بدعنوانی کا تیزی سے پھیلتا ہوا کینسر

شیئر کریں

آج بدعنوانی صرف سرکاری اداروں تک محدود نییں ہے بلکہ یہ کینسر پرائیویٹ اداروں اور معاشرے میں ہر سطح پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔

کیا مالی بے ضابطگی اور پیسے دبانا ہی بدعنوانی ہے؟ کیا بدعنوانی میں صرف اعلیٰ، طاقتور اور دولت مند گروہ ہی ملوث ہے؟ عوام الناس میں بدعنوانی یا کرپشن کا جو تصور موجود ہے۔ کیا یہی حقیقی اور اصل تصور ہے یا نہیں؟

بدعنوانی کیا ہے؟ یہ ایک ایسا باطنی مرض ہے جس کا تعلق انسانی سوچ و فکر سے ہے۔ جب انسان اس منفی سوچ و فکر کو اپنے ذہن میں پختہ کر لیتا ہے۔ تو بالآخر اس کا عملی اظہار معاشرے میں نظر آتا ہے۔ اس کا تعلق صرف مالی معاملات تک محدود نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس کا تعلق اخلاقیات اور حقوق و فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی سے بھی اُتنا ہی ہے جتنا عام طور پر مالی لین دین سے سمجھا جاتا ہے۔

دور حاضر میں ہر شخص خواہ وہ کسی بھی عہدے پر براجمان ہو، کوئی بھی کردار ادا کر رہا ہو، جہاں موقع پاتا ہے، اپنی استطاعت کے مطابق ضرور بدعنوانی کا ارتکاب کرتا ہے۔

اگرچہ یہ بات چند قارئین کے لیے عجیب، نا گوار اور نامانوس ضرور ہو گی۔ لیکن اگر غیر جانب داری سے صرف اپنا احتساب ہی کر لیا جائے تو ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کتنا بڑا بدعنوان ہے۔

مثلاً عصر حاضر میں موجود طلبہ کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو اکثر و بیشتر ایسے ہی کردار سامنے آتے ہیں جن کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ نمبروں کا حصول ہے۔ اپنے اس مقصد کے لیے وہ نقل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ امتحانی مراکز میں ممتحنوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے دھوکہ دہی اور مکر و فریب کی چالیں بھی چلتے ہیں۔ اپنی تدابیر کے مطابق جب یہ طلبہ تعلیم سے فراغت کے بعد روزگار کے سلسلے میں کسی عہدے پر فائز ہوتے ہیں تو وہاں بھی ہر وہ طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے زیادہ سے زیادہ پیسہ حاصل ہو خواہ وہ طریقہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہو۔

دوسری طرف سرکاری سطح پر آسامیوں کی تقرری کی بات کی جائے۔ تو اگرچہ نوکریوں کا اشتہار عام اور خاص سب کے لیے ہوتا ہے بشرطیکہ مطلوبہ عہدے کے لیے کاغذات جمع کروانے والے درکار تعلیمی قابلیت اور مہارت پر پورا اترتے ہوں۔ مگر بدقسمتی سے آج کل ان آسامیوں پر بھی جو سب اہل اور قابل امیدواروں کے لیے بظاہر دستیاب ہیں ان نوکریوں کے لیے دستاویزات کی سبمیشن تو سب کی ہوتی ہے لیکن جب میرٹ پر تقرری کا مرحلہ آتا ہے۔ تو اکثر ایسے افراد کا آسامیوں پر تقرر کر دیا جاتا ہے جن کو مطلوبہ ادارے میں کوئی سفارش حاصل ہوتی ہے یا ان کا خاندانی پس منظر تگڑا ہوتا ہے خواہ وہ اس کے اہل نہ بھی ہوں۔

اگرچہ سفارش کرنا بعض صورتوں میں اچھی بات ہے۔ لیکن صرف اسی صورت میں جہاں کسی اہل اور قابل کو اس کی ضرورت ہو۔ نا اہل اور ناقابل افراد کو سفارشات کے زور پر اداروں میں تعینات کرنا صرف ان کی مالی مشکل دور کرنا ہی نہیں بلکہ براہ راست اس ادارے کو اور بلا واسطہ ملک و قوم کے مستقبل کو داؤ پر لگانا ہے۔

اسی طرح عوام الناس کی بات کی جائے تو ہر وہ جگہ جہاں اصول ہے کہ قطار بنا کر اپنا کام کروایا جائے وہاں دوسروں کو دھکے دے کر آگے پھلانگنا، مطلوبہ باری سے پہلے اپنا کام کروا کر نکل جانا بھی بدعنوانی ہے۔ یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر فرد کا ہر ایسے کام میں کوتاہی کرنا جو اس کے فرائض اور ذمے داریوں میں شامل ہے بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔

معاشرے پر نظر ڈالین تو یہ سلسلہ صرف طاقتور اور اعلٰی طبقے تک محدود نہیں بلکہ وہ لوگ جو اس مسئلے پر ناگواری کا اظہار کرتے اور اسے اجاگر کرتے ہیں کہیں نہ کہیں بڑی سطح پر نہ سہی، نچلی سطح پر اخلاقی لحاظ سے اس کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مرتکب بھی ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ضرور ہے کہ موجودہ دور میں برائی اس قدر عام ہو چکی ہے۔ کہ لوگ اسے صحیح سمجھنے لگے ہیں۔ جو شخص برائی کو برا کہے۔ اسے بھی درست ہونے کے باوجود برا کہنے لگتے ہیں۔ اس صورت حال میں یہ تو ہو سکتا ہے۔ کہ ہر شخص خود انفرادی سطح پر اپنے آپ کو فکری، اخلاقی سطح پر درست کرنے کی کوشش کرے۔ یہ نہ سوچے کہ سب لوگ غلط کر رہے ہیں۔ میرے ٹھیک کرنے سے کیا ہو گا؟ یہ یاد رکھنے کی ضررورت ہے کہ ہر شے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ بظاہر دونوں زاویے ٹھیک ہی لگتے ہیں۔

اس بات سے کسی صورت انکار ممکن نہیں کہ جب ہر شخص اپنے آپ کو فکری اور اخلاقی سطح پر ٹھیک کرنے پر توجہ دے گا۔ تو ضرور وہ دن آئے گا۔ جب معاشرہ برائیوں سے پاک صاف ہو کر اچھائیوں کا نمونہ بن جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ انسان اس بات کو سمجھے کہ بدعنوانی صرف مالی سطح پر نہیں بلکہ فکری، عملی اور اخلاقی سطح پر بھی ہو رہی ہے۔ لہٰذا ہر فرد کو چاہیے کہ اس بات کو اپنے ذہن میں راسخ کرے کہ مجھے دنیا میں کوئی پوچھے یا نہ پوچھے آخرت میں مجھے اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہ میں اپنے ہر عمل کا جواب خود تنہا ہی دینا ہو گا خواہ جلوت میں کیا گیا ہو یا خلوت میں۔ با اختیار لوگ سمجھیں کہ سفارش کرنا اگرچہ اچھی عادت ہے مگر صرف انہی لوگوں کے حق میں جو مطلوبہ شے یا کام کے اہل اور قابل ہوں۔ اس کے علاوہ ہر شخص کو چاہیے کہ ایفائے عہد، دیانتداری، سچائی، انصاف پسندی جیسی اخلاقی صفات کو اختیار کرے۔

جب انسان اپنی سوچ و فکر کو صحیح معنوں میں درست کرے گا پھر اس کا عملی اطلاق کرے گا تو ضرور ایک دن معاشرے سے بدعنوانی جیسے مہلک مرض کا صفایا ہو جائے گا۔

بدعنوانی کا خاتمہ محض قوانین بنانے اور ان کے نفاذ سے ممکن نہیں بلکہ صرف انسان کی سوچ و فکر کی صفائی، خلوص نیت اور ضمیر کی بیداری پر منحصر ہے کیونکہ اگر نیت اور سوچ و فکر صاف نہیں ہو گی تو انسان بہترین سے بہترین قانون سے بچ نکلنے کی تدابیر اختیار کرے گا۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے