جمہوریت اور شفاف نظام کا اصل قاتل کون ہے؟

شیئر کریں

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے پُراسرار، پیچیدہ اور تلخ سوال یہی ہے کہ ہماری اجتماعی سیاسی خودکشی کا اصل محرک کون ہے۔ وہ طاقتور ہاتھ جو پسِ پردہ اقتدار کے رنگ بدلتے ہیں، یا وہ سیاسی جماعتیں جو نصف صدی کے تجربے، مشاہدے اور تلخ دھوکے کے باوجود اپنے اندر وہ مضبوطی پیدا نہ کر سکیں جو ایک زندہ جمہوری ڈھانچے کے لیے ضروری ہوتی ہے؟ یا پھر وہ اجتماعی بے حسی جس نے ایک پوری نسل کو فکری یتیمی، ذہنی انتشار اور سماجی بے معنویت کے سپرد کر دیا؟ عمران خان پر شکوہ کم اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے اور پہلی ہی آزمائش میں اس سے محروم ہو کر طاقتور اداروں کے مقابل جا کھڑے ہوئے۔ عوام کے دلوں میں یہ خاموش مفروضہ اب بھی زندہ ہے کہ شاید وہ لوٹے تو ماضی کی غلطی نہ دہرائیں، مگر سیاسیات اور سماجیات کے اصول یہی کہتے ہیں کہ بغیر مشاہدے کے کوئی امید علم نہیں، محض جذباتی عقیدہ ہوتی ہے۔ اور سیاست عقیدوں کے سہارے نہیں چلتی۔

اصل اور بنیادی تنقید تو ان دو بڑی سیاسی جماعتوں پر آتی ہے جنہوں نے نصف صدی کے سیاسی سفر میں دھوکے بھی سہے، اعتدال بھی دیکھا، زوال بھی جھیلا، مگر پھر بھی اپنی ڈھانچہ جاتی کمزوریاں ختم نہ کیں۔ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نہ کارکن سازی کو ترجیح دے سکیں، نہ تنظیمی بنیادوں کو مضبوط کر سکیں، نہ نظریے کی آبیاری کر سکیں۔ انہوں نے گلی، محلے، یونین کونسل اور شہر کی سطح پر وہ تنظیمی ڈھانچے کبھی نہیں بنائے جو کسی بھی جمہوری قوت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کی حالیہ منظوری نے تو جیسے یہ بات مزید واضح کر دی کہ عوامی، سماجی اور نظریاتی حلقوں کو کنارے لگا کر ان جماعتوں نے خود کو ایک بار پھر انہی طاقتور مراکز کے حوالے کر دیا جن سے دہائیوں تک شکوہ کرتی رہیں۔

ماضی میں طلبہ یونینیں زندہ تھیں، مزدور اور کسان تنظیمیں سرگرم تھیں، ادبی اور فکری انجمنیں معاشرتی شعور کو آگ دیتی تھیں۔ طلبہ یونین صرف ایک انتخابی عمل نہیں تھی، یہ سوال اٹھانے، مزاحمت کرنے، مکالمہ قائم کرنے اور اجتماعی تربیت کا وہ مدرسہ تھا جہاں سے سیاسی قوتیں جنم لیتی تھیں۔ مگر جب ان یونینوں پر پابندیاں لگیں، جب طلبہ، مزدور اور کسان تحریکوں کو خاموش کیا گیا، جب اجتماعی آوازوں کو ادارہ جاتی بندشوں میں جکڑا گیا، تو وہ تمام چشمے خشک ہو گئے جن سے سیاست کو فکری آبِ حیات ملتا تھا۔ آج جب ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو سوال اُٹھتا ہے : کیا سیاسی جماعتوں کو کسی نے روکا تھا کہ وہ یونیورسٹیوں میں دوبارہ طلبہ یونین بحال کرانے کے لیے آواز اٹھاتیں؟ کیا انہیں کسی نے منع کیا تھا کہ وہ مزدور یونینوں اور کسان انجمنوں کے ساتھ کھڑی ہوتیں؟ کیا کسی نے انہیں پابند کیا تھا کہ وہ نوجوانوں کو سیاسی، سماجی اور فکری تربیت دینے سے گریز کریں؟

آج یونیورسٹیوں کا حال یہ ہے کہ وہ علم گاہیں نہیں رہیں بلکہ بڑے اسکولوں میں بدل چکی ہیں۔ جہاں صبح طلبہ آتے ہیں، شام کو گھر لوٹ جاتے ہیں، درمیان میں صرف کورس دہرا دیا جاتا ہے۔ نہ کوئی سیاسی تربیت ہے، نہ سماجی مکالمہ، نہ فکری نشوونما، نہ ذہنی یا جسمانی تربیت کے مراکز۔ ایسے میں پھر سوال پیدا ہوتا ہے : کیا سیاسی جماعتوں کو کسی نے روکا تھا کہ وہ تعلیمی اداروں کے اندر سماجی اور فکری تربیت کے پلیٹ فارم بناتیں؟ کیا کسی نے ان کے ہاتھ باندھ دیے تھے کہ وہ نوجوانوں کی فکری آبیاری اور نظریاتی تربیت کے لیے پروگرام شروع نہ کریں؟ کیا ان جماعتوں کو کسی نے پابند کیا تھا کہ وہ یونیورسٹیوں کو صرف امتحانی مراکز بنے رہنے دیں؟

پاکستان کی آبادی کا دو تہائی سے زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر یہ نوجوان فکری خلا کے اندھے کنویں میں دھکیل دیے گئے ہیں۔ وہ نظریاتی کارکن نہیں رہے، وہ خام مال بن چکے ہیں۔ ایسا خام مال جسے کوئی بھی طاقت، کوئی بھی شدت پسند گروہ، کوئی بھی غیر ملکی نظریہ، کوئی بھی مذہبی انتہاپسند اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ یہاں پھر ایک تلخ سوال جنم لیتا ہے : کیا سیاسی جماعتوں کو کسی نے روکا تھا کہ وہ نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑتیں، انہیں نظریے، تاریخ اور فکری نظم کی وراثت دیتیں؟ کیا کسی طاقت نے ان کے دروازے بند کیے تھے کہ وہ نوجوانوں کو اپنے بیانیے کا محافظ بنائیں؟

اب خوف اس بات کا ہے کہ اس کھولتے ہوئے لاوے کو کوئی فاشسٹ گروہ، کوئی مذہبی انتہاپسند جماعت، یا کوئی بیرونی قوت اپنی سمت موڑ لے۔ یہ خطرہ صرف سیاسی جماعتوں کی ناکامی نہیں ہو گا، یہ ریاست کے ہر ستون کے لیے ایک اندوہناک سانحے کا آغاز بن سکتا ہے۔ اور آخر میں سوال پھر اسی شدت سے سامنے کھڑا ہے۔ سیاسی خودکشی کا موجب کون ہے؟ اسٹیبلشمنٹ اپنی جگہ مگر فیصلہ کن ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں پر ہی آتی ہے جنہوں نے نصف صدی کے تجرابوں کے باوجود کارکن کی جگہ مصلحت، نظریے کی جگہ اقتدار، اور عوام کی جگہ طاقت کے بند کمروں کو ترجیح دی۔ اور یوں رفتہ رفتہ اپنے ہی وجود کے بوجھ تلے دبتی چلی گئیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے