ڈگری اور اسکلز کی اہمیت

شیئر کریں

مصنوعی ذہانت، خودکار نظامات، آن لائن لرننگ اور تکنیکی انقلاب کے دور میں بچوں کے لئے ڈگری کی ضرورت ایک مرکزی بحث بن گئی ہے۔ کہیں لوگ کہتے ہیں کہ مستقبل میں اسکلز زیادہ اہم ہوں گی، ڈگری کم، یا بے کار ہو جائے گی۔ یہ سوچ مخصوص حد تک درست ہے مگر مکمل نہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں تعلیمی نظام، معاشرتی توقعات، اقتصادی حالات اور صنعتی تقاضے سب مل کر کام کرتے ہیں، ڈگری کی اہمیت ابھی بھی برقرار ہے، مگر اسے نئے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ ڈگری اور اسکلز دونوں کی اہمیت ہے، اور اگر ہم نظام کو بہتر بنائیں تو نوجوان نسل کے لیے مواقع بڑھیں گے اور یہ غلط تاثر کہ ”ڈگری کی ضرورت نہیں“ کمزور ہو جائے گا۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال یوں ہے کہ یونیورسٹیوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے، مگر شرکت (Enrollment) عام آبادی کے لحاظ سے کم ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹیوں کی تعداد پبلک اور پرائیویٹ ملا کر تقریباً 370 ہو چکی ہیں۔ طالب علموں کی تعداد بھی بتائی گئی ہے کہ 2001 کے زمانے سے لاکھوں سے زائد اضافہ ہوا، مگر چونکہ آبادی بہت تیزی سے بڑھی ہے، رسائی اب بھی کم ہے۔ حکومت ایک ہدف بیان کر رہی ہے کہ ”Vision 2047“ کے تحت یہ تعلیمی شعبہ مضبوط کیا جائے، تعلیمی سہولیات، ٹیکنالوجی کا استعمال، اور اداروں کی استعدادِ کار بڑھائی جائے۔ یونیورسٹی طلبہ میں خواتین کی شمولیت بھی قابلِ ذکر ہے۔ موجودہ ڈیٹا کے مطابق خواتین کی شرح تقریباً 48 فیصد ہے، یعنی یونیورسٹی کی سطح پر قریباً نصف طلبہ خواتین ہیں۔

مالی امور بھی بڑا مسئلہ ہیں۔ حکومت اور ایچ ای سی دونوں نے تسلیم کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درکار فنڈنگ کم دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، سال 2023-24 میں Recurring Grant جسے ہر طالب علم کے لئے سرکاری امداد کہا جائے، وہ کم ہو گئی ہے۔ پچھلے سالوں کے مقابلے میں روپے میں کمی رہی ہے۔ اس سے بالآخر یونیورسٹیوں کی سہولیات، اساتذہ کی تنخواہ، تحقیقی پروگرامز اور عملی انفراسٹرکچر متاثر ہوتا ہے۔

یہ سب حقائق ہمیں بتاتے ہیں کہ ڈگری کا نظام پاکستان میں مکمل طور پر ناکارہ نہیں، بلکہ محدود اور غیر مکمل انداز میں کام کر رہا ہے، جس کی وجہ سے نوجوانوں کو یہ تاثر ملتا ہے کہ ڈگری کا فائدہ کم رہ گیا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈگری کی ضرورت ختم ہو جائے گی، کیونکہ بہت سے شعبوں میں ڈگری لازمی ہے، اور ڈگری کا وہ مقام ہے جو مہارتوں کی فوری طلب کے باوجود باقی رہے گا۔

تاثر کہ ”بچوں کو ڈگری کی ضرورت نہیں“ پھیلنے کی وجوہات متعدد ہیں۔ پہلی وہ ہے کہ ٹیکنالوجی نے تعلیم کے روایتی ماڈل کو چیلنج کیا ہے۔ آن لائن کورسز، فری لانسنگ پلیٹ فارمز، یوٹیوب اور MOOCs ایسی سہولیات ہیں جن سے لوگ اپنے وقت اور وسائل کے اندر اسکلز حاصل کر سکتے ہیں اور فوری کام شروع کر سکتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ کہ بہت سی ملازمتیں آج مہارت اور تجربے کو ڈگری سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں، خاص طور پر IT، اسٹارٹ اپس، ڈیجیٹل میڈیا اور فوراً عملی کام کرنے والے شعبے۔

تیسری وجہ یہ کہ گھریلو حالات، فیسیں، رہائش، سفر، کتابیں اکثر طلبہ کو یونیورسٹی داخلہ لینے سے روکتے ہیں، یا اگر داخلہ لیتے ہیں تو ڈگری مکمل کرنا بہت محنت اور وقت درکار ہوتا ہے جس کو برداشت کرنے کی سکت معیشت اور خاندان میں نہیں ہوتی۔

چوتھی وجہ یہ کہ نصاب اور اداروں کا معیار کئی جگہ بازار کی ضروریات سے میل نہیں کھاتا۔ بہت سی ڈگریاں تکنیکی یا عملی مہارتیں فراہم نہیں کرتیں، تحقیقاتی مواقع کم ہیں یا صنعتی رابطے کم، جس سے فارغ التحصیل افراد کا بازار میں مقام کم ہو جاتا ہے۔

پانچویں وجہ یہ کہ معاشرے اور میڈیا میں کامیاب متبادل مثالیں سامنے آتی ہیں۔ کہ لوگ بغیر ڈگری کے کام کر رہے ہیں، یا چھوٹے اسکل کورسز کے بعد آمدنی ہو رہی ہے، جس سے نوجوانوں میں یہ خیال پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ ڈگری اتنی اہم نہیں۔

چھٹی اور اہم وجہ پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ڈگری حاصل کرنا اب بھی روزگار کی ضمانت نہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے مطابق گریجویٹ بے روزگاری کی شرح تقریباً 14.9 % ہے، یعنی ہر ساتواں گریجویٹ نوکری سے محروم رہتا ہے۔ یہ شرح ملک کی مجموعی بے روزگاری کی شرح سے کہیں زیادہ ہے جو تقریباً 6.3 % ہے۔ خواتین میں یہ شرح انتہائی تشویشناک حد پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے رجحانات بتاتے ہیں کہ داخلوں کی شرح کم ہے مگر کچھ شعبے، علاقوں اور گروہوں میں فرق بہت بڑا ہے۔ ایک تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق سال 2017- 18 میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تقریباً 1.581 ملین طلبہ داخل تھے جن میں سے پبلک شعبے کے تقریباً 1.272 ملین اور پرائیویٹ شعبے کے تقریباً 0.309 ملین تھے۔ سال 2024 کی رپورٹوں کی مطابق داخلوں میں 13 % تک کمی آئی ہے جو تشویشناک ہے۔

ملک تعلیم پر بجٹ کم از کم GDP کا تقریباً 1.9 فیصد خرچ کرتا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم پر صرف تقریباً 0.2 فیصد کا حصہ مخصوص ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے لئے اہم مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ مالی سال میں HEC کو درکار بجٹ تقریباً 125 ارب روپے ہے مگر مختص کیا گیا تقریباً 65 ارب روپے ہے۔ بجٹ کی یہ کمی اساتذہ کی اچھی ٹریننگ، تعلیمی وظائف، لیبارٹریوں، تحقیقاتی سہولیات اور طلبہ کے عملی تربیتی مواقع کو متاثر کرتی ہے۔

اس ضمن میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس حقیقت کو سمجھا جائے کہ ڈگری کی اہمیت آج بھی بہت زیادہ ہے۔ ڈگری ایک رسمی شناخت ہے جو کہ بعض پیشوں میں لازمی ہے، جیسے طب، قانون، انجینئرنگ، تدریس، سرکاری خدمات وغیرہ۔ وہاں رسمی سند کے بغیر کام کرنا یا پیشہ ورانہ حقوق حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ڈگری علم کی بنیاد فراہم کرتی ہے، تجزیاتی سوچ، تحقیق، تھیوری اور بنیادی اصول جو کہ کسی بھی شعبے میں دیرپا ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ ڈگری والے افراد کو عموماً ملازمت میں قبولیت، مراعات اور ترقی کے بیشتر مواقع ملتے ہیں کیونکہ معاشرتی اور سرکاری ادارے ابھی تک ڈگری کو ایک معیارِ جواز (Benchmark) تصور کرتے ہیں۔ نیز یونیورسٹی وہ مقام ہے جہاں طلبہ کو نیٹ ورک بنانے کا موقع ملتا ہے، تحقیق اور تخلیے کا ماحول میسر آتا ہے، علمی کانفرنسیں اور بیرونی روابط بنتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جو آن لائن کورسز یا مختصر پروگرامز عموماً فراہم نہیں کرتے۔

یہاں اعداد و شمار اور حقائق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ ڈگری کی ضرورت ختم ہو جائے گی، تو وہ دعویٰ کمزور بنیادوں پر ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈگری جب تک تھیوری پر مبنی صرف نصابی پڑھائی پر منحصر ہو اور عملی مہارت، صنعت کے تقاضے، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے استعمال شامل نہ ہوں، تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے۔

اس تاثر کو کمزور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔ اگر نصاب جدید کرتے جائیں، صنعت کے ساتھ شراکت بڑھائیں، مختصر اسکل کورسز کو ڈگری پروگرامز میں شامل کریں، انٹرنشپ یا عملی پروجیکٹس لازمی ہوں، مالی معاونت کا نظام مضبوط ہو، کیریئر گائیڈنس دستیاب ہو، اور اساتذہ کو جدید تربیت دی جائے تو ڈگری کی قدر پھر سے اعلٰی سطح پر محسوس ہو گی۔ مثال کے طور پر ماڈیولر کورسز متعارف ہوں جن میں ہر ڈگری پروگرام کے اندر چھوٹے چھوٹے اسکل ماڈیولز ہوں، جیسے ڈیٹا سائنس، پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ وغیرہ، تاکہ طلبہ ڈگری پوری کرنے کے بعد فوراً مارکیٹ میں قدم رکھ سکیں۔ اسی طرح یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ انٹرنشپ لازمی قرار دیں، جو طلبہ کو عملی تجربہ دے اور صنعت سے تعلق بنانے میں مدد کرے۔

مالی معاونت کے لئے حکومت کو بجٹ میں اضافہ کرنا ہو گا، خاص طور پر اعلیٰ تعلیم پر، تاکہ اساتذہ اور ادارے تحقیق اور انفراسٹرکچر بہتر بنا سکیں۔ رسائی کے لحاظ سے، دیہی علاقوں اور دور دراز علاقوں کے لئے یونیورسٹیاں یا کالجوں کی شاخیں بڑھائی جائیں، رہائش اور نقل و حمل کی سہولتیں فراہم ہوں، اور خواتین کے لئے مخصوص پروگرامز ہوں تاکہ صنفی مساوات بڑھے۔ والدین اور طلبہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈگری صرف سرٹیفیکیٹ نہیں، بلکہ ایک پورا تجربہ ہے جو علم، نیٹ ورک، معیار اور زندگی بھر سیکھنے کی صلاحیت کو شامل کرتا ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے مستقبل اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب ڈگری اور اسکلز کا امتزاج ہو، نصاب اور عملی تربیت کے تقاضے پورے ہوں، اور ٹیکنالوجی و صنعت کے بدلتے تقاضے نظام تعلیم کا حصہ ہوں۔ اگر یہ تمام عوامل پورے ہوں تو ”ڈگری کی ضرورت نہیں“ کا تاثر کمزور ہو جائے گا، اور ڈگری پاکستان میں اب بھی ایک قیمتی اور ضروری سرمایہ سمجھی جائے گی، نہ صرف روایتی اعتبار سے بلکہ عملی اور معاشی اعتبار سے بھی۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے