جب بھی پاکستان کی سیاست پر گفتگو ہوتی ہے تو عموماً ”ڈیپ سٹیٹ“ کا ذکر سننے کو ملتا ہے۔ یہ اصطلاح ایک ایسے نظام کا تصور پیدا کرتی ہے جیسے کوئی پردے کے پیچھے بیٹھ کر سب کچھ کنٹرول کرتا ہے مگر پاکستان کی سیاسی حقیقت اتنی مبہم نہیں۔ پاکستان کو سمجھنے کے لیے ڈیپ سٹیٹ کے بجائے پریٹورین اسٹیٹ کا تصور زیادہ واضح ہو گا، جہاں فوج ایک مستقل، منظم اور طاقتور ادارے کے طور پر سیاست اور ریاستی فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم ساختی مسئلے کی علامت ہے کہ جب بھی کسی حکومت نے نسبتاً خودمختار ہونے کی کوشش کی، یا پالیسی سازی میں سول بالادستی پر زور دیا، یا اسٹیبلشمنٹ کو ان سے کوئی اچھا ملا، تو اس حکومت کا سیاسی سفر مختصر ہو گیا۔ کبھی عدم اعتماد، کبھی عدالتی فیصلے، اور کبھی سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے ان (منتخب قیادتوں ) کو گھر بھیج دیا گیا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصل طاقت کا مرکز منتخب پارلیمنٹ نہیں بلکہ کہیں اور موجود رہا ہے۔
ابتدائی برسوں میں سیاسی عدم استحکام، کمزور پارلیمنٹ اور ناپختہ جماعتی سیاست نے فوج کو مضبوط ہونے کا موقع دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ فوج نے خود کو صرف دفاعی ادارہ نہیں بلکہ ریاست کے محافظ کے طور پر پیش کیا اور بات یہاں بھی ختم نہیں ہوئی تو اپنے کاروبار بھی شروع کیے۔ یہی سوچ دراصل پریٹورین ازم کی بنیاد بنتی ہے، جہاں فوج یہ سمجھتی ہے کہ اگر سول نظام ناکام ہو جائے تو مداخلت اس کا فرض ہے۔
آج بھی یہ اثر و رسوخ واضح ہے۔ دفاع، خارجہ پالیسی، انڈیا، ایران، امریکہ، سعودی عرب اور افغانستان سے متعلق فیصلے، اور قومی سلامتی جیسے معاملات میں منتخب حکومتوں کا دائرہ محدود رہتا ہے۔ پاکستان کا دفاعی بجٹ مسلسل ریاست کے بڑے اخراجات میں شامل رہا ہے، جبکہ تعلیم، صحت اور سماجی بہبود جیسے شعبے اکثر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ صرف مالی ترجیحات کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جس میں ریاست کی شناخت کو مستقل طور پر سکیورٹی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اور یہ تاثر دیتے رہے کہ پاکستان ایک سیکورٹی اسٹیٹ ہے۔
اس کے نتائج ہمیں واضح دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں جیسے کہ پارلیمنٹ ایک طاقتور ادارہ نہیں بن پایا، سیاسی جماعتیں نظریاتی سیاست کے بجائے مفاہمت اور بقا کی سیاست کرتی ہیں، اور عوام کا اعتماد نظام سے اٹھتا چلا گیا اور اس کے باوجود، اس نظام کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایک غیر مستحکم خطے میں فوجی بالادستی نے ریاست کو ٹوٹنے سے بچایا۔ یہ دلیل مکمل طور پر رد نہیں کی جا سکتی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا استحکام کی قیمت ہمیشہ جمہوریت کی قربانی اور عوام کی تذلیل ہونی چاہیے؟
اگر پاکستان کو واقعی ایک مضبوط جمہوری ریاست بننا ہے تو اسے آہستہ آہستہ اس پریٹورین سوچ سے نکلنا ہو گا۔ اس کا مطلب ہرگز فوج سے تصادم نہیں بلکہ اداروں کے درمیان واضح آئینی حدود کا تعین ہے جس کو سب نے سمجھنا ہو گا۔ پارلیمنٹ کو حقیقی قانون سازی کی طاقت لینا ہو گی، عدلیہ کو آزاد بننا ہو گا، اور قومی پالیسیوں پر منتخب نمائندوں کی بالادستی قائم کرنا ہو گی۔ سب سے بڑھ کر، سیاست دانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اقتدار کا راستہ عوام کے ذریعے اختیار کریں گے یا طاقتور اداروں کی حمایت کے ذریعے۔
دنیا میں ایسے ممالک موجود ہیں جو کبھی پریٹورین ریاستیں تھے جہاں طویل جدوجہد کے بعد سول بالادستی کسی حد تک مضبوط ہوئی۔ یہ عمل آسان نہیں تھا مگر انہوں نے کر دکھایا۔ پاکستان کے لیے بھی یہ راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔


