پاکستان پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی کشیدگی، ادارہ جاتی بداعتمادی اور سماجی تقسیم ایک دلدل کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں، انتخابی عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں، اداروں پر الزامات لگ رہے ہیں اور عوام کا اعتماد مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست کے ستون ایک دوسرے پر شک کرنے لگیں تو اس کا خمیازہ ہمیشہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ مسائل موجود ہیں یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ان مسائل سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
دنیا کے کئی ممالک نے داخلی بحرانوں سے نکلنے کے لیے مختلف راستے اپنائے مگر جنوبی افریقہ کا ماڈل اس حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نسل پرستانہ نظام کے خاتمے کے بعد وہاں بدلے اور انتقام کے بجائے سچائی اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا گیا۔ نیلسن منڈیلا کی قیادت میں قائم ہونے والے ’ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن‘ کا مقصد ماضی کے زخموں پر پردہ ڈالنا نہیں تھا بلکہ انہیں سامنے لا کر قوم کے اجتماعی ضمیر کا علاج کرنا تھا۔ مظالم کرنے والوں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ سچ بولیں، اعتراف کریں اور قوم سے معافی مانگیں جبکہ متاثرین کو پہلی بار یہ حق ملا کہ ان کی آواز سنی جائے۔
پاکستان کے حالات اگرچہ جنوبی افریقہ سے مختلف ہیں مگر بحران کی نوعیت میں مماثلت ضرور پائی جاتی ہے۔ یہاں بھی دہائیوں سے سیاسی مداخلت، آئین شکنی، انتخابی انجینئرنگ، میڈیا پر دباؤ، سیاسی انتقام اور جبری خاموشیوں کی شکایات موجود ہیں۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی فریق خود کو مظلوم اور دوسرے کو قصوروار ٹھہراتا رہا ہے مگر اجتماعی سطح پر کبھی یہ طے نہ ہو سکا کہ غلطیاں کہاں ہوئیں اور ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
ایسے میں ’سچائی اور مصالحتی کمیشن‘ کا تصور پاکستان کے لیے محض کوئی غیر ملکی ایجنڈا نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔ تاہم یہ کمیشن محض کاغذی کارروائی یا وقتی سیاسی دباؤ کم کرنے کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے اگر اس کی تشکیل کسی ایک فریق کی مرضی یا مخصوص بیانیے کے تحت ہوئی تو یہ پہلے دن ہی متنازع ہو جائے گا۔ اس کے لیے پارلیمانی اتفاقِ رائے، مکمل غیر جانبداری اور آئینی تحفظ ناگزیر ہے۔
جنوبی افریقہ کے تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ سچائی کمیشن اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب طاقتور اور کمزور سب کو ایک ہی معیار پر پرکھا جائے۔ پاکستان میں بھی اگر واقعی فضا صاف کرنی ہے تو سیاست دانوں، اداروں، عدلیہ اور میڈیا سب کو اپنے اپنے کردار کا بے لاگ جائزہ لینا ہو گا۔ سچ صرف کمزور کے لیے اور مفاہمت صرف طاقتور کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سچائی تک پہنچنے کا راستہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ پرانے زخم ہرے ہوتے ہیں، تلخ حقائق سامنے آتے ہیں اور کئی چہرے بے نقاب ہوتے ہیں مگر تاریخ بتاتی ہے کہ دبایا گیا سچ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ نے یہی فیصلہ کیا کہ سچ کو دفنانے کے بجائے اس کا سامنا کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں نفرت اور انتقام کا بوجھ اٹھانے سے بچ سکیں۔
پاکستان آج جس نازک دور سے گزر رہا ہے، وہاں اگر کوئی راستہ دیرپا استحکام کی طرف جاتا ہے تو وہ مکالمے، سچائی اور مفاہمت کا راستہ ہے۔ سچائی اور مصالحتی کمیشن کوئی فوری علاج تو نہیں مگر یہ آنے والے برسوں کے لیے ایک واضح ’روڈ میپ‘ ضرور دے سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم میں سچ بولنے کا حوصلہ اور سچ سننے کی برداشت پیدا ہو جائے اگر یہ امتحان ہم نے پاس کر لیا تو شاید یہ دلدل بھی ایک دن راستہ بن جائے۔


