پاکستان آج اس نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی سب سے بڑی قوت، نوجوان سہما ہوا محسوس کرتے ہیں۔ یہ خوف صرف ذاتی یا انفرادی سطح کا نہیں، بلکہ ایک وسیع حکومتی، قانونی، عدالتی، معاشرتی اور اقتصادی نظام کی ناکامی کا مظہر ہے۔ آج پاکستان کا نوجوان اپنے مستقبل پر غیر یقینی، روزگار کی کمی، سخت قوانین، غیر شفاف فیصلے اور تعلیم و روزگار کے محدود مواقع کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔ غیر رسمی طور پر ائرپورٹس پر نوجوانوں کے لیے ”اضافی جانچ“ اور ”خارجہ کلیئرنس فیس“ جیسا غیر تحریری بوجھ اُن پر مزید بے اعتمادی پیدا کر رہا ہے۔ یہ ہجرت ریاست پر عدم اعتماد کا سب سے بڑا اظہار ہے۔
کبھی شاید فیصلہ سازوں نے اپنی بقاء کے لیے سو چا ہو کہ بحرانِ اعتماد کیوں ہے؟ یا ریاست کیوں غیر معتبر ہو گئی؟شاید کچھ جواب ملے ہوں مگر وہ طاقت ہی کیا جو سچائی تسلیم کر لے۔ معاشرتی نظم قائم رکھنے کے لیے سب سے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ عوام ریاستی اداروں کو جائز، منصفانہ اور معتبر سمجھیں۔ جب لوگ محسوس کریں کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں، طاقتور کے لیے نرمی، کمزور کے لیے سختی، انصاف تاخیر کا شکار، قانون کا اطلاق یکساں نہیں اور ریاستی رویہ تحکم پر مبنی ہو تو سماجی اطاعت ٹوٹ جاتی ہے۔
ہمیں اس سچائی سے واقفیت حاصل کرنا ہو گی کہ شہری کیوں قانون نہیں مانتے؟ یہ سوال محض ٹریفک سگنل یا ہیلمٹ تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ ریاست شہری اعتماد کا ٹوٹ جانا ہے۔ جب شہری خصوصاً نوجوان دیکھتے ہیں کہ اُن کی رائے انتخابات میں اثرانداز نہیں ہوتی، اُن کی تفریح کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے، نصاب اُن کی شمولیت کے بغیر مسلط کر دیا جاتا ہے، اختلافِ رائے پر پیکا اور غداری جیسے مقدمات تیار رہتے ہیں، عدالتی فیصلے طاقت کے آگے بے بس دکھائی دیتے ہیں، ادارے خود قوانین کی پاسداری نہیں کرتے، ائرپورٹس، عدالتوں اور یونیورسٹیوں میں اُن کے ساتھ غیر ضروری سختی روا رکھی جاتی ہے تو نوجوان قانون کو اخلاقی نہیں، مسلط شدہ سمجھتے ہیں۔ یہی وہ فضا ہے جو انصاف کے نظام کو تباہ کرتی ہے جس کے بغیر دنیا میں کہیں بھی قانون کی حقیقی پاسداری قائم نہیں ہوتی۔
مزید اس میں گستاخی کے مقدمات، پیکا، این سی سی اے اور حکومتی خواہشات کہ سب اچھا کی خبر دو۔ مگر کیا سب حقائق بدل سکتے ہیں؟ کیا اس حقیقت کو جھٹلا سکتے ہیں کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق یہ حقیقت بیانی طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ گستاخی کے زیادہ تر مقدمات میں الزام کی زد میں آنے والے افراد نوجوان مرد ہوتے ہیں۔
عام انتخابات میں سب سے زیادہ تعداد نوجوان ووٹرز کی تھی، مگر نتائج اُن کی توقعات سے متضاد آئے۔ آج پنجاب اور سندھ کے نئے ٹریفک قانون کا اصل بوجھ بھی نوجوانوں پر پڑ رہا ہے۔ بغیر اس بنیادی سوال کے کہ آخر وہ ہیلمٹ کیوں نہیں پہنتے، سیٹ بیلٹ کیوں نہیں لگاتے یا ٹریفک سگنل کیوں توڑتے ہیں۔ قانون صرف خوف سے نہیں مانا جاتا۔ سماجی رویے نا انصافی، طاقت کے استعمال، قانون کے دوہرے معیار اور عدالتی فیصلوں کی پامالی سے بنتے ہیں، اور یہی رویے مقتدر حلقوں سے عوام تک سرایت کر چکے ہیں۔
فیصلہ ساز قوتیں بخوبی واقف ہیں۔ پھر یاد دہانی کروانے کی جسارت کرتے ہوئے عرض ہے کہ، مائی لارڈ! مالی بدعنوانی کو سزا سے ختم کیا جا سکتا ہے، مگر اخلاقی بدعنوانی اُس وقت ختم ہوتی ہے جب معاشرے میں سچائی، شفافیت، اصولی قیادت اور یکساں انصاف موجود ہو۔ ہم ان تمام شعبوں میں مسلسل زوال کا شکار ہیں، جبکہ پالیسی سازوں کی ترجیحات محض معاشی ”اصلاحات“ پر مرکوز ہو چکی ہیں۔
ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ معاشرتی رویوں کا منبع کہاں ہے؟ ہماری اجتماعی سوچ کا بڑا حصہ ”طاقت کے استعمال“ سے جڑا ہے۔ طاقتور قانون توڑے تو یہ ”اختیار“ کہلاتا ہے، کمزور کرے تو ”جرم“ ۔ ریاست کا اپنا طرزِ عمل یہی پیغام دیتا ہے کہ
”طاقتور ہونا، قانون سے بالاتر ہونا ہے۔“


