تاریخ کا پہیہ جب گھومتا ہے تو اپنے ساتھ دہائیوں پرانے نظریات اور سیاسی بت بھی پاش پاش کر دیتا ہے۔ ایک طویل عرصہ ایسا گزرا جب مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں سے صرف بارود کی بو آتی تھی۔ وہ دور، جسے ہم ’فرقہ ورانہ کشمکش‘ اور ’پراکسی جنگوں‘ کا عہد کہہ سکتے ہیں، اب تیزی سے اپنی بساط لپیٹ رہا ہے۔ آج کا نقشہ بدل چکا ہے ؛ وہ خطہ جو کبھی دفاعی بجٹ اور اسلحے کی خرید و فروخت کے لیے شہرت رکھتا تھا، اب وہاں کی ہواؤں میں ’سرمایہ کاری‘ اور ’ڈیجیٹل انقلاب‘ کے تذکرے عام ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا سب سے بڑا ثبوت ریاستوں کے درمیان ہونے والے وہ معاہدے ہیں جن کا تصور بھی چند سال قبل ناممکن تھا۔ بیجنگ کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی بحالی نے یہ پیغام دیا کہ اب ’مستقل دشمنی‘ کا بوجھ اٹھانا کسی کے مفاد میں نہیں رہا۔ یہ محض ایک تزویراتی ضرورت نہیں، بلکہ ایک نیا ’عمرانی معاہدہ‘ ہے جس کے تحت ریاستیں اب اپنے شہریوں کو جنگی ترانوں کے بجائے خوشحالی کی نوید سنانا چاہتی ہیں۔
سعودی عرب کا ’ویژن 2030‘ اس فکری انقلاب کا مرکز و محور ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سعودی عرب اپنی معیشت کا انحصار تیل سے ختم کر کے غیر پٹرولیم آمدنی کو 600 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے پر عزم ہے ’نیوم‘ (NEOM) جیسا میگا سٹی پروجیکٹ، جو محض ایک تعمیراتی شاہکار نہیں بلکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور گرین انرجی کا عالمی گڑھ بننے جا رہا ہے، اس بات کا عکاس ہے کہ اب طاقت کا مرکز میدانِ جنگ نہیں بلکہ لیبارٹریز اور اسٹاک ایکسچینج ہیں۔
مشرق وسطیٰ اب عالمی طاقتوں کے لیے صرف تیل کی سپلائی لائن نہیں رہا بلکہ ایک گلوبل کنیکٹیوٹی حب بن چکا ہے۔ انڈیا۔ مڈل ایسٹ۔ یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) کا قیام ہو یا چین کا ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو‘ (BRI) مشرقِ وسطیٰ ان دونوں بڑے عالمی منصوبوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ ایک ایسی شطرنج ہے جہاں اب مہرے مذہب یا فرقے کے نام پر نہیں، بلکہ تجارتی فوائد کے نام پر چلے جا رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ تجارتی حجم کا ایک سال کے اندر اربوں ڈالرز تک پہنچ جانا اس ’خالص مادی سوچ‘ کی عکاسی کرتا ہے جس میں جذباتی وابستگیوں کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔
کیا یہ مادی ترقی ان دیرینہ سیاسی زخموں کا مرہم بن پائے گی جو فلسطین سے یمن تک اور شام و عراق تک پھیلے ہوئے ہیں؟ غزہ کے حالیہ واقعات نے ایک ہولناک سچائی کو بے نقاب کیا ہے کہ جب تک بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، ’اقتصادی امن‘ (Economic Peace) کا تصور ریت کی دیوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف ریاستیں ’ابراہیمی معاہدات‘ کے ذریعے نئے اتحاد بناتی ہیں، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے عام آدمی کا دل اب بھی انصاف کے لیے تڑپ رہا ہے۔ کیا یہ معاشی خوشحالی صرف اشرافیہ کے لیے ہے یا اس کا ثمر عام فلسطینی اور یمنی تک بھی پہنچے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو آج کے ’نیو لبرل‘ مشرقِ وسطیٰ کو تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک پیچیدہ تزویراتی چیلنج بن کر ابھری ہے۔ ہماری معیشت کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پر منحصر ہے، لیکن اب وہاں کی لیبر مارکیٹ بدل رہی ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای اب ’غیر ہنر مند‘ (Unskilled) افراد کے بجائے ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے تعلیمی نظام اور افرادی قوت کو اس بدلتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے تقاضوں کے مطابق نہ ڈھالا، تو ہم اس اہم منڈی سے بے دخل ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، خلیجی ممالک اب پاکستان کو محض ایک ’دفاعی پارٹنر‘ کے طور پر نہیں دیکھتے۔ وہ اب یہاں کے زراعت، معدنیات (ریکوڈک) اور انفراسٹرکچر میں ’براہ راست سرمایہ کاری‘ (FDI) چاہتے ہیں۔ مگر یاد رہے، عالمی سرمایہ کار وہاں جاتا ہے جہاں سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی ہو۔ ہم اس وقت تک مشرقِ وسطیٰ کے اس نئے معاشی بلاک کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے جب تک ہماری اپنی داخلی پالیسیاں واضح اور مستحکم نہ ہوں۔
مشرقِ وسطیٰ نے ایک صدی کے بعد اپنی منزل کی سمت تبدیل کر لی ہے۔ وہ بارود کی چنگاریوں سے نکل کر خوشحالی کی شاہراہوں کی طرف گامزن ہے۔ یہ تبدیلی جہاں مواقع لے کر آئی ہے، وہاں اپنے ساتھ کئی اخلاقی اور سیاسی سوالات بھی لائی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو وقت کے بدلے ہوئے مزاج کو پہچان کر خود کو بدلتی ہیں۔ پاکستان کو اب اپنی خارجہ اور معاشی پالیسی میں ’جذباتی نعروں‘ کے بجائے ’سرد حقیقت پسندی‘ لانی ہوگی۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، اور جو قومیں ٹھہر جاتی ہیں، وہ صرف ماضی کی قصہ گوئی ہی کر سکتی ہیں۔


