2005 کے زلزلے کے بعد آج کا بالاکوٹ
8 اکتوبر 2005 کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا المیہ دن تھا جس نے شمالی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ بالاکوٹ، جو ناران، کاغان، بابوسر ٹاپ اور سیاحت کا دروازہ کہلاتا ہے، چند لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، خاندان اجڑ گئے، اور ایک پورا شہر ماتم کدہ بن گیا۔ اس قیامت خیز زلزلے کے بعد حکومتِ پاکستان، عالمی اداروں اور این جی اوز کی جانب سے بالاکوٹ کو دوبارہ بسانے کے بڑے بڑے وعدے کیے گئے، مگر آج تقریباً بیس برس گزر جانے کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا بالاکوٹ واقعی بحال ہو سکا؟

زلزلے کے بعد سے اب تک کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں۔ فوجی حکومت سے لے کر جمہوری ادوار تک، صوبائی اور وفاقی سطح پر مختلف جماعتوں نے اقتدار سنبھالا۔ ہر آنے والی حکومت نے بالاکوٹ کو ترجیح دینے کے دعوے کیے، فنڈز کے اعلانات ہوئے، اجلاس منعقد کیے گئے، مگر نتیجہ صفر ہی رہا۔ آج بھی بالاکوٹ ایک نامکمل وعدہ بن کر کھڑا ہے۔
زلزلے کے فوراً بعد نیو بالاکوٹ سٹی کا منصوبہ متعارف کرایا گیا۔ متاثرین کو یقین دلایا گیا کہ انہیں ایک محفوظ، جدید اور بہتر شہر دیا جائے گا۔ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ پرانے بالاکوٹ میں تعمیرات نہ کریں، کیونکہ یہ علاقہ خطرناک ہے۔ عوام نے ریاست پر بھروسہ کیا، مگر نیو بالاکوٹ سٹی آج بھی مکمل نہ ہو سکا۔ بیشتر متاثرین آج بھی پرانے، غیر محفوظ بالاکوٹ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
زلزلے کے بعد آنے والی ملکی و غیر ملکی امداد اگر واقعی شفاف طریقے سے عوام تک پہنچتی تو آج بالاکوٹ کا نقشہ مختلف ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے امداد کا بڑا حصہ یا تو کرپشن کی نذر ہو گیا یا ایسے منصوبوں میں ضائع ہوا جن کا عوام کو کوئی فائدہ نہ ملا۔ گھروں کی تعمیر کے لیے دی جانے والی رقم ناکافی تھی، معیار پر سمجھوتہ کیا گیا، اور نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔
2005 سے پہلے جو لوگ ویل سیٹل تھے، وہ آہستہ آہستہ غریب سے غریب تر ہوتے گئے، جبکہ جو پہلے ہی غریب تھے، وہ مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیے گئے۔ روزگار کے مواقع ختم ہو گئے، کاروبار تباہ ہو گئے، اور نئی نسل کے لیے آگے بڑھنے کے راستے مسدود ہو گئے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بالاکوٹ جیسے بڑے ٹورزم پوائنٹ کو بھی حکمران اور افسران سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہاں سیاحت کی بے پناہ گنجائش موجود ہے، مگر بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ شہر میں کوئی باقاعدہ ٹیکسی اسٹینڈ موجود نہیں، نہ ہی سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لیے پارکنگ کی مناسب جگہ بنائی گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ٹریفک کا بے ہنگم نظام روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے۔
ریڑھی بان، جو غریب آدمی کی آخری امید ہوتے ہیں، انہیں بھی چین سے کاروبار کرنے نہیں دیا جاتا۔ آئے روز مختلف افسران کارروائیوں کے نام پر ان کا روزگار چھین لیتے ہیں، حالانکہ متبادل جگہ یا کوئی منظم پلان موجود ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومت نے کاروبار کے لیے کوئی مارکیٹ، کوئی زون، کوئی متبادل جگہ نہیں دی تو غریب کہاں جائے؟
تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر آج بھی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ کنگ عبداللہ ہسپتال ہو یا دیگر سرکاری ادارے، مسائل کا انبار لگا ہوا ہے۔ عوام بار بار آواز اٹھاتے ہیں، مگر ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ افسران آتے ہیں، فائلوں پر دستخط کرتے ہیں، تصاویر بنواتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، جبکہ عوام وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔
سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے بالاکوٹ کے عوام کے دکھوں کو دل سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں صرف اعلانات ہوئے، عملی اقدامات نہ ہو سکے۔ اگر نیت ہوتی تو آج بالاکوٹ ایک مثالی سیاحتی شہر بن چکا ہوتا۔
2005 کا زلزلہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھا، یہ حکومتی نظام، منصوبہ بندی اور ترجیحات کا امتحان بھی تھا—اور بدقسمتی سے یہ امتحان آج تک پاس نہیں ہو سکا۔ بالاکوٹ آج بھی اپنے وعدوں کی تکمیل کا منتظر ہے۔ یہاں کے لوگ آج بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ہم پاکستانی نہیں؟ کیا ہماری قربانیاں رائیگاں تھیں؟
بالاکوٹ کو خیرات نہیں، حق چاہیے۔
وعدے نہیں، عمل چاہیے۔
تصویری بیانات نہیں، زمینی حل چاہیے۔
اگر اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو تاریخ معاف نہیں کرے گی، اور بالاکوٹ کا زخم آنے والی نسلوں تک رسنے کا سبب بنے گا۔

موسیٰ خان سواتی
کالم نگار، بالاکوٹ



