بالاکوٹ: بالاکوٹ بازار، جسے ٹورزم کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے، میں صفائی کی ابتر صورتحال شہریوں اور سیاحوں دونوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ مین گیٹ کے اوپر گندگی کے ڈھیر نے نہ صرف علاقے کی خوبصورتی کو متاثر کیا ہے بلکہ ملک بھر سے آنے والے سیاحوں پر بھی منفی تاثر چھوڑا ہے۔

ٹی ایم اے بالاکوٹ کے ورکرز کا کسی بھی جگہ پر نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا، جبکہ بھاری مراعات اور لاکھوں کروڑوں روپے کے بجٹ کے باوجود صفائی کا کوئی واضح طریقہ کار نظر نہیں آتا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹی ایم اے کے ملازمین دن 11 بجے کے بعد ڈیوٹی پر آتے ہیں اور صرف من پسند علاقوں میں صفائی کرکے واپس لوٹ جاتے ہیں، جس کے باعث مرکزی بازار اور گردونواح گندگی سے اٹے رہتے ہیں۔
بازار کے اسی راستے سے ننھی بچیاں اسکول جاتی ہیں، نمازی جامہ مسجد کا رخ کرتے ہیں، اور قریب ہی ہاسپٹل و بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر بھی موجود ہے۔ نالی کے ابلتے گندے پانی نے نہ صرف ماحول کو تعفن زدہ کر رکھا ہے بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی شدید متاثر ہورہی ہے۔
علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بالاکوٹ جیسے سیاحتی مرکز میں صفائی کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور ٹی ایم اے ورکرز کی حاضری اور کارکردگی کو سختی سے چیک کیا جائے، تاکہ آنے والے سیاحوں کے سامنے شہر کا ایک بہتر اور صاف چہرہ پیش کیا جاسکے۔

رپورٹ موسیٰ خان




