کیا ترمیم شدہ آئین پاکستانی عوام کے ریاست سے سماجی معاہدے کا عکاس ہے؟

شیئر کریں

کہا جاتا ہے کہ جدید ریاست سماجی معاہدے کے گرد تشکیل پاتی ہے یعنی عوام کسی مخصوص طرز حکومت کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ آئین کہلاتا ہے۔ فرانسیسی فلسفی روسو نے اس انتخاب کو ”شعورِ اجتماعی“ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پھر یہ شعور فرمانروا کی ذات میں ظاہر ہوتا ہے۔ روسو کی بات کو جدید پیرائے میں سمجھا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ریاست دراصل شعور اجتماعی کے اظہار کا نام ہے۔

فکری طور پر ایسا کہا جاسکتا ہے لیکن اگر حقیقت حال کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال یکسر مختلف ہے۔ المیہ یہ ہے کہ سماجی معاہدے شعور اجتماعی کا اظہار نہیں بلکہ طاقت کے تصادم اور پھر اس تصادم میں توازن کی تلاش سے جنم لیتے ہیں۔ ریاست اور آئین اس ہی کشمکش سے پیدا ہوتے ہیں۔ موضوع کو حال سے جوڑا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم بھی کسی جمہوری اتفاق رائے کی پیداوار نہیں ہے بلکہ ریاست و اقتدار کی ساخت اور توازن کی از سر نو ترتیب ہے۔

سیاسی حلقوں میں جاری بحثوں میں 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کئی آراء قائم کی جا رہی ہیں لیکن کوئی بھی حکومت کے ساتھ اس امر پر متفق نہیں دکھائی دیتا کہ یہ ”جمہوری مشاورت“ کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ ترمیم بھی اگر تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اپنے پیش روؤں کی طرح طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان باہمی مفاہمت پر مبنی ہے۔

بلاشبہ، آئین مقدس دستاویز نہیں ہے کہ جس کو حرف آخر سمجھا جائے بلکہ اس کو قوم کے اجتماعی شعور کا تحریری اظہار قرار دیا جاتا ہے، جس میں حالات کے تحت ترمیم کی گنجائش بہر حال موجود ہے۔ لیکن حقیقی طور پر آئین ایک ایسا دستاویز ہے کہ جس میں طاقت اور اقتدار کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس نئی ترمیم نے بھی حکمران طبقات یعنی فوج، عدلیہ اور سول اشرافیہ کے درمیان طاقت کے بندو بست سے جنم لیا ہے۔ یہ طاقت کی سینٹرلائزیشن کی روایت کا ہی تسلسل ہے۔

عدالتی اصلاحات اور ادارہ جاتی تنظیم نو کی اصطلاحات کے پیچھے ایک تضاد کارفرما ہے۔ یہ تضاد اس امر پر مشتمل ہے کہ ریاستی اختیارات اور اقتدار کی سرحدیں کون طے کرے گا۔ وفاقی آئینی عدالت اور عدالتی اختیارات کی نئی تقسیم بظاہر آئین کی بہتر تشریح کا راستہ دکھاتی ہے مگراس کو سیاسی قیادت کی برتری کو نئے انداز سے بحال کرنے کی کوشش کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ قضیہ صرف مملکت خداداد کا ہی نہیں ہے بلکہ پورے مابعد نوآبادیاتی (Postcolonial) منظرنامے میں آئینی ترامیم (جو اکثر بحران یا بے یقینی کے لمحوں میں کی جاتی ہیں ) جمہوری رویوں کے ارتقا سے نہیں بلکہ طاقتور طبقات کی باہمی سودے بازی سے جنم لیتی ہیں۔ جب حکمران طبقات اپنے اختیار کی بنیادوں کو متزلزل محسوس کرتے ہیں تو وہ آئین کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ مقدس دستاویز کے طور پر نہیں، بلکہ استحکام کے ایک لچکدار آلے کے طور پر۔ ”اصلاحات“ کی زبان دراصل طاقت کے دوبارہ استحکام کو اخلاقی جواز فراہم کرتی ہے۔

چنانچہ 27 ویں ترمیم کو محض قانونی نہیں بلکہ سیاسی تناظر میں بھی سمجھا جانا چاہیے۔ کیونکہ اس ترمیم کے ذریعے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقات یعنی سول اشرافیہ، عسکری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ ایک نئے معاہدے میں بندھ چکے ہیں۔ یہ ترمیم اس ہی معاہدے کو آئین کا حصہ بناتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ”سماجی معاہدے“ کا تصور محض افسانہ بن جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ معاہدہ نہ تو برابر فریقوں کے درمیان ہوتا ہے، نہ ہی کسی روشن خیال اجتماعی شعور کا ما حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ طاقت کے غیر مساوی دھاروں کے درمیان ایک عارضی صلح ہوتی ہے۔ ایک ایسی جنگ بندی جو ریاستی مشینری کو اس کے تضادات کے بوجھ تلے دبنے سے بچاتی ہے۔ بعد ازاں، دانشور ایسے معاہدوں کو عوام کے اجتماعی شعور سے تعبیر کر دیتے ہیں لیکن یہ تعبیر انتہائی سطحی اور تاریخ سے عاری ہوتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں یہ سوال اہمیت کا حامل نہیں کہ 27 ویں ترمیم سے پاکستان کی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے یا نہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کس کی جمہوریت کمزور اور کس کی مضبوط ہوتی ہے؟ کیا یہ عوامی شرکت کا دائرہ وسیع کرتی ہے یا طاقتور و بالادست طبقے کو ایک نئی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ؟ ان سوالات کا جواب ترمیم کے الفاظ میں ہی مضمر ہے کہ یہ کن اداروں کے لئے مزید راہ ہموار کرتی ہے اور کن کا راستہ روکتی ہے۔ تاریخی طور پر سمجھا جائے تو ریاست کے جمہوری فریم ورک کو 1956 ء کے پارلیمانی تجربے سے لے کر 1973 ء کے متفقہ آئین تک اور پھر 18 ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کی بنیاد میں عدم توازن نے کمزور کیا ہے۔

بہر کیف، پاکستانی سیاست تضادات سے بھر پور ہے جہاں آئین کو بارہا بالادست طبقات کی جانب سے بدلا جاتا رہا ہے اور ہر بار آئین کو نئی شکل دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان کی آئینی تاریخ اپنی سیاست کی ہی عکاسی کرتی رہی ہے جہاں یہ بات دبے الفاظ میں بارہا دہرائی جاتی ہے کہ آئین اور ترامیم عوام کے اجتماعی شعور کی نہیں بلکہ طاقت کے توازن کی پیداوار ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے