پاکستان نے حال ہی میں عالمی سطح پر ایک انتہائی قابلِ ذکر کام انجام دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا ایک تیسری عالمی جنگ کے خوف میں مبتلا تھی، ہمارے ملک نے ایک امن پسند کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم اور عسکری قیادت کی زیرِ نگرانی، پاکستان نے امریکہ اور ایران کو ایک ہی میز پر لانے کے لیے سخت محنت کی۔ اس کوشش کو دنیا بھر کے رہنماؤں نے سراہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک مثبت قوت بن سکتا ہے اور طاقتور دشمنوں کے درمیان امن کا پل بن سکتا ہے۔ تاہم، ایک پرانی کہاوت ہے کہ امن گھر سے شروع ہوتا ہے۔ جب ہمارے رہنما غیر ملکی ممالک کے درمیان امن قائم کرنے میں مصروف ہیں، تو پاکستان کے اندر بہت سے لوگ، خاص طور پر ہماری مذہبی اقلیتیں، انتہائی خوفزدہ ہیں۔
لیکن اس کامیابی کا جشن مناتے ہوئے، ہمیں اپنے گلی کوچوں میں ہونے والے واقعات پر بھی نظر ڈالنی ہوگی۔ گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے، اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کچھ علاقوں میں خاندان اپنی حفاظت کے حوالے سے اس قدر فکر مند ہیں کہ وہ رات کو سو بھی نہیں پاتے۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ ماریہ کے کیس میں، مسیحی برادری اس عدالتی فیصلے سے شدید پریشان اور غم زدہ ہے۔ یہ قانونی مایوسی ان لوگوں کی بے چینی میں مزید اضافہ کرتی ہے جو پہلے ہی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ چاہے وہ مقامی ہجوم کا خوف ہو، مذہب کے حوالے سے اختلافات ہوں، یا ان کے بچوں کی حفاظت کا معاملہ ہو، یہ شہری اس امن کا تجربہ نہیں کر رہے جس کا پرچار پاکستان اس وقت دنیا میں کر رہا ہے۔
ریاست کو اب ان خدشات کا مداوا قانونی اصلاحات کے ذریعے کرنا ہو گا۔ پنجاب اسمبلی میں پیش کردہ کرسچن میرج بل 2026 اس سمت میں ایک امید کی کرن ہے۔ یہ بل شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرتا ہے اور آزادانہ رضامندی کو لازمی قرار دیتا ہے۔ اگر ایسے قوانین پر سختی سے عمل ہو، تو بچیوں کے اغوا اور زبردستی کی شادیوں جیسے معاملات کا خاتمہ ممکن ہے، جو کہ ہماری اقلیتوں کے خوف کی بڑی وجہ ہے۔ جب تک ہم اپنے نظام میں ایسی اصلاحات نہیں لائیں گے، ہماری اقلیتی برادریاں خود کو تنہائی کا شکار محسوس کرتی رہیں گی۔
وزیراعظم اور عسکری قیادت نے دکھایا ہے کہ وہ عالمی واقعات پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہی طاقت اب اندرونِ ملک مبذول ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنی قیادت کی ضرورت ہے کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہو اور دنیا کو بتائے کہ ہر پاکستانی کو ریاست کا تحفظ حاصل ہے۔ جس طرح ہم نے امریکہ اور ایران کو امن کی میز پر بٹھایا، ہمیں مقامی برادری کے رہنماؤں کو بھی ایک میز پر بٹھانا چاہیے تاکہ وہ اپنے اختلافات ختم کر سکیں۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر خبر کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ لوگ تین ہفتوں سے نہیں سوئے، تو ہم ان ماؤں کی بات کر رہے ہیں جو دروازے پر نظر رکھے جاگ رہی ہیں۔ یہ وہ پاکستان نہیں ہے جو ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں۔ ہمارا مذہب اور ہمارا آئین دونوں ہمیں کمزوروں کی حفاظت کا درس دیتے ہیں۔ ایک متحد پاکستان، جہاں ہر کوئی اپنے عقیدے سے قطع نظر محفوظ محسوس کرے، وہ پاکستان ہے جو صحیح معنوں میں دنیا کی قیادت کر سکتا ہے۔


