بالاکوٹ: کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ: غریب مریضوں کی آہ، خاموش حکام اور حق مانگنے پر گولیوں کا جواب!
مانسہرہ کے کنگ عبداللہ ہسپتال کی صورتحال دن بدن انتہائی تشویشناک اور نازک ہوتی جا رہی ہے، جہاں مریضوں کو آئے دن شدید مشکلات اور بدانتظامی کا سامنا ہے۔ ہسپتال میں علاج کے لیے آنے والے غریب اور بے بس شہری دربدر ہونے پر مجبور ہیں جبکہ متعلقہ حکام کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق خادم عبدالوحید، چیئرمین سٹی ون مانسہرہ نے ایک غریب مریض کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کا جائز حق دلانے کی کوشش کی اور ہسپتال انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف آواز بلند کی۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ بارہا اعلیٰ حکام تک آواز پہنچانے کے باوجود ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔

اتنی بڑی آبادی کے واحد بڑے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹروں اور عملے کا یہ رویہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ عوامی نمائندے کے مطابق مریضوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، ڈاکٹرز کی عدم دستیابی اور بدسلوکی معمول بنتی جا رہی ہے۔

مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ حق کی آواز بلند کرنے پر چیئرمین سٹی ون خادم عبدالوحید کے گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کی باقاعدہ درخواست متعلقہ تھانے میں دائر کر دی گئی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف عوامی نمائندوں بلکہ عام شہریوں کے تحفظ پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کنگ عبداللہ ہسپتال کی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، غریب مریضوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور چیئرمین سٹی ون پر فائرنگ میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ اب خاموشی مزید ظلم کے مترادف ہے۔

رپورٹ موسیٰ خان




