آج سفارش ایک ایسی بیساکھی بن چکی ہے جس کے سہارے نااہلی دوڑتی ہے۔ اگر کینسر انسانی جسم کو خاموشی سے کھا جاتا ہے تو سفارش سسٹم میں شعوری طور پر اتارا گیا وہ زہر ہے جو پورے نظام کو مفلوج کر دیتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کینسر لاعلمی میں جان لیتا ہے، جبکہ سفارش مکمل علم، ذاتی مفاد اور اجتماعی سہولت کے ساتھ پورے معاشرے کو کھوکھلا کرتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ زہر ہے مگر پھر بھی اسے استعمال کرتے ہیں کیونکہ ہم لمحے بھر کے نفع کے عوض صدیوں کا خسارہ قبول کر لیتے ہیں۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں ریاست کمزور اور تعلق مضبوط ہے۔ تھانے سے دفتر تک، یونیورسٹی سے اسپتال تک، سرکاری ادارے ہوں یا نیم سرکاری۔۔۔ ہر جگہ ایک ہی سوال گونجتا ہے”سفارش ہے یا نہیں؟”
اگر سفارش ہو تو بند دروازے بھی کھل جاتے ہیں، رکی ہوئی فائلیں بھی چل پڑتی ہیں اور ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ صرف ایک فون کال پر مسئلہ حل ہو جانے والا یہ فارمولا کب تک ہمیں بلیک میل کرتا رہے گا؟ جس کے پاس تعلقات کی چھتری ہو، وہ ضابطے روندتا ہوا بھی بے خوف آگے بڑھ جاتا ہے اور جو بندہ کسی کو نہیں جانتا، جو ایک عام شہری ہے، جس کے پاس نہ ’سورس‘ ہے نہ ’فون کال‘۔۔۔۔ وہ بیچارہ کیا کرے؟ وہ اسی نظام میں پس کر رہ جاتا ہے جہاں اس کی فریاد کی باری کبھی آتی ہی نہیں۔
یہ محض انتظامی خرابی نہیں رہی، بلکہ ایک باقاعدہ سیاسی اور سماجی ہتھیار بن چکی ہے۔ سیاست دان اسے ووٹ بینک کے لیے استعمال کرتا ہے، بیوروکریسی اسے اختیار بڑھانے کا ذریعہ بناتی ہے اور عوام اسے اپنی مجبوری کہہ کر قبول کر لیتی ہے۔ یوں سفارش ایک "مقدس گٹھ جوڑ” کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔۔۔ جس میں طاقت، سیاست اور خاموش رضامندی تینوں شریک ہوتے ہیں۔ اس مثلث کے اندر میرٹ دم توڑ دیتا ہے اور انصاف بے آواز ہو جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی نااہلی سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں اور اس نااہلی کی جڑ میں سفارش کا زہر شامل ہے۔ جب قلم اہل کے ہاتھ سے نکل کر خوشامدی کے ہاتھ میں آ جائے، جب فیصلہ عقل کے بجائے تعلق پر ہو، جب ذمہ داری قابلیت کے بجائے رشتہ داری کو سونپی جائے۔۔۔ تو ریاست رفتہ رفتہ ایک تماشہ بن جاتی ہے۔ ایک ایسا اسٹیج جہاں سب کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں مگر اسکرپٹ کہیں اور سے لکھا جا رہا ہوتا ہے۔
سفارش کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ یہ محنت کو بے وقعت اور قابلیت کو مشکوک بنا دیتی ہے بالآخر باصلاحیت افراد کے سامنے تین ہی راستے بچتے ہیں۔۔۔ چپ سادھ لینا، وطن چھوڑ دینا یا اسی گندے نظام کا حصہ بن جانا جس کے خلاف وہ کل تک آواز اٹھاتے تھے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔
ہم پولیس، عدالت، اسپتال اور تعلیمی اداروں کو الزام دیتے ہیں مگر یہ ادارے خلا میں نہیں چلتے۔ ان میں بیٹھے لوگ ہم میں سے ہی نکلتے ہیں۔ وہی لوگ جو گھروں میں سفارش کو ’سمجھ داری‘، ’چالاکی‘ اور ’مجبوری‘ کہتے ہیں، دفاتر میں جا کر اسی کو باقاعدہ نظام بنا دیتے ہیں۔
ہم اجتماعی انصاف چاہتے ہیں، مگر ذاتی سہولت محفوظ رکھنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سسٹم بدلے۔۔۔ مگر صرف دوسروں کے لیے۔ اپنے کام کے لیے سفارش ہمیں اس لیے معیوب نہیں لگتی کہ ہم نے ناانصافی کو معمول اور انصاف کو مشکل سمجھ لیا ہے۔
کچھ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ یہ ہماری ثقافت ہے، برادری کا نظام ہے، تعلق نبھانا ہماری روایت ہے۔ مگر درحقیقت یہ دلیل اپنی بزدلی اور خودغرضی پر پردہ ڈالنے کا مہذب طریقہ ہے۔ حقیقی روایت انصاف کی حفاظت کرتی ہے، نہ کہ اسے کچل کر خاموش کر دے۔ اگر تعلق کی بنیاد پر حق چھینا جائے تو وہ روایت نہیں، کھلی ناانصافی ہے اور ناانصافی جب ریاستی سرپرستی حاصل کر لے تو انقلاب نہیں آتا، صرف زوال آتا ہے۔
اصلاح کا سب سے مشکل مرحلہ قانون بنانا نہیں، نیت بدلنا ہے۔ قوانین پہلے ہی موجود ہیں، آئین لکھا جا چکا ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سفارش کو اخلاقی جرم ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ہم نے اسے سسٹم کی مجبوری، زندگی کی ضرورت اور ذہانت کی علامت بنا دیا ہے۔
جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ سفارش دراصل ایک خاموش ظلم ہے۔۔۔ تب تک کوئی اصلاحی مہم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ شفاف ادارے، ڈیجیٹل سسٹمز، میرٹ بیسڈ سلیکشن، آن لائن پورٹلز۔۔۔ یہ سب ضروری ہیں مگر ناکافی۔ کیونکہ اگر اخلاق نہ بدلا تو ڈیجیٹل سسٹم میں بھی سفارش راستہ نکال لے گی، آن لائن فارم میں بھی تعلق داخل ہو جائے گا اور خودکار نظام میں بھی کسی نہ کسی ’سورس‘ کی گنجائش پیدا ہو جائے گی۔
اصل انقلاب وہ ہوگا جب شہری یہ کہنے کا حوصلہ پیدا کرے گا کہ ’میرا کام میرٹ پر کریں، کسی اشارے کے بغیر‘۔ جب تک ہم سفارشی پرچی، سفارشی فون کال اور سفارشی کلچر کو اجتماعی طور پر رد نہیں کریں گے، تب تک میرٹ محض کتابی لفظ اور انصاف محض تقریری جملہ بنا رہے گا۔ سوال یہ نہیں کہ سفارش ختم ہو سکتی ہے یا نہیں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے بغیر جینے کی ہمت رکھتے ہیں؟


