ہمارے زوال کی اصل بنیاد

شیئر کریں

قوموں کی ترقی اور زوال کی کہانی میں، تعلیم کا باب ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مضبوط دفاعی اور معاشی نظام کی طرح، ایک معیاری تعلیمی نظام کسی بھی جدید ریاست کی طاقت کا ناگزیر ستون ہوتا ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جہاں قدیم بادشاہتیں اپنی فوج اور خزانوں سے اپنی شان و شوکت کا اظہار کرتی تھیں وہیں جدید ریاستیں اپنے شہریوں کی فکری، معاشی اور دفاعی صلاحیتوں کو تعلیم کے ذریعے پروان چڑھاتی ہیں۔ بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد سے ہی ہم ایک قوم کے طور پر تعلیم کے شعبے کو وہ مرکزیت نہیں دے پائے جس کی وہ حقدار تھی۔

حکومتی اداروں کی ترجیحات میں زراعت اور صنعت کو فروغ دینے اور امن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے نظام کو حل کر کے بہتر بنانے کی ضرورت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ لیکن جہاں ہم نے سیاسی و معاشی عدم استحکام اور حکومتی قرضوں کے بڑھتے بوجھ کا رونا رویا وہیں سماجی ترقی کے سب سے بڑے انجن یعنی تعلیم کو ثانوی حیثیت دے دی۔ معاشرے کے مسائل حل کرنے کے لیے جس ویژنری سیاست کی ضرورت ہے وہ تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

عوامی مسائل کے حل اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کا کوئی بھی منصوبہ ہو اس کی بنیاد معیاری تعلیم پر ہی رکھی جاتی ہے۔ مگر آج ہمارے ملک کا حال یہ ہے کہ ایک طرف تو گورنمنٹ اسکولز اور کالجز کی فیسیں کم ہونے کے باوجود وہاں کا معیار تعلیم غیر تسلی بخش ہے اور دوسری طرف پرائیویٹ اداروں کی فیسیں کم سے کم شرح تنخواہ (چالیس ہزار روپے ) سے کہیں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے ایک عام آدمی کے لیے اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے مستقبل کے خلاف ایک خاموش سازش ہے۔

آج پاکستان کے تعلیمی منظرنامے پر سب سے بڑا اور سب سے تشویشناک رجحان اداروں میں طلباء کے داخلوں میں مسلسل اور واضح کمی ہے۔ یہ کمی بالخصوص پرائیویٹ اسکولوں، کالجوں اور یہاں تک کہ یونیورسٹیوں کی سطح پر بھی نمایاں ہے اور اس کی جڑیں ملک کی سنگین معاشی صورتحال میں پیوست ہیں۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی گراوٹ نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس مالی دباؤ کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر پڑ رہا ہے جو یا تو اپنے معیار زندگی کو گرا کر اخراجات کم کر رہے ہیں، دو دو نوکریاں کر رہے ہیں، یا خاموشی سے ناجائز آمدنی کے ذرائع اپنا رہے ہیں۔

ایسے حالات میں تعلیمی اخراجات کو ترجیح دینا عام آدمی کے لیے ناممکن ہو گیا ہے۔ جب ایک معمولی میڈیکل ٹریٹمنٹ پر بھی دس ہزار سے زائد کے اخراجات آتے ہیں اور یونیورسٹیوں کی ایک سمیسٹر فیس سرکاری کم سے کم تنخواہ سے زیادہ ہو، تو والدین کے لیے تعلیم ایک اختیاری خرچ بن جاتی ہے، جسے وہ مجبوری میں ترک کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کو تعلیمی اداروں سے نکال کر گھر بٹھا دینا یا سرکاری اداروں کے غیر تسلی بخش معیار پر اکتفا کرنا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔ داخلوں میں کمی اسی رجحان کا براہ راست نتیجہ ہے۔

تعلیم سے دوری کے سماجی نتائج نہایت خطرناک ہیں۔ جب تعلیم عام نہیں ہوتی تو سماج ترقی کرنے کی بجائے گراوٹ اور اخلاقی بدحالی کا شکار ہو جاتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کا ناجائز ذرائع آمدن کی طرف مائل ہونا اور مزدور طبقے کا ٹرانسپورٹ کے اخراجات بچانے کے لیے گھروں سے دور فٹ پاتھوں پر بسیرا کرنا معاشرتی رویوں میں گراوٹ کی واضح علامات ہیں۔ داخلوں میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل ایک غیر تعلیم یافتہ، معاشی دباؤ کا شکار اور اخلاقی طور پر کمزور مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جس طرح کارخانے بند ہو رہے ہیں اور نئے کاروبار شروع کرنے کا مشورہ نہیں دیا جا رہا، اسی طرح علم کے کارخانے (تعلیمی ادارے ) بھی غیر محسوس طریقے سے بندش کا شکار ہو رہے ہیں۔

یہ تمام صورتحال اس بات کی آئینہ دار ہے کہ عوام کا سیاسی فہم صرف حکومتی جماعتوں کو بدلنے تک محدود ہے، جبکہ اصل مسئلہ نظام کی تبدیلی کا ہے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ ڈرائیور بدلنے سے گرمی کا مسئلہ حل ہو جائے گا حالانکہ نظام میں ائر کنڈیشنر (اصلاحات) کا نظام ہی موجود نہیں ہے۔ تعلیم کے معاملے میں بھی عوام حکومتی جماعت کو تو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، لیکن نظامِ تعلیم اور ریاست کی بنیادی ترجیحات کو بدلنے کا مطالبہ نہیں کرتے۔

نظام کو بدلنے کے لیے قانون سازی اور پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت چاہیے، جو پاکستان مسلم لیگ نون کو 1947 سے اب تک ایک بار حاصل ہوئی مگر انہوں نے بھی عوام کے وسیع تر مفاد میں نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی جوابدہی صرف سیاسی جماعتوں پر ہی نہیں، بلکہ ان عوام پر بھی عائد ہوتی ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم جیسے بنیادی مسئلے پر بھی نظام کی اصلاح کا مطالبہ نہیں کرتے۔

داخلوں میں کمی ایک انتباہی گھنٹی ہے جو بتا رہی ہے کہ اگر اب بھی تعلیم کو قومی ترجیحات میں سب سے اوپر نہ رکھا گیا تو مستقبل کی معاشی، سیاسی اور سماجی گراوٹ کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ ہمیں روایتی سیاست کو ترک کر کے مربوط معاشی پلان کے ساتھ ویژنری سیاست کی ضرورت ہے، اور اس کا آغاز تعلیمی نظام کی مکمل اصلاح سے ہونا چاہیے۔

سیاسی جماعتوں کو اپنی ترجیحات میں ذاتی مفادات کی بجائے عوام کے مسائل کے حل پر توجہ دینی ہوگی۔ تعلیم اور صحت کے نظام کے مسائل حل کر کے اسے مزید بہتر کرنے کو فوری ترجیح دینا ضروری ہے۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں غیر ضروری سبسڈیز کی بجائے تعلیم کے لیے مختص رقم کو بڑھایا جائے اور تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔

سرکاری اسکولوں کے معیار کو فی الفور بہتر بنانے کے لیے ماہر اور تربیت یافتہ اساتذہ کو مکمل سپورٹ فراہم کی جائے۔ جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ٹھوس ریگولیٹری فریم ورک بنایا جائے۔ تعلیم کے شعبے میں نئے کاروبار کی حوصلہ افزائی کے ساتھ سازگار ماحول کی فراہمی ضروری ہے تاکہ معیاری تعلیم کم قیمت پر بھی دستیاب ہو۔

معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے خالی قرضہ لینے کی بجائے، ملک کے اندرونی معاشی معاملات کی درستگی پر توجہ دی جائے۔ زراعت اور صنعت کو فروغ دینے کے لیے مربوط پالیسی بنائی جائے۔ عام آدمی کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کو ترجیح دی جائے، تاکہ والدین تعلیمی اداروں کی فیسیں ادا کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔ جب تک عوام کے پاس روز مرہ کے اخراجات کے بعد بچوں کی تعلیم کے لیے رقم نہیں بچے گی، داخلوں میں کمی کا رجحان برقرار رہے گا۔

عوام کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ انہیں اب پچھلے پانچ سال کے کام پر نہیں، بلکہ اگلے پانچ سال کے لیے تعلیمی، معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے منصوبے پر ووٹ دینا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں سے یہ سوال پوچھا جائے کہ تعلیم کے نظام کو بدلنے اور ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی دینے کا ان کا کیا پلان ہے؟ سیاسی فہم کی بیداری ہی اس خاموش تباہی کو روک سکتی ہے۔ اگر ہم نے ان اقدامات پر فوری توجہ نہ دی تو مستقبل کی نسلیں نہ صرف غربت اور سماجی عدم استحکام کا شکار ہوں گی، بلکہ ایک ایسی قوم کی شکل اختیار کر جائیں گی جہاں ایک دوسرے سے گلہ شکوہ کرنے کا موقع بھی شاید نہ مل سکے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تعلیم کو ہر قیمت پر سب کے لیے ممکن بنایا جائے، یہی ملک و قوم کی بقاء کی واحد ضمانت ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے