اداریہ: کرپشن کے حوالے سے ہماری عالمی شہرت، کیا اصلاح وہی کریں گے جو اس کے ذمہ دار ہیں؟

شیئر کریں

پاکستان پہلی بار صرف معیشت نہیں، بلکہ حکمرانی اور کرپشن کے حوالے سے عالمی سطح پر کھلی کتاب بن چکا ہے۔ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ 186 صفحات پر مشتمل یہ دستاویز بتاتی ہے کہ ہمارا 65 فیصد معاشی نقصان ترقی کی کمی سے نہیں، بد انتظامی اور کرپشن سے ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ رپورٹ کئی ماہ تک اسی لیے روکی گئی کہ اس میں بہت سے نقاب اٹھتے تھے۔

رپورٹ میں پہلی بار پاکستانی اشرافیہ کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ خاص طور پر شوگر انڈسٹری اور وہ سرکاری منصوبے جن میں سیاسی مداخلت کو معاشی فیصلے پر فوقیت دی جاتی ہے۔ یہ بات کوئی نئی نہیں، لیکن پہلی بار اسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے واضح انداز میں لکھا ہے۔ ٹیکس نظام کو پیچیدہ، غیر واضح اور کمزور کہا گیا ہے۔ عدالتوں کی کمزور احتسابی صلاحیت بھی کرپشن کا ایک بڑا ذریعہ قرار دی گئی ہے۔ حتیٰ کہ طاقتور اداروں بھی اس میں شامل ہیں، شفافیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کے نکات ہمارے اپنے آڈیٹر جنرل کی رپورٹس سے بھی ملتے ہیں۔ صرف تین صنعتیں، شوگر، سیمنٹ اور ٹائل، سالانہ 208 ارب روپے کا نقصان دیتی ہیں۔ مختلف سرکاری اداروں میں 760 ارب کی بے ضابطگیاں رپورٹ کی گئیں۔ جب پاور سیکٹر کی بات آتی ہے تو معاملہ ایک اور تباہ کن منظر پیش کرتا ہے۔ ضرورت سے دو گنا بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت، گھریلو سطح پر بے تحاشا سولرائزیشن، 500 فیصد مہنگی گیس، اور بجلی کے پروجیکٹس جو سیاسی مداخلت پر بنتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سیکٹر کو معیشت کا ”بلیک ہول“ کہا گیا۔

 

یہ سب کچھ برسوں سے رپورٹوں میں لکھا جاتا رہا، مگر مسئلہ کبھی رپورٹیں نہیں تھا، مسئلہ انہیں نافذ نہ کرنا ہے۔ آئی ایم ایف نے اس بار 15 نکاتی اصلاحاتی پلان دیا ہے۔ اگر ان اصلاحات کو قرض کی شرط نہ بنایا گیا تو یہ رپورٹ بھی کاغذوں میں دفن ہو جائے گی۔ ساری حقیقت ایک ہی نکتے کے گرد گھومتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ غربت یا بے روزگاری نہیں، بلکہ وہ اشرافیہ ہے جو ہر سال بیس ارب ڈالر کی سبسڈی اور مراعات کھا جاتی ہے۔

 

اب سوال یہ نہیں کہ ہمارے مسائل کیا ہیں، سوال یہ ہے کہ انہیں حل کرنے کی قیمت کون ادا کرے گا۔ کیا حکومت اپنے طاقتور طبقات کے خلاف جا سکتی ہے، یا پھر یہ چارج شیٹ بھی چند ہفتوں بعد فائلوں میں بند ہو جائے گی۔ وقت آ چکا ہے کہ معاشی اصلاحات کو صرف وعدہ نہ سمجھا جائے، بلکہ ریاستی بقا کی شرط مانا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ماسٹر پلان، ویژن اور اصلاحات کے سارے نعرے صرف کرپشن کے فریم میں لٹکتے رہ جائیں گے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے