بینظیر شہید کی قربانی اور ’پاکستان کھپے‘ کا دلوں کو چھو جانے والا نعرہ

شیئر کریں

27 دسمبر 2007 پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جسے نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی بلکہ پورا ملک کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ وہ شام جب بے نظیر بھٹو شہید، غریبوں کی آواز، مظلوموں کا سہارا، چاروں صوبوں کو جوڑنے والی زنجیر، اس قوم کی خاطر اپنی جان قربان کر گئیں۔ وہ خاتون جسے آمریت کے اندھیروں میں جمہوریت کی واحد امید سمجھا جاتا تھا، اچانک ہم سے جدا ہو گئی۔ اس سانحے نے صرف ایک لیڈر کو نہیں چھینا بلکہ قوم کو شدید صدمے، غم و غصے اور غیر یقینی کی کیفیت میں دھکیل دیا۔


اس وقت پورے ملک میں اضطراب کی کیفیت تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن، جیالے، ہمدرد اور عام عوام یہ سوچنے پر مجبور تھے کہ اب کیا ہو گا؟ کیا یہ پارٹی، جو ذوالفقار علی بھٹو کے نظریے، قربانی اور عوامی جدوجہد کی علامت تھی، اس سانحے کے بعد سنبھل سکے گی؟ کیا ملک کسی بڑے انتشار کا شکار ہو جائے گا؟ اندرونی و بیرونی دشمن اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان تو نہیں پہنچائیں گے؟
ایسے نازک اور فیصلہ کن وقت میں آصف علی زرداری کا “پاکستان کھپے” کا نعرہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ تاریخ ساز اعلان ثابت ہوا۔ یہ نعرہ دراصل پاکستان کے استحکام، سالمیت اور اتحاد کی ضمانت بنا۔ اگر اس وقت جذبات کی آگ میں کوئی اور راستہ اختیار کیا جاتا تو خدانخواستہ ملک خانہ جنگی، صوبائی تقسیم اور شدید بدامنی کی طرف جا سکتا تھا۔ “پاکستان کھپے” نے غم و غصے میں جلتی ہوئی قوم کو یہ پیغام دیا کہ اختلافات، دکھ اور زخم اپنی جگہ، مگر پاکستان سب سے پہلے ہے۔


پاکستان پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جس کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے غریب، محنت کش اور پسے ہوئے طبقے کے لیے رکھی۔ “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ محض انتخابی وعدہ نہیں تھا بلکہ ایک سماجی معاہدہ تھا، جس نے پہلی بار غریب آدمی کو یہ احساس دلایا کہ اقتدار کے ایوانوں میں بھی اس کی آواز سنی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کم وقت میں ملک کی سب سے مقبول عوامی جماعت بن گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو کا دیا ہوا 1973 کا آئین آج بھی پاکستان کے وفاق، جمہوریت اور عوامی حقوق کی بنیاد ہے۔ اسی آئین نے صوبوں کو حقوق دیے، پارلیمان کو مضبوط کیا اور عوام کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ اسی طرح پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد بھی ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی، جس کی بدولت آج پاکستان دنیا میں ایک خودمختار اور دفاعی لحاظ سے مضبوط ملک کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہ وہ کارنامے ہیں جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔
بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے آمریت کے خلاف جدوجہد کی، جیلیں کاٹیں، جلاوطنی برداشت کی اور آخرکار جان کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اقتدار نہیں بلکہ قربانی کی سیاست کرتی ہے۔ ان کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو کمزور سمجھا گیا، مگر تاریخ نے بارہا ثابت کیا کہ یہ جماعت مشکل حالات میں مزید مضبوط ہو کر ابھرتی ہے۔
آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اپنے جیالوں کی قدر و قیمت اسی طرح کرتی ہے جیسے ماضی میں کرتی رہی ہے۔ حالات کے ساتھ کامیابیاں اور کمزوریاں آتی رہتی ہیں، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ پیپلز پارٹی آج بھی صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں ایک مضبوط، منظم اور نظریاتی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ پارلیمانی سیاست ہو یا وفاق کی بقا، آئین کی حفاظت ہو یا جمہوریت کا تسلسل، پیپلز پارٹی نے ہر دور میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان پیپلز پارٹی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک سوچ اور ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ پارٹی ہے جس نے شہادتیں دیں مگر ملک کو ٹوٹنے نہیں دیا، جس نے اقتدار میں رہ کر بھی آئین کو مقدم رکھا اور اپوزیشن میں رہ کر بھی جمہوریت کا علم بلند رکھا۔ آج اگر پاکستان ایک وفاق کی صورت میں قائم ہے تو اس میں پیپلز پارٹی کی قربانیوں اور فیصلوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
27 دسمبر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قیادت قربانی مانگتی ہے، سیاست حوصلہ چاہتی ہے اور قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ بروقت درست فیصلوں سے بچتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو شہید کا خون، ذوالفقار علی بھٹو کا نظریہ اور “پاکستان کھپے” کا نعرہ ہمیشہ اس قوم کو یہ سبق دیتے رہیں گے کہ اختلافات کے باوجود پاکستان ہم سب سے بڑھ کر ہے۔

تحریر: موسیٰ خان سواتی، بالاکوٹ


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے