔ ایک طرف عوام مہنگے پیٹرول، لوڈشیڈنگ اور گیس بحران کا سامنا کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایسے منصوبے برسوں تک فائلوں اور سفارتی بیانات تک محدود رہتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں شدید اضافے اور ایندھن بحران نے حکومت کو ہنگامی اقدامات پر مجبور کیا۔
آج جب پاکستان شدید معاشی دباؤ، صنعتی زوال اور توانائی قلت کا شکار ہے تو ان منصوبوں کی افادیت دوبارہ نمایاں ہو رہی ہے۔ اگر ایران اور ترکمانستان سے سستی گیس، ایران سے سستے خام تیل کی مستقل فراہمی ممکن ہو جائے تو پاکستان کی صنعت، بجلی پیداوار اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو بڑی حد تک استحکام مل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدی ایل این جی اور مہنگے فرنس آئل اور مہنگے پیٹرول پر انحصار بھی کم ہو سکتا ہے ساتھ ساتھ عوام کو بھی قیمتوں میں بہت بڑا ریلیف ملے گا جو ملک میں مہنگائی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کے مترادف ہو گا۔
ان سب حقائق کے باوجود دوسری جانب زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف پائپ لائن منصوبے پاکستان کے توانائی بحران کا مکمل حل نہیں۔ توانائی کے شعبے میں شفاف اصلاحات، بجلی چوری کا خاتمہ، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور سیاسی استحکام بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ بصورتِ دیگر یہ منصوبے بھی ماضی کی طرح سیاسی تقریروں اور سفارتی تنازعات میں دفن ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کو اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا وہ اپنی توانائی پالیسی کو جغرافیائی سیاست کا یرغمال بنائے رکھے گا یا قومی مفاد کو ترجیح دے کر طویل المدتی توانائی اور خودمختاری کی طرف بڑھے گا، جس میں ایران سے گیس اور خام تیل کا حصول بھی شامل ہے، کیونکہ آنے والے برسوں میں توانائی ہی معیشت، صنعت اور قومی سلامتی کی اصل بنیاد بننے جا رہی ہے۔


