متوازن، اصولی اور غیر جانب دار پالیسی ہی ہمیں داخلی اور بیرونی بحران سے نکال سکتی ہے

شیئر کریں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والا حالیہ سیز فائر اس وقت غیر یقینی کا شکار ہے۔ استنبول میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت یہ معاہدہ ٹوٹ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کی نذر ہو سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیتِ قوم ہر بحران کو صرف ردِعمل سے دیکھتے ہیں، یا ہم میں اتنی دانش باقی ہے کہ ہم اس صورتحال کا تجزیہ غیر جانب دار انداز میں کر سکیں؟

پاکستان اس وقت دو سطحوں پر چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے: ایک بیرونی محاذ، جو افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کی صورت میں ظاہر ہے، اور دوسرا اندرونی محاذ، جہاں خیبر پختونخوا کی حکومت اور وفاق کے درمیان محاذ آرائی بڑھتی جا رہی ہے۔ و زیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور وفاقی حکومت کے درمیان فاصلے، اور عمران خان سے ملاقات میں عدالتی احکامات کے باوجود رکاوٹوں نے سیاسی بے یقینی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

اگر ایک طرف حکومتِ پاکستان افغانستان کے ساتھ سخت موقف اپناتی ہے، اور دوسری طرف خیبر پختونخوا میں اپنی ہی سیاسی قیادت سے اختلافات میں الجھ جاتی ہے، تو نتیجہ صرف کمزوری کی صورت میں نکلے گا۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب کسی ملک میں داخلی اتحاد کمزور پڑ جائے، تو بیرونی دشمن کو دراڑ ڈالنے کا موقع مل جاتا ہے۔

فلسفیانہ نقطۂ نظر سے دیکھیں تو جنگ یا کشیدگی کی بنیاد ہمیشہ عدم فہم یعنی ”Misunderstanding“ پر ہوتی ہے۔ ”جب مکالمہ ختم ہوتا ہے تو تلواریں بولتی ہیں۔“ یہی سبق ہمیں اپنی سیاسی اور سفارتی روش پر بھی لاگو کرنا چاہیے۔ اگر ہم نے بات چیت کے دروازے بند کر دیے، تو ہم خود اپنے لیے جنگ کے میدان تیار کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین کا موقف بھی اسی تناظر میں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”پاکستان کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے، مگر جنگ کے دوران بھی بات چیت بند نہیں ہوتی۔“ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو اپنے دوست ممالک جیسے سعودی عرب، قطر، ترکی اور ملائیشیا کے ذریعے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کو زندہ رکھنا چاہیے تاکہ نوبت تصادم تک نہ پہنچے۔ یہ رویہ دراصل غیر جانب داریت کی ایک مثال ہے۔ غیر جانب دار ہونا کمزوری نہیں بلکہ دانش مندی ہے۔ یہی وہ رویہ تھا جسے بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے 1947 میں اپنایا جب بھارت اور کشمیر کے معاملے پر عالمی فورم پر جانے کا فیصلہ کیا۔ جناح نے طاقت کے بجائے دلیل، سفارت اور قانون کو ترجیح دی۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو نے 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں مشرقِ وسطیٰ کے متضاد ممالک کو ایک میز پر بٹھایا۔ یہ بھی غیر جانب داری کی ایک شاندار مثال تھی۔ اسی فلسفے کو اپناتے ہوئے اگر ہم موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ پاکستان کے لیے بہترین راستہ عقل و حکمت کا ہے۔ افغانستان کے ساتھ سختی دکھانا ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ سفارتی دروازے بند کرنا دانش مندی نہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں سیاسی محاذ آرائی کو بڑھانے کے بجائے بات چیت سے حل تلاش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ طاقت سے زیادہ پائیدار قوت وہ ہے جو مکالمے سے پیدا ہوتی ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب مرکز اور صوبے کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں اور مکالمہ ختم ہو جائے، تو ملک کا جغرافیہ تک بدل جاتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے اندرونی اختلافات احمد چٹھہ اور بلال اعجاز جیسے رہنماؤں کے عہدوں سے ہٹائے جانے کے تنازع اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ پارٹی کے اندر بھی اتحاد کی کمزوری جنم لے رہی ہے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے اندر شفافیت، برداشت اور غیر جانب داری برقرار نہیں رکھ سکتی تو وہ قومی سطح پر قیادت کا حق کھو دیتی ہے۔ یہاں فلسفی ارسطو کی بات یاد آتی ہے : ”اعتدال وہ قوت ہے جو انتہا سے بچاتی ہے۔“ پاکستان کو بھی اسی اعتدال کی ضرورت ہے، نہ افغانستان کے ساتھ غیر ضروری سختی، نہ داخلی سیاست میں انتقام۔ ایک متوازن، اصولی اور غیر جانب دار پالیسی ہی ہمیں اس بحران سے نکال سکتی ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہاں جذبات سے زیادہ عقل کی ضرورت ہے۔ ریاست کو اپنی خارجہ اور اندرونی پالیسیوں میں وہی راستہ اپنانا ہو گا جو نہ صرف وقتی فائدہ دے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے امن، استحکام اور احترام کی بنیاد بنے۔ غیر جانب داری کمزوری نہیں، یہ وہ حکمت ہے جو قوموں کو جنگوں سے بچاتی ہے اور امن کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر پاکستان نے اپنے فیصلوں میں اس فلسفے کو جگہ دی، تو شاید تاریخ ایک بار پھر ہمیں کامیابی کا موقع دے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے