کیا فلسطینی ریاست قائم ہو سکے گی؟

شیئر کریں

اقوام متحدہ میں ”خیالی فلسطینی ریاست“ کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 157 سے تجاوز کر چکی اور لیڈروں کی تقاریر میں جہاں اقوام متحدہ کی بے بسی سامنے آئی وہیں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نے بتا دیا کہ دیکھتے ہیں یہ ریاست کیسے بنتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق نوے فیصد اسرائیلی نہ صرف فلسطینی ریاست کے مخالف ہیں بلکہ موجودہ جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں یعنی غزہ سے تمام فلسطینیوں کو نکالنا۔

 

اعداد شمار کو دیکھا جائے تو گزشتہ سات دہائیوں میں فلسطینیوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ان کا آپس کا رابطہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی آبادی نوے لاکھ سے اوپر ہی ہو گی جن میں اکیس فیصد یعنی تقریباً بیس لاکھ فلسطینی عرب ہیں جن میں تراسی فیصد مسلمان جبکہ بقیہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہنے کو تو اس اکیس فیصد آبادی کی اسرائیلی پارلیمنٹ میں پندرہ نشستیں ہیں لیکن ان کی حیثیت دوسرے درجے کے شہری سے زیادہ نہیں۔ کیونکہ اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے جہاں تمام حقوق اس میں بسنے والے یہودیوں کو ہی حاصل ہیں اور اس حقیقت کی عکاسی اس کے قوانین میں ہوتی ہے جو کہ اس کو ایک نسل پرست ”Aparthied State“ بناتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے 1994 سے پہلے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت تھی جس میں سیاہ فام اکثریت کے کوئی حقوق نہیں تھے۔

 

مغربی کنارے میں جہاں فلسطینی آبادی کی تعداد چھبیس ستائیس لاکھ کے لگ بھگ تسلیم کی جاتی ہے اور اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد ساڑھے سات لاکھ کے قریب اور دن بدن بڑھ رہی ہے۔ 1993 کے اوسلو معاہدے کے تحت اس علاقے کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ تقریباً اکسٹھ فیصد حصے پر اسرائیل کا انتظامی اور فوجی کنٹرول ہے اور اس کو ایریا سی بھی کہتے ہیں۔ اس کے رقبے میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے مقابل ایریا اے اور بی کو 165 سے زائد علاقوں میں اس طرح تقسیم کیا گیا ہے کہ کوئی علاقائی تسلسل باقی نہیں رہا۔ تقریباً 22 فیصد ایریا بی فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مشترکہ کنٹرول میں ہے۔ صرف 18 فیصد حصہ جس کو ایریا اے کہتے ہیں، فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں ہے۔ لیکن وہاں بھی اس کا انتظامی کنٹرول ایک بلدیاتی ادارے سے زائد نہیں ہاں جھنڈا، اور عہدے وغیرہ ایک ریاست کے دے دیے گئے ہیں۔ سات اکتوبر 2023 کے بعد سے ساری دنیا کی نظریں غزہ پر مرکوز ہیں، مغربی کنارے کے فلسطینی عوام پر بھی جہنم کے دروازے کھول دیے گئے۔

 

غزہ کی آبادی تقریباً بائیس لاکھ تھی اور تقریباً دو سال سے نسل کشی کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں فلسطینی مہاجر جو اردن، لبنان، شام اور مصر کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان سب کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

 

اقوام متحدہ کے 157 سے زائد ممالک نے ایک خیالی فلسطینی ریاست کو تو تسلیم کر لیا ہے لیکن اس کے خد و خال کیا ہوں گے اور اس کی علاقائی حدود کیا ہوں گی؟ اس کی تفصیل پر سب خاموش ہیں سوائے اس کے کہ اسرائیل 1967 کی جنگ سے پہلے کی حدود میں واپس جائے۔ مغربی کوششوں پر یقین رکھنے والوں کے لیے اوسلو معاہدہ اور اس کے نتائج پر ایک نظر ہی کافی ہے۔ اب ذرا نظر ڈالتے ہیں صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی پروگرام کی جس کو امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی مشترکہ پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا۔ پردے کے پیچھے ہونے والی تفصیل کے لیے تو ہمیں کسی امریکی کی کتاب کا انتظار کرنا ہو گا۔ اس کی سب سے اہم بات یہ ہے یہ نکات تنازعے میں شامل فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ثمر نہیں بلکہ طاقت کے ایوانوں میں بڑوں کے باہمی مشوروں کا نتیجہ ہیں۔ ”

پہلی بات تو یہ ہے کہ اسرائیلی سوسائٹی اور حکومت فلسطینیوں کو انسانی حقوق دینے کے حق میں نہ تھی، نہ ہے۔ اس پلان میں فلسطینی ریاست کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوائے نکتہ نمبر انیس جس میں مستقبل میں فلسطینی حق خود ارادیت پر بات چیت کے امکانات پر غور و خوض کیا جا سکتا ہے۔ غزہ کی مجوزہ انتظامیہ میں کسی فلسطینی کی شمولیت نہیں ہے۔ مجوزہ انتظامیہ کے ذمہ داروں میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر کا نام بھی شامل ہے، یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں اس کی اپنی پارٹی کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی اصل جگہ ہیگ میں عالمی عدالت کا کٹہرا ہے جہاں اسے عراق میں انسانیت کے خلاف جرائم کی جواب دہی کرنا چاہیے۔

 

ٹرمپ پلان کے اعلان سے پہلے اسلامی/عرب دنیا کے آٹھ سربراہان نے اس پلان کی منظوری دی تھی لیکن جب تفصیلات سامنے آئیں تو وہ مختلف تھیں۔ قطریوں کو غصہ ہے کہ ان کے ”ثالثی کے کردار“ کا ذکر تک نہیں۔ مصر خفا خفا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے کردار کو ہی کم نہیں کیا گیا بلکہ غزہ کے علاقے رفح میں مصری سرحد کے ساتھ اسرائیلی فوج کی موجودگی کو حقیقت تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ان ملکوں کی بظاہر ناراضگی کے باوجود اس پلان پر ان ممالک کے دستخط موجود ہیں اور کسی نے بھی اس پلان سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا۔ یاد رہے اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ کہ ان آٹھ ممالک نے اس معاہدے پر دستخط سے پہلے فلسطینوں سے کوئی مشورہ بھی کیا ہو۔ اختیارات کی کنجی نیتن یاہو کے ہاتھ میں ہے۔ غزہ میں سے اسرائیلی افواج کا انخلاء ہو گا یا نہیں، کتنے علاقے سے اور کب ان سب کا فیصلہ نیتن یاہو کے ہاتھ میں ہے۔ پلان میں اسرائیلی افواج کے انخلاء کا کوئی وقت متعین نہیں۔ کتنی امداد ہونا چاہیے اور تعمیر نو کے ذرائع کی فراہمی کے بارے میں فیصلے کا اختیار بھی اس کے ہاتھ میں ہو گا۔

 

غزہ کی تعمیر نو میں کسی فلسطینی کا کوئی کردار نہیں ہو گا اور غزہ کا رابطہ مغربی کنارے سے مکمل منقطع کر دیا جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی، جس نے گزشتہ تیس سال سے زاہد عرصہ اسرائیل کو خوش کرنے میں گزار دیا، کے کردار کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم کی شرائط میں، انٹرنیشنل کریمینل کورٹ (ICC) اور عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمات کی واپسی کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہداء کی فیملیز کو دی جانے والی امداد کی بندش، فلسطینی اسکولوں کے سلیبس میں تبدیلی بھی شامل ہے، پھر کہیں وہ اس قابل ہوں گے کہ ان کے کردار کے بارے میں سوچا جا سکے۔

ان آٹھ ممالک سے توقع یہ ہے کہ وہ حماس کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کریں جبکہ یہ کام اسرائیل اپنے تمام ٹینکوں، جہازوں اور بمباری سے دو سال کے عرصے میں بھی نہ کر سکا۔

 

حقیقت تو یہ ہے کہ عین اس وقت جب دنیا کے اکثریتی لوگوں اور حکومتوں کی رائے اسرائیل کے خلاف ہوتی جا رہی تھی اور ایک آزاد اور خود مختار فلسطین ریاست کی بین الاقوامی قبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا تھا، عرب اور اسلامی دنیا کے لیڈروں نے اس معاہدے پر دستخط کر کے اس امر کو یقینی بنا دیا ہے کہ مستقبل قریب میں اسرائیلی انتقام سے ہونے والی تباہی کی راکھ میں سے فلسطینی ریاست نہ ابھر سکے۔

 


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے