کراچی میں جاری غیر منظم ترقیاتی کاموں کے صحت اور ماحول پر منفی اثرات

شیئر کریں

کراچی اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ترقیاتی منصوبے ایک طرف شہری بہتری کی امید ہیں تو دوسری طرف یہی منصوبے شہری زندگی کے لیے شدید مشکلات اور ماحولیاتی دباؤ کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں نے ٹریفک، صحت اور ماحول تینوں کو متاثر کیا ہے۔

شہر کی اہم ترین شاہراہ یونیورسٹی روڈ گذشتہ کئی سال سے شدید ٹوٹ پھوٹ، کھدائی اور مسلسل تعمیراتی کام کی وجہ سے مشکلات کا مرکز بنی ہے۔ یہ روڈ گلشنِ اقبال، نیپا، صفورا، ڈالمیا اور فیڈرل بی ایریا جیسے اہم علاقوں کو جوڑتی ہے جہاں روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں۔ جگہ جگہ رکاوٹوں، سست رفتاری اور متبادل راستوں کی کمی کے باعث شہریوں کو طویل ٹریفک جام کا سامنا رہتا ہے گرد و غبار میں اضافہ سانس اور آنکھوں کے امراض کا سبب بن رہا ہے۔

اسی طرح نارتھ ناظم آباد کے بلاک بی، سی ڈی، جی، ایچ، این میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ یہ علاقے ناظم آباد، لیاقت آباد اور حسن اسکوائر کے اطراف میں واقع ہیں، جہاں سڑکیں جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بار بار کھدائی کے باوجود مستقل مرمت نہ ہونے سے آمدورفت شدید متاثر ہے اور شہری روزانہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

گلشنِ اقبال، گلستانِ جوہر، فیڈرل بی ایریا میں بھی پانی، سیوریج اور سڑکوں کی مرمت کے منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔ کئی مقامات پر کھدائی اور تعمیراتی کام ادھورے چھوڑ دیے گئے ہیں، جس سے ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور بارشوں کے دوران صورتحال مزید خراب رہی۔

شہر کے مختلف حصوں میں نالوں کی صفائی اور تعمیر کے کام بھی جاری ہیں، جن میں بھاری مشینری اور ادھورے منصوبے ٹریفک کی روانی کو متاثر کر رہے ہیں۔ خاص طور پر لیاری ایکسپریس وے اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھی جا رہی ہے، جہاں کام کی سست رفتاری شہری مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق بیک وقت جاری یہ منصوبے اگرچہ شہر کی ترقی کے لیے ضروری ہیں، لیکن ان میں ہم آہنگی اور موثر منصوبہ بندی کی کمی سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔ بھاری مشینری کا مسلسل استعمال، کھدائی اور مٹی کے ڈھیر فضا میں گرد و غبار بڑھا رہے ہیں، جو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید شدید بنا رہے ہیں۔

ماحولیاتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہی صورتحال برقرار رہی تو درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن اور شہری سیلاب جیسے خطرناک اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ کراچی پہلے ہی شدید موسمی دباؤ کا شکار ہے، اور غیر منظم تعمیراتی سرگرمیاں اس بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔

شہر میں ترقی ضروری ہے مگر اس کا عمل منظم، تیز اور ماحول دوست ہونا چاہیے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ تمام منصوبوں کو مربوط حکمت عملی کے تحت مکمل کیا جائے تاکہ نہ صرف انفراسٹرکچر بہتر ہو بلکہ شہری زندگی بھی آسان بن سکے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے