ایک قوم کا حقیقی سرمایہ اس کے شہریوں کا فکری اطمینان، معاشی تحفظ اور مستقبل پر ایمان ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں لوگ کل کی فکر سے آزاد ہو کر حال میں جینے اور منصوبہ بندی کرنے کے قابل ہوتے ہیں، وہ قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے، حالیہ برسوں میں، ہم ایک ایسی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں جہاں ہر آنے والا دن گزرے ہوئے کل سے زیادہ بوجھل ہے۔ مہنگائی، جو کبھی معاشی ماہرین کے چارٹس اور تخمینوں کا حصہ ہوا کرتی تھی، اب ایک خوفناک عفریت بن کر عام آدمی کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ اس مہنگائی کا پس منظر صرف درآمدی بلوں کا بڑھنا یا روپے کی قدر کا گرنا نہیں ہے، بلکہ یہ عشروں پر محیط حکومتی بے تدبیری، قرضوں پر انحصار کی لت اور حقیقی معاشی اصلاحات سے گریز کا نتیجہ ہے۔ ہماری معیشت ایک ایسے مریض کی مانند ہے جس کا ہر حکیم صرف عارضی درد کش دوا دے کر مطمئن ہو جاتا ہے، مگر اصل بیماری کا علاج کرنے سے کتراتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اس قدر شدید اور مسلسل رہا ہے کہ اوسط آمدنی والے خاندان کی زندگی یکسر تبدیل ہو کر رہ گئی ہے۔ مہنگائی نے صرف اشیاء کو مہنگا نہیں کیا، بلکہ اس نے ایک بنیادی نفسیاتی اور سماجی تبدیلی بھی پیدا کی ہے : یعنی عوام کی امید کو سستا کر دیا ہے۔ اب مسئلہ پیٹ بھرنے کا نہیں، بلکہ عزت نفس کے ساتھ پیٹ بھرنے اور اپنے بچوں کو ایک بہتر مستقبل دینے کی خواہش کا ہے۔ اس لاحاصل جدوجہد نے عام آدمی کو ذہنی اور جذباتی طور پر مفلوج کر دیا ہے، اور یہی ہماری قومی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
بجلی کے بل، جو کبھی اضافی خرچ ہوا کرتے تھے، اب ایک خاندان کی ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ نگل جاتے ہیں۔ گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کو ایک عیاشی بنا دیا ہے۔ رہی سہی کسر آٹا، دالیں اور سبزیاں نکال دیتی ہیں۔ ایک تنخواہ دار طبقہ، جو کبھی فخر سے اپنا ماہانہ بجٹ بناتا تھا، اب ہر مہینے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہے کہ کون سی بنیادی ضرورت کو قربان کیا جائے، کیا بچے کی فیس دی جائے یا گھر کے لیے دوا خریدی جائے؟
یہ جدوجہد انسان کی قوتِ خرید کو ہی ختم نہیں کرتی، بلکہ اس کی قوتِ ارادی کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ جب ایک باپ شام کو خالی جیب گھر لوٹتا ہے اور اپنے بچے کی فرمائش پوری نہیں کر پاتا، تو یہ صرف مہنگائی نہیں ہے، یہ اس کی ذاتی شکست کا احساس ہے جو اس کے اندر کے عزم کو دیمک کی طرح چاٹ لیتا ہے۔
مہنگائی کی چکی میں پسنے والا طبقہ، بالخصوص متوسط اور نچلا متوسط طبقہ، اپنی عزت نفس بچانے کی کوشش میں کئی غلط راستوں پر جانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جب جائز آمدنی سے گزر بسر ناممکن ہو جائے تو ناجائز ذرائع آمدن کو اختیار کرنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ دفتر میں کام کرنے والا اہلکار بھی معمولی فائدے کے لیے اصولوں کو بالائے طاق رکھنے لگتا ہے، اور بازار میں تاجر بھی ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کو اپنا شعار بنا لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارا سماجی تانا بانا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ”خیر“ اور ”معاشرتی ذمہ داری“ جیسے تصورات سستی کتابوں کا حصہ بن جاتے ہیں کیونکہ ہر شخص کی زندگی کی ترجیح صرف اپنی بقاء رہ جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے دراصل معاشرے میں ایک اخلاقی بحران کو جنم دیا ہے، جہاں وسائل کی قلت کے خوف نے باہمی اعتماد اور ایمانداری کو ختم کر دیا ہے۔
مہنگائی اور معاشی تباہی کا سب سے گہرا اثر عوام کے سیاسی فہم پر پڑا ہے۔ لوگ نظام میں تبدیلی لانے کی بجائے صرف حکمران کو بدلنے کو ہی حل سمجھتے ہیں۔ مسلسل قرضے، اندرونی اور بیرونی مفادات کے لیے پالیسیوں میں تبدیلیاں اور معیشت کی غیر مستحکم حالت نے عوام کو یہ یقین دلایا ہے کہ موجودہ نظام ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ عدم اطمینان اور بے اعتمادی ہی عوام کی سب سے بڑی محرومی ہے، کیونکہ جب عوام کی امیدیں سستی ہو جائیں تو وہ عملی طور پر ہر قسم کی مثبت تبدیلی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر معاشی اور انتظامی اقدامات کرنے ہوں گے جو نہ صرف قیمتوں کو مستحکم کریں بلکہ عام آدمی کا سیاسی نظام اور مستقبل پر اعتماد بحال کریں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ قرضوں پر انحصار کو ترک کر کے ملک کے اندرونی معاشی معاملات کو درست کرنے کی طرف توجہ دے۔ زرعی اور صنعتی شعبے کو محض زبانی جمع خرچ کی بجائے ٹھوس سبسڈی، ٹیکس مراعات اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کی جائے۔ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو نئے کاروبار کی حوصلہ افزائی کریں اور کاروبار شروع کرنے کے عمل کو آسان بنائیں۔ مقامی پیداوار میں اضافے کے بغیر مہنگائی کا مستقل حل ممکن نہیں۔
عوام کو بھی اپنا سیاسی فہم وسیع کرنا ہو گا۔ انہیں صرف شخصیت پرستی سے نکل کر نظام کی اصلاح اور ٹھوس معاشی منصوبوں کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ ”زندگی مہنگی، امید سستی“ کا عنوان دراصل ایک خاموش چیخ ہے جو اجتماعی کوششوں سے ہی دبائی جا سکتی ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا ہم اسی طرح تاریک مستقبل کی طرف بڑھتے رہیں گے، یا ہم اپنی جدوجہد میں نئی امید اور عزم بھر کر مثبت تبدیلی لانے کے لیے تیار ہیں۔


