بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے شہر پونے میں ہونے والے میونسپل انتخابات سے قبل انتخابی ماحول غیر معمولی حد تک گرم ہو چکا ہے اور وہاں سے انوکھی اور دلچسپ خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
خبر ساں اداروں کے مطابق انتخابات میں ابھی چند ہفتے باقی ہیں، تاہم امیدواروں کے درمیان ووٹ حاصل کرنے کی دوڑ اس قدر تیز ہو گئی ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق اور جمہوری اقدار پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف امیدوار ووٹروں کو اپنی حمایت پر آمادہ کرنے کے لیے مہنگے تحائف، مراعات اور غیر معمولی وعدے کر رہے ہیں، جنہوں نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
پونے کے مختلف وارڈز میں انتخابی امیدوار ووٹ کے بدلے غیر ملکی دوروں، قیمتی گاڑیوں، سونے کے زیورات اور دیگر مہنگی اشیا کی پیشکش کر رہے ہیں۔ بعض امیدواروں نے گھریلو خواتین کو خصوصی طور پر راغب کرنے کے لیے مہنگی ساڑھیاں تقسیم کی ہیں جب کہ کچھ علاقوں میں سلائی مشینیں اور سائیکلیں بھی ووٹروں میں بانٹی جا چکی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں اور ووٹ کو ایک قیمتی جمہوری حق کے بجائے سودے بازی کی شے بنا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک امیدوار نے تو حد ہی کر دی، جس نے ’لکی ڈرا‘ کے ذریعے منتخب ووٹروں کو زمین دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس امیدوار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ووٹ ڈالنے والے افراد میں قرعہ اندازی کے ذریعے 11 خوش نصیب ووٹروں کو 1 ہزار 100 مربع فٹ اراضی دی جائے گی۔
حیران کن طور پر اس اعلان کے بعد زمین کے لیے رجسٹریشن کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، جسے ماہرین انتخابی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
اسی طرح پونے کے علاقے وِمان نگر میں ایک امیدوار نے شادی شدہ جوڑوں کے لیے ووٹ کے بدلے تھائی لینڈ کے 5 روزہ لگژری ٹور کا اعلان کیا ہے۔ اس پیشکش نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے اور صارفین کی جانب سے اسے جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ دیگر وارڈز میں بھی ووٹروں کو لکی ڈراز کے ذریعے مہنگی کاریں، موٹر سائیکلیں اور سونے کے زیورات دینے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران کھیلوں کے شوقین ووٹروں کو متوجہ کرنے کے لیے بھی منفرد طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بعض امیدواروں نے کرکٹ لیگز کا انعقاد کروایا ہے، جن میں ایک لاکھ روپے تک کے نقد انعامات رکھے گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوان ووٹروں کو سیاسی شعور کے بجائے تفریح اور انعامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔




