میناب کی 168 بچیوں کی شہادت عالمی پالیسی کا مرکزی نقطہ کیوں نہیں بنی؟

شیئر کریں

قراردادیں ویٹو کی نذر ہوئیں، کیونکہ ان تحقیقات میں بڑی طاقتوں کے کردار کو بھی زیر بحث لایا جا سکتا تھا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی ادارے بچوں کے تحفظ کے لیے موثر نظام نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور اس ناکامی کی بنیادی وجہ وہی ادارہ جاتی کمزوریاں ہیں جو عالمی نظام کو طاقتور ریاستوں کا تابع بناتی ہیں۔ جب تک عالمی اداروں کی ساخت میں بنیادی اصلاحات نہیں ہوتیں، بچوں کے حقوق محض بیانات اور قراردادوں تک محدود رہیں گے۔

جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کی اسمگلنگ، جبری مشقت، جنسی استحصال اور غیر قانونی بھرتی ایک منظم اور منافع بخش معیشت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یو این او ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اسمگل ہونے والے بچوں کا بڑا حصہ انہی علاقوں سے آتا ہے جہاں ریاستی کنٹرول کمزور ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ نیٹ ورکس مقامی جنگی گروہوں، بدعنوان حکام اور سرحدی محافظوں کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی مشکل ہو جاتی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنگوں نے ہمیشہ بچوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں لاکھوں بچے بھوک، بیماری اور بمباری کا شکار ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم میں ہولوکاسٹ، محاصروں اور فضائی حملوں نے لاکھوں بچوں کی جان لی۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے ویتنام میں ایجنٹ اورنج جیسے کیمیائی ہتھیاروں نے نسلوں کو متاثر کیا، جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان نسلوں کو اپاہج اور ذہنی معذوری جیسے امراض کا سامنا رہا، افغانستان، بوسنیا، روانڈا، کانگو، عراق، شام، یمن، غزہ اور یوکرین جیسے تنازعات میں بچوں کی ہلاکتیں، معذوریاں، بے گھری، غذائی قلت اور ذہنی صدمات نے ان کے مستقبل کو تاریک بنا دیا۔ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جدید جنگوں میں بچوں کی ہلاکتوں کا تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے، اور ان کے خلاف تشدد کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔

یہ تمام دلائل اور شواہد ہماری جدید دنیا کی ایسی تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں جس پر انسانیت شرمندہ ہے، عالمی نظام میں بچوں کی حیثیت اب بھی کمزور اور غیر مرکزی ہے۔ طاقت، معیشت اور سیاست کے شور میں ان کی آواز دب جاتی ہے۔ جب تک عالمی نظام کو سامراج سے آزاد کر کے اس میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں، اور بچوں کے حقوق کو محض اخلاقی کے بجائے سیاسی ترجیح کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک بچوں کے خلاف جرائم رک نہیں سکتے۔ میناب 168 کا سانحہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ذرا دیر ٹھہر کر سوچیں، کیا ہم واقعی ایک ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں بچوں کی زندگی، ان کا تحفظ، ان کی تعلیم اور ان کا مستقبل محض حادثات کے رحم و کرم پر نہ ہوں۔ اگر نہیں، تو وقت آ گیا ہے کہ ہم طاقت کے ایوانوں میں بچوں کو پالیسی کا مرکز بنائیں، کیونکہ ان کی حفاظت اور خوشحالی ہی بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے روز مرہ کی طرح ایران پر مسلط جنگ میں اپنی جیت کے خود ساختہ دعوے کو اخلاقی جواز دینے کہ لیے کہا تھا کہ، ہم نے ایران کو تباہ کر کے اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کیا ہے۔ اس دوران وہ یہ بتانا بھول گئے کہ ان کی اس خود پسند فتح کی ابتداء دراصل ایران میں اسکول کی معصوم بچیوں پر بم برسانے سے ہوئی تھی۔

آج سے تقریباً 1346 برس پہلے جب امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ 6 ماہ کے علی اصغر کو حجت تمام کرنے کی غرض سے پانی پلانے میدان کربلا لے کر گئے تو دشمن نے اس 6 ماہ کے علی اصغر کو تیر مار کر شہید کر دیا۔ یہ واقعہ صدیوں پرانا ہے لیکن اس کے کردار آج بھی موجود ہیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے