پرواز کی خواہش نے زمیں کا نہیں رکھا
اک شخص کو دولت نے کہیں کا نہیں رکھا
گھر بار بھی اس کا تو یہیں تھا مگر افسوس
انداز تکلم نے یہیں کا نہیں رکھا
پلکوں پہ ہے رکھا جسے اک عمر سجا کر
ہم لوگوں کو اس نے ہی کہیں کا نہیں رکھا
جس خاک سے اٹھا تھا دھواں تیز روی سے
اس خاک نے اس کو تو وہیں کا نہیں رکھا
رکھنا تھا جسے سینت کے رکھا نہیں ہم نے
عادت نے نہ رکھنے کی کہیں کا نہیں رکھا
یہ خاک نشینی بھی عجب چیز ہے دانشؔ
ارباب حکومت کو کہیں کا نہیں رکھا


