شیئر کریں

نوجوانی کے دور میں نام اور چیزیں بھول جانے کا مسئلہ اب ایک عام شکایت بن چکا ہے جس نے طبی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ بظاہر یہ عمل معمولی غفلت معلوم ہوتا ہے لیکن اکثر اوقات یہ کسی بڑے ذہنی یا جسمانی عارضے کی ابتدائی علامت ثابت ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں یادداشت کا ختم ہونا ڈیمینشیا جیسی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے، جس میں دماغی خلیات رفتہ رفتہ کمزور پڑ جاتے ہیں، تاہم نوجوانوں میں یہ مسئلہ عمر بڑھنے کے بجائے طرزِ زندگی کے دیگر عوامل اور ناقص عادات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کے نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، حد سے زیادہ کام کا بوجھ اور نیند کی شدید کمی یادداشت کے مسائل کی بنیادی وجوہات ہیں۔ دماغ بھی انسانی جسم کے دیگر اعضاء کی طرح آرام کا طلب گار ہوتا ہے اور مسلسل تھکن اس کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

ڈاکٹرز نے وضاحت کی کہ جب کوئی شخص اپنی ذہنی صلاحیت سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے تو دماغی خلیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال وقتی بھول چوک سے شروع ہو کر مستقل ذہنی انتشار کی شکل اختیار کر سکتی ہے، اس لیے اسے نظر انداز کرنا کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

بہتر یادداشت کے حصول کے لیے ماہرین نے متوازن طرز زندگی اپنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ ورزش، متناسب اور صحت بخش غذا کا استعمال اور پرسکون نیند دماغ کو دوبارہ فعال کرنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یادداشت کا مسئلہ شدت اختیار کر جائے اور روزمرہ کے معمولات متاثر ہونے لگیں تو اسے محض غفلت نہ سمجھیں۔ ایسی صورت میں فوری طور پر کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ وقت رہتے کسی سنجیدہ طبی پیچیدگی کی تشخیص کی جا سکے اور اس کا بروقت علاج ممکن ہو سکے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے