کسی بھی ملک میں قانون سازی کی طاقت اور قومی استحکام کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ آج پاکستان کے سیاسی منظرنامے کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ مسلم لیگ نون کی اتحادی گورنمنٹ کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ یہ آئینی طاقت حکومت کو کسی بھی بنیادی اصلاحات یا 26 ویں اور 27 ویں ترامیم جیسی مشکل قانون سازی میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہونے دیتی۔ اصولی طور پر جب حکمران اتحاد کے پاس اتنی مضبوط بنیاد ہو تو ملک میں معاشی پالیسیوں کا ایک ایسا تسلسل اور سیاسی استحکام آنا چاہیے جو بیرونی سرمایہ کاری اور عوامی بہبود کی ضمانت بنے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، آئینی طاقت کی فراوانی کے باوجود ملک سیاسی اور معاشی بحرانوں کے گہرے حصار سے نہیں نکل پا رہا ہے۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ ہمارا مسئلہ پارلیمنٹ کی عددی قوت کا نہیں، بلکہ قومی اعتماد، مشترکہ سیاسی ویژن اور نفاذ کے ارادے کا ہے۔ یہ جمود پاکستان کو ایک خطرناک دوراہے پر لے آیا ہے۔ جب ملک کی تمام تر طاقت ایک مخصوص نقطہ نظر پر مرکوز ہو اور پھر بھی مسائل حل نہ ہوں تو یہ صورتحال قومی سطح پر مایوسی کو فروغ دیتی ہے۔ اس ڈیڈ لاک کو کھولنے اور ریاست کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے ”قومی مکالمہ“ ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ مکالمہ تمام فریقین کو ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، اجتماعی بقا کے ایجنڈے پر متفق ہونے کا واحد ذمہ دارانہ راستہ فراہم کرتا ہے۔
معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ ملک کے کچھ علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتحال ایک سنگین چیلنج ہے۔ خاص طور پر دہشت گردی کی نئی لہر شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہی ہیں۔ جب عوام روزمرہ کی زندگی میں تحفظ کو ترستے ہیں تو ان کا ریاست پر اعتماد ڈگمگا جاتا ہے۔ سیاسی قیادت اگر صرف قانون سازی کی طاقت پر انحصار کرے اور سیکیورٹی و انفورسمنٹ کے بنیادی مسائل پر فوری، موثر اور غیر سیاسی اقدامات نہ اٹھائے، تو یہ حکومتی صلاحیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ایک مستحکم حکومت کی پہلی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔
دو تہائی اکثریت کے باوجود حزب اختلاف اور حکومتی اتحاد کے درمیان سیاسی عدم اعتماد اپنی انتہا پر ہے۔ یہ محاذ آرائی پارلیمانی عمل کو متاثر کرتی ہے اور فیصلہ سازی کے عمل کو مفلوج بنا دیتی ہے۔ جب ملک کی سیاسی قیادتیں ایک دوسرے سے بات چیت پر تیار نہ ہوں، تو ملک کے اہم ادارے بھی اس تناؤ سے متاثر ہوتے ہیں۔ سیاسی خلاء اور انتشار میں غیر سیاسی اداروں کا ریاستی امور میں کردار بڑھ سکتا ہے، جس سے ملک کی معاشی پالیسیوں اور تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے اہداف حاصل نہیں ہو پاتے۔
تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی انتخابی ترجیحات سے بالا تر ہو کر 20 سالہ قومی میثاقِ معیشت پر دستخط کریں۔ اس چارٹر کو پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت سے آئینی تحفظ دیا جائے تاکہ کوئی بھی آنے والی حکومت اس سے انحراف نہ کر سکے۔ اس چارٹر کے بنیادی نکات قرضوں پر انحصار کا خاتمہ، دیرپا قیامِ امن، اندرونی معاشی اصلاحات، زرعی اور صنعتی شعبوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک مربوط پالیسی کے نفاذ پر مشتمل ہوں۔
قومی مکالمے میں اس بات پر بنیادی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے کہ تمام ریاستی اداروں (عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ، پارلیمنٹ) کے دائرہ کار کو آئینی حدود میں رکھا جائے۔ ایک دوسرے پر الزامات کے سلسلے کو اب بریک لگنی چاہیے کیونکہ ماضی میں سبھی سے غلطیاں ہوئی ہیں، سیاسی جماعتیں اداروں پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش ترک کریں اور ملک میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ ضابطہ اخلاق وضع کریں۔
قومی مکالمے کا ایک اہم جزو سماجی انصاف کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔ آزاد اور مضبوط عدالتی نظام کے بغیر جمہوری نظام ہرگز پنپ نہیں سکتا، قانون کا اطلاق بلا تخصیص اور بلا امتیاز ہونا چاہیے۔ صرف عام شہریوں پر ہی نہیں بلکہ اشرافیہ پر بھی قوانین کا نفاذ یکساں سختی سے کیا جائے۔ دو تہائی اکثریت کا ہونا ایک بہت بڑی طاقت ہے، لیکن حقیقی طاقت قومی یکجہتی اور مشترکہ ارادے میں مضمر ہے۔ یہ وقت ہے کہ سیاسی قیادتیں اپنے اپنے محاذ ترک کر کے ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے ایک جامع اور غیر مشروط قومی مکالمے کا آغاز کریں۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ملک کو بحرانوں کے گہرے دلدل سے نکال کر استحکام کی شاہراہ پر لا سکتا ہے۔


