قوم یکجہتی کا سادہ اور موثر نسخہ: تعلیمی نصاب ایک، معیار ایک، اور مواقع سب کے لیے برابر

شیئر کریں

تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ محض پڑھنے لکھنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی فکری و اخلاقی تربیت ہے جو انسان کو باشعور شہری، باکردار انسان اور ذمہ دار پاکستانی بناتی ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں کارخانوں یا عمارتوں سے نہیں بلکہ اسکولوں اور نصابوں سے اٹھتی ہیں۔ تعلیم ہی وہ چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے اور اقوام کو بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔

پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے تقریریں اور دعوے تو بہت کیے گئے ہیں مگر عملی صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے۔ ہمارے ملک کا تعلیمی نظام بکھرا ہوا ہے۔ ایک طرف سرکاری اسکول ہیں جو سہولتوں سے محروم ہیں، دوسری طرف مہنگے نجی ادارے ہیں جنہوں نے تعلیم کو کاروبار بنا رکھا ہے۔ مدارس کا ایک الگ نظام ہے جو مذہبی تعلیم تک محدود ہے، اور پھر بین الاقوامی ادارے ہیں جو انگریزی نصابوں کے تحت او لیول اور IB کی تعلیم دیتے ہیں۔ یوں ایک ہی ملک میں چار الگ الگ تعلیمی دنیائیں آباد ہیں۔

یہ نظام نہ صرف طبقاتی فرق پیدا کرتا ہے بلکہ قومی سوچ کو بھی تقسیم کرتا ہے۔ ایک ہی ملک کے بچے مختلف زبانوں، نصابوں اور نظریات میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ کہیں حب الوطنی اور قومی تاریخ کے تصورات کمزور ہو رہے ہیں، کہیں مذہب اور دنیا کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے، اور کہیں تعلیم محض روزگار کا ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ تقسیم مستقبل میں فکری انتشار اور قومی عدمِ یکجہتی کو جنم دے رہی ہے۔

قیامِ پاکستان کے وقت یہ عزم کیا گیا تھا کہ تعلیم سب کے لیے یکساں اور مفت ہو گی، لیکن آج حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تعلیم امیر کے لیے سہولت، اور غریب کے لیے خواب بن چکی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں سہولتوں کا فقدان، اساتذہ کی کمی، اور پرانے نصاب نے معیارِ تعلیم کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ نجی ادارے آسمان سے باتیں کرتی فیسیں وصول کر کے تعلیم کو ایک تجارتی شے میں بدل چکے ہیں۔

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل A-25 کہتا ہے کہ ریاست پانچ سے سولہ سال کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ کروڑوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ جو اسکول موجود ہیں، وہاں معیارِ تعلیم اور سہولتیں ناکافی ہیں۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبوں کے سپرد کر دیا گیا۔ اس سے ایک طرف صوبائی خودمختاری میں اضافہ ہوا، لیکن دوسری طرف قومی نصاب کا تصور ختم ہو گیا۔ ہر صوبہ اب اپنی پالیسی اور نصاب کے مطابق چلتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورے ملک میں ایک فکری یکسانیت باقی نہ رہی۔ تعلیم وہ شعبہ ہے جسے صوبائی حدود نہیں بلکہ قومی وحدت کی ضرورت ہے۔

اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر ڈالیں تو ہمیں سمجھ آتا ہے کہ کامیاب قومیں تعلیم کو کبھی کاروبار نہیں بناتیں بلکہ ریاستی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ فرانس اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ وہاں ابتدائی سے ثانوی سطح تک تعلیم مکمل طور پر مفت ہے۔ نصاب پورے ملک میں ایک جیسا ہے اور ہر بچے کو برابر مواقع حاصل ہیں۔ پیرس کے ایک اسکول اور کسی دور دراز گاؤں کے اسکول کے معیار میں کوئی فرق نہیں۔ ریاست خود تعلیمی نظام کی نگران ہے اور اساتذہ کے لیے سخت تربیت اور معیار کا نظام موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس میں تعلیم طبقاتی فرق سے بالاتر ہے۔

پاکستان اگر سیکھنا چاہتا ہے تو فرانس جیسے ماڈلز سے سیکھ سکتا ہے، جہاں تعلیم کو قوم سازی کا سب سے طاقتور ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کو سمجھنا ہو گا کہ تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل مستقبل کی حفاظت ہے۔ تعلیم وہ قوت ہے جو غربت کو کم کرتی ہے، معاشرتی برابری پیدا کرتی ہے اور جہالت کے اندھیروں کو مٹاتی ہے۔

قوم سازی کا سب سے موثر نسخہ یکساں نصاب تعلیم ہے۔ ایسا نصاب جو مذہبی و اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ جدید سائنس، ٹیکنالوجی، زبان، فنون اور سماجی شعور کو یکجا کرے۔ جو طبقاتی امتیاز کو ختم کرے اور ایک مشترکہ قومی نظریہ پروان چڑھائے۔ جب نصاب ایک ہو گا تو سوچ ایک ہو گی، اور جب سوچ ایک ہو گی تو قوم بھی ایک ہو گی۔

ریاست کے ساتھ ساتھ والدین، اساتذہ اور معاشرہ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ والدین بچوں کی تعلیم کو ترجیح بنائیں، اساتذہ اپنے پیشے کو عبادت سمجھیں، اور معاشرہ تعلیم کے فروغ کو صدقۂ جاریہ جانے۔ ایک قوم تب بنتی ہے جب ہر فرد اپنی سطح پر کردار ادا کرتا ہے۔

 

وقت آ گیا ہے کہ پاکستان تعلیم کو کاروبار کے بجائے خدمت کا درجہ دے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں ایک نصاب، ایک معیار اور ایک نظامِ تعلیم نافذ کیا جائے۔ جب کراچی سے کشمیر، کوئٹہ سے گلگت اور پشاور سے لاہور تک ایک ہی نصاب پڑھایا جائے گا، تب ہی ہم ایک فکری اور نظریاتی قوم بن سکیں گے۔

قوم سازی کا نسخہ دراصل بہت سادہ ہے۔ نصاب ایک، معیار ایک، اور موقع سب کے لیے برابر۔ تعلیم کو سب کے لیے مفت اور قابلِ رسائی بنانا ہی اصل انصاف ہے۔ کیونکہ جب قلم ہر ہاتھ میں آ جائے، تو بندوق کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور جب علم عام ہو جائے، تو جہالت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے