اقوام متحدہ میں ”خیالی فلسطینی ریاست“ کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 157 سے تجاوز کر چکی اور لیڈروں کی تقاریر میں جہاں اقوام متحدہ کی بے بسی سامنے آئی وہیں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نے بتا دیا کہ دیکھتے ہیں یہ ریاست کیسے بنتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق نوے فیصد اسرائیلی نہ صرف فلسطینی ریاست کے مخالف ہیں بلکہ موجودہ جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں یعنی غزہ سے تمام فلسطینیوں کو نکالنا۔
مغربی کنارے میں جہاں فلسطینی آبادی کی تعداد چھبیس ستائیس لاکھ کے لگ بھگ تسلیم کی جاتی ہے اور اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد ساڑھے سات لاکھ کے قریب اور دن بدن بڑھ رہی ہے۔ 1993 کے اوسلو معاہدے کے تحت اس علاقے کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ تقریباً اکسٹھ فیصد حصے پر اسرائیل کا انتظامی اور فوجی کنٹرول ہے اور اس کو ایریا سی بھی کہتے ہیں۔ اس کے رقبے میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے مقابل ایریا اے اور بی کو 165 سے زائد علاقوں میں اس طرح تقسیم کیا گیا ہے کہ کوئی علاقائی تسلسل باقی نہیں رہا۔ تقریباً 22 فیصد ایریا بی فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مشترکہ کنٹرول میں ہے۔ صرف 18 فیصد حصہ جس کو ایریا اے کہتے ہیں، فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں ہے۔ لیکن وہاں بھی اس کا انتظامی کنٹرول ایک بلدیاتی ادارے سے زائد نہیں ہاں جھنڈا، اور عہدے وغیرہ ایک ریاست کے دے دیے گئے ہیں۔ سات اکتوبر 2023 کے بعد سے ساری دنیا کی نظریں غزہ پر مرکوز ہیں، مغربی کنارے کے فلسطینی عوام پر بھی جہنم کے دروازے کھول دیے گئے۔
اقوام متحدہ کے 157 سے زائد ممالک نے ایک خیالی فلسطینی ریاست کو تو تسلیم کر لیا ہے لیکن اس کے خد و خال کیا ہوں گے اور اس کی علاقائی حدود کیا ہوں گی؟ اس کی تفصیل پر سب خاموش ہیں سوائے اس کے کہ اسرائیل 1967 کی جنگ سے پہلے کی حدود میں واپس جائے۔ مغربی کوششوں پر یقین رکھنے والوں کے لیے اوسلو معاہدہ اور اس کے نتائج پر ایک نظر ہی کافی ہے۔ اب ذرا نظر ڈالتے ہیں صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی پروگرام کی جس کو امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی مشترکہ پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا۔ پردے کے پیچھے ہونے والی تفصیل کے لیے تو ہمیں کسی امریکی کی کتاب کا انتظار کرنا ہو گا۔ اس کی سب سے اہم بات یہ ہے یہ نکات تنازعے میں شامل فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ثمر نہیں بلکہ طاقت کے ایوانوں میں بڑوں کے باہمی مشوروں کا نتیجہ ہیں۔ ”
پہلی بات تو یہ ہے کہ اسرائیلی سوسائٹی اور حکومت فلسطینیوں کو انسانی حقوق دینے کے حق میں نہ تھی، نہ ہے۔ اس پلان میں فلسطینی ریاست کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوائے نکتہ نمبر انیس جس میں مستقبل میں فلسطینی حق خود ارادیت پر بات چیت کے امکانات پر غور و خوض کیا جا سکتا ہے۔ غزہ کی مجوزہ انتظامیہ میں کسی فلسطینی کی شمولیت نہیں ہے۔ مجوزہ انتظامیہ کے ذمہ داروں میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر کا نام بھی شامل ہے، یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں اس کی اپنی پارٹی کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی اصل جگہ ہیگ میں عالمی عدالت کا کٹہرا ہے جہاں اسے عراق میں انسانیت کے خلاف جرائم کی جواب دہی کرنا چاہیے۔
غزہ کی تعمیر نو میں کسی فلسطینی کا کوئی کردار نہیں ہو گا اور غزہ کا رابطہ مغربی کنارے سے مکمل منقطع کر دیا جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی، جس نے گزشتہ تیس سال سے زاہد عرصہ اسرائیل کو خوش کرنے میں گزار دیا، کے کردار کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم کی شرائط میں، انٹرنیشنل کریمینل کورٹ (ICC) اور عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمات کی واپسی کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہداء کی فیملیز کو دی جانے والی امداد کی بندش، فلسطینی اسکولوں کے سلیبس میں تبدیلی بھی شامل ہے، پھر کہیں وہ اس قابل ہوں گے کہ ان کے کردار کے بارے میں سوچا جا سکے۔
ان آٹھ ممالک سے توقع یہ ہے کہ وہ حماس کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کریں جبکہ یہ کام اسرائیل اپنے تمام ٹینکوں، جہازوں اور بمباری سے دو سال کے عرصے میں بھی نہ کر سکا۔


