جنوبی کوریا میں خوبصورتی کے معیار نے ایک خاتون کو اس قدر جنون میں مبتلا کردیا کہ وہ 15 برسوں کے دوران 400 سے زائد پلاسٹک سرجریاں کروا بیٹھیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خاتون نے اپنی ظاہری خوبصورتی کو پرفیکٹ بنانے کی کوشش میں 2 لاکھ امریکی ڈالرز یعنی تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ پاکستانی روپے خرچ کیے۔ ابتدا میں انہوں نے معمولی سی سرجری کروائی، مگر وقت کے ساتھ یہ عادت ان کی لت بن گئی اور یوں ان کا چہرہ اور جسم مسلسل آپریشنز کی زد میں آتا رہا۔
ان کے سرجیکل سفر میں ناک، ہونٹ، گال اور جسم کے دیگر حصوں پر بار بار آپریشن شامل ہیں۔ چہرے پر فلرز، بوٹوکس اور مختلف قسم کی مصنوعی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خوابوں جیسے چہرے اور جسم کی تلاش میں ہیں، مگر ہر نئی سرجری کے بعد انہیں لگتا ہے کہ ابھی مزید بہتری کی گنجائش باقی ہے۔
ماہرینِ طب اور نفسیات نے اس رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل پلاسٹک سرجریز نہ صرف جلد اور جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ ذہنی توازن کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
ایسے افراد اکثر Body Dysmorphic Disorder (BDD) کا شکار ہوتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے، جس میں انسان اپنے خدوخال سے غیر حقیقی حد تک عدم اطمینان محسوس کرتا ہے۔




