چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے ایک تازہ انٹرویو میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی کی بے مثال کامیابی پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی ان کے ممکنہ خطرات اور پیچیدگیوں کا بھی اعتراف کیا۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے محض تین سال کے مختصر عرصے میں دنیا بھر میں اسمارٹ فونز کی طرح تیزی سے پذیرائی حاصل کی ہے اور یہ عام صارفین کی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔
سام آلٹمین نے اس ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات دونوں پر بھی تبصرہ کیا، انہوں نے کہا کہ اے آئی نہ صرف معلوماتی اور عملی پہلوؤں میں مساوات قائم کر سکتی ہے بلکہ دنیا کے امیر اور طاقتور افراد کو بھی وہی وسائل فراہم کرتی ہے جو اربوں عام صارفین استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اوپن اے آئی کے سسٹمز معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی افراد کو نہ صرف معلومات تک رسائی فراہم کرتی ہے بلکہ روزمرہ کے عملی کاموں میں بھی معاونت کرتی ہے، جیسے سی وی لکھنے، سافٹ وئیر کوڈ تیار کرنے، سفری منصوبے بنانے اور دیگر ذاتی و پیشہ ورانہ امور میں۔
آلٹمین نے واضح کیا کہ چیٹ جی پی ٹی کی طاقت کو محدود کر کے جمع کرنے کے بجائے اسے تقسیم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار اپنائیت کے باعث مستقبل میں غیر متوقع تبدیلیاں آ سکتی ہیں، اور اس لیے لوگوں کو اسے اپنانے کے ساتھ ساتھ حفاظتی تدابیر بھی تیار رکھنی چاہئیں۔
سام آلٹمین کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی پیچیدگیوں کے ساتھ آتی ہے، مگر اس کے فوائد اس کے ممکنہ خطرات سے کہیں زیادہ ہیں، اور اسے سمجھداری اور احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔




