دنیا ٹیکنالوجی میں ترقی کررہی ہے، نئی پیشرفت آرٹیفیشل انٹیلی کی نے جس کے آتے ہی حیرت انگیز طور پر معلومات تک عام رسائی ممکن ہو گئی ہے۔ اے آئی نے انسان کے کاموں کے طریقہ کار کو سمجھا اور اسے کرکے دکھایا۔ ڈیٹا ہی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے اور اے آئی اسی ڈیٹا کو ادھر ادھر کرکے حیران کن نتائج دے رہی ہے۔
سائنسی ایجادات نے صرف ڈیوائس کے ذریعے ہاتھوں کے کاموں کو مشینوں کے سپرد کردیا ہے۔ اسے معلوم ہے کیا غلط ہے اور کیا صحیح، وہ ہر چیز کو اپنے ڈیٹا کے مطابق سرانجام دے رہی ہے۔ سوالوں کے جوابات ہوں یا پھر معلومات تک رسائی ہو، سب کچھ ممکن ہو گیا ہے۔ پہلے ایمازون، جی پی ٹی اور اب اے ائی آتے ہی انسانی ضرورت بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے سیکھنے والے کو ترقی یافتہ کہا جائے گا اور جو نہیں سیکھ پایا وہ کہاں کھڑا ہوگا؟ تو اس کا جواب ہے کسی حد تک ایسا ہی ممکن ہے۔ ای کامرس نے معیشتوں کے انداز بدلے، ٹیکنالوجی نے زندگی کو سہل بنا دیا اور یوں آن لائن جیسی سروسز متعارف ہوئی اب تو ٹیکسیز تک اے آئی کے ذریعے چل رہی ہیں۔
اب آنے والے دنوں میں ہر نت نئی ایجاد زندگی کا نہ صرف حصہ ہوں گی بلکہ ضروری بھی ہوں گی۔ کیوں کہ وقت کی رفتار کے ساتھ چلنے والا ہی وقت کو شکست دے سکتا ہے اور ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کے ساتھ نہ چل پائے تو پھر امیر امیر ہوتا جائے گا اور غریب غریب رہ جائے گا اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ چلیں۔
اس ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال میں لانا ہے یہ اب ہماری ذمے داری ہے۔ اپنے روزگار میں اس کا استعمال کیسے کرنا ہے، اپنے روز مرہ امور میں اس سے کیسے استفادہ کرنا ہے۔ اپنے آفیشل ورک میں کیسے اس سے کام لینا ہے یہ سب سیکھنے کی ضرورت ہے۔
دو باتیں سمجھنے کی ہیں ایک تو یہ ہے کہ ہم اے آئی کے ذریعے کام ضرور کررہے ہیں اور اس کے ذریعے معلومات ضرور آسانی سے مل جاتی ہے مگر یہ غلطی کرسکتا ہے اس بات کو مدنظر رکھا جائے۔ اے آئی بھی انسان کی بنائی ہوئی ہے اور اس میں انسان کی طرح غلطیاں کرنا ممکن ہے یہ کلی طور پر بھروسے کی چیز نہیں ہے۔ اس لیے معلومات جب بھی لیں خاص طور پر دین سے متعلق تو ضرور کسی مستند اور صاحب عمل عالم دین سے اس کی بابت پوچھیں۔
گوگل ہو یا میٹا یا پھر چیٹ جی پی ٹی ہمیشہ یاد رکھیں یہ سب انسان کی بنائی ہوئی ہیں جبکہ ان سب کو بنانے والی ذات اللہ بابرکت کی ہے۔ وہ مالک کل ہے جو کائنات کو بنانے والا ہے جس نے کہکشائیں بنائی ہیں جہاں اس طرقی یافتہ ٹیکنالوجی کی موجودگی میں بھی آج کا انسان نہیں پہنچ سکا۔


