چہروں کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوتا، ملک کو نظام کی تبدیلی درکار ہے

شیئر کریں

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بار بار خود کو دہراتی ہے: یہاں چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر سیاسی ڈھانچہ، طاقت کے مراکز اور اُن کے درمیان کشمکش کبھی نہیں بدلتی۔ برسوں سے سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں جو تناؤ موجود رہا ہے، وہ آج بھی اسی شدت کے ساتھ برقرار ہے۔

آج ملک میں ایک بڑا سیاسی رہنما جیل میں ہے اور کھلے عام آرمی چیف کا نام لے کر تنقید کر رہا ہے، جبکہ حکومت میں بیٹھے افراد انہی کی تعریفوں کے پل باندھنے میں مصروف ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ہی سال قبل حالات بالکل ایسے تھے۔ اُس وقت نواز شریف جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام لے کر سخت بیانات دیتے تھے، جبکہ حکومتی وزراء انہی فوجی قیادت کے دفاع میں پیش پیش رہتے تھے۔ سیاسی مناظر بدلتے رہے، مگر کردار وہی رہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ آج عمران خان جیل میں ہیں جبکہ ماضی میں نواز شریف جیل جاتے ہی بیماری کے نام پر بیرونِ ملک روانہ ہو جاتے تھے۔ یہ تضاد نہ صرف سیاسی شخصیات کے طرزِ عمل کو ظاہر کرتا ہے بلکہ نظام کی کمزوری اور طاقت کے توازن کی حقیقت بھی بیان کرتا ہے۔

پاکستان کی سیاسی جڑوں میں بحران کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں کبھی بھی عوامی رائے کو حقیقی طور پر فیصلہ کن اہمیت نہیں دی گئی۔ شفاف انتخابات کی روایت آج تک مضبوط نہیں ہو سکی۔ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست پر اتنا گہرا اثر رہا ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی یہ طے ہو جاتا ہے کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں جائے گا۔

عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی بہت سے معاملات کو کھل کر سامنے لے آئی ہے۔ یہ حقیقت اب کوئی راز نہیں کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے میں بھی اسٹیبلشمنٹ کا کردار تھا۔ اسی طرح کئی سیاسی رہنما ہر دور میں اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ سایہ پروان چڑھتے ہے، جماعتیں بدلتے ہے اور اقتدار تک رسائی حاصل کرتے رہے۔

جب بھی اسٹیبلشمنٹ کی لائی ہوئی کوئی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں سے اختلاف کرتی ہے، اسی سیاسی اشرافیہ کو استعمال کر کے اسے کمزور کیا جاتا ہے، بلیک میل کیا جاتا ہے یا پھر حکومت ہی گرا دی جاتی ہے۔ یہی سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے اور بدقسمتی سے آج بھی اس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔

پاکستان میں حقیقی سیاسی استحکام تب ہی ممکن ہے جب عوام کے ووٹ کو فیصلہ کن حیثیت دی جائے، طاقت کے مراکز اپنی آئینی حدود میں رہیں، اور سیاست کو ہنگاموں اور شور شرابے کے بجائے مضبوط اداروں کی بنیاد پر چلایا جائے۔ چہروں کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوتا۔ ملک کو نظام کی تبدیلی درکار ہے اور اسی تبدیلی کے لئے سب اداروں کو آئینی حدود تک محدود رہنے کی سخت ضرورت ہے، جو بھی یہ کر دکھائی وہ ملک کا حقیقی رہنما اور تاریخ میں امر ہو جائے گا۔ بصورت دیگر ہمارا مستقبل شمالی کوریا یا میانمار سے مختلف نییں ہو گا۔ طرز حکومت سے زیادہ اچھی حکمرانی قومی بقا اور ترقی کے لئے لازمی ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے