کراچی میں ایک معصوم بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گیا۔ اس کا کھلے مین ہول میں گرنا تو المیہ تھا ہی لیکن اس کو ڈھونڈنے میں غفلت یا نا اہلی اس سے بھی زیادہ المناک صورتحال تھی۔ یہ صورتحال اس ملک میں ایک عام فرد کی زندگی کی قدروقیمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ویسے تو پورا ملک ہی اشرافیہ کی چراگاہ بن چکا ہے لیکن صوبہ سندھ اس حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس صوبے کے ”مالکوں“ کا کہنا ہے کہ جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے اور وہ یہ انتقام عوام سے بھرپور طریقے سے لے رہے ہیں۔ ایک عام شخص اس قدر بے وقعت ہے کہ اس کی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں۔ وہ جئے یا مرے، کرتا دھرتاؤں کی اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
بے روزگاری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ایک اسامی کے لیے ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان درخواستیں دے رہے ہوتے ہیں۔ بعض دعووں کے مطابق بے روزگاروں کی تعداد لاکھوں کا ہندسہ عبور کرچکی۔ اس صورتحال سے مایوس ہو کر ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ہی چھوڑتے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح بری طرح گر چکی ہے۔ ہر نوجوان ملک چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتا ہے۔ وطن عزیز کا نوجوان خود کو سیاسی عمل سے بھی بے دخل کرتا جا رہا ہے۔ شاید وہ جان چکا ہے کہ سیاست کا میدان شاہی خاندانوں کے بچوں کے لیے ہی مختص ہے، غریب کے بچے کو صرف دو جمع دو چار روٹیوں کا ہی سوچنا چاہیے۔
یہ ریاست اگر ایک عام فرد کے لئے ہارڈ اسٹیٹ بن چکی ہے تو اشرافیہ کے لیے ویسے ہی سافٹ اسٹیٹ ہے جیسے ہمیشہ سے تھی۔ قانون اگر سخت ہوا تو صرف غریب کے لیے۔ امیر کے لیے آج بھی بہت سارے راستے ہیں۔ اگر آپ کی کروڑوں کی گاڑی کے نیچے آ کر کوئی غریب مر جاتا ہے تو فکرمند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ آپ چند لاکھ دیں، دباؤ ڈالیں اور صلح صفائی کر لیں۔ قانون بھی آپ کی حفاظت کرے گا کیونکہ وہ تو ہمیشہ سے آپ کے گھر کی باندی ہے۔


