بلوچستان کا المیہ: ”ہم نہیں سمجھ پائے اور تمہاری کوئی اہمیت نہیں“ – کریم نواز

شیئر کریں

بلوچستان معدنیاتی ریگولیٹری اتھارٹی بل کو اگست 2023 کی ایک منگل کی تاریخ، یعنی پندرہ اگست کو منظور کیا گیا۔ اسمبلی میں اس کی متفقہ منظوری کے باوجود، اس کے ارد گرد گہرے تنازعات کے زیرِ اثر سوالات موجود رہے۔ سرکاری طور پر اسے شفافیت اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا، تاہم بلوچستان کے مقامی قوم پرست اور سیاسی حلقوں میں اسے شدید تحفظات اور غم و غصے کا سامنا رہا۔ ان کے نزدیک یہ بل خوشحالی کا وعدہ نہیں، بلکہ استحصال کی طویل تاریخ کا ایک نیا باب ہے۔ ان کے تحفظات تاریخی شکایات اور موجودہ سیاسی حقیقتوں کے ایک پیچیدہ تانے بانے سے تشکیل پاتے ہیں، اور وہ اس بل کو با اختیار بنانے کے بجائے بیرونی کنٹرول کو مزید گہرا کرنے کا ایک جدید ذریعہ سمجھتے ہیں۔

اسے بنانے کے عمل میں بلوچستانی عوام سے حقیقی مشاورت نہ ہونے کے برابر رہی، جس کی وجہ سے اسے ایک ایسے نظام کی طرف سے مسلط کردہ اقدام سمجھا جا رہا ہے جس پر ان کا اعتماد نہیں۔ یہ شکوک و شبہات اس خوف سے پیدا ہو رہے ہیں کہ یہ نیا ریگولیٹری فریم ورک صرف قانونی اور بیوروکریٹک پردہ ہے تاکہ قیمتی وسائل۔ سونا، تانبا، گیس یا دیگر۔ کو وفاقی مفادات اور غیر ملکی کمپنیوں کے فائدے کے لیے نکالا جا سکے، جبکہ مقامی آبادیوں کو ماحولیاتی تباہی اور معاشی پس ماندگی کے مسائل سے دوچار چھوڑ دیا جائے۔ ایک خاص طور پر گہرا خدشہ آبادیاتی انجینئرنگ کا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر کان کنی کے منصوبوں کے لیے غیر بلوچ افرادی قوت کی آمد سے بلوچ قومیت کے وجود اور سیاسی اثر کو مستقل نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے اس حالیہ اجلاس میں ایک مضحکہ خیز مگر انتہائی منحوس منظر دیکھنے کو ملا۔ حکمران اشرافیہ یعنی ممبران اسمبلی اور ان کے حامی، نے جو قانونی حیثیت کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں، نے صوبے کے معدنی وسائل سے متعلق بل پیش کیا۔ ایک ایسا اقدام جس کا تنازعہ دوپہر کے سورج کی طرح عیاں ہے۔ لیکن اس سارے واقعے کو صرف ایک سیاسی غلطی نہیں بلکہ ایک المیہ بنانے والی چیز وہ کردار ہیں جو خود کو بلوچستان کی سرزمین، اس کے ساحل و وسائل، اس کے حقوق و مفادات کا محافظ قرار دیتے ہیں۔ یہ خود ساختہ نگہبان، جو عوامی اجتماعات میں آتش بیانی کرتے نہیں تھکتے، اقتدار کے ایوانوں میں اپنی ذمہ داریوں کو بے دردی سے پامال کر گئے۔ بلوچستان اور اس کے عوام کی یہی بدنصیبی ہے کہ جنہیں ان کا محافظ ہونا چاہیے تھا، وہی ان کے حقوق کی پامالی پر خاموش تماشائی نہیں بلکہ کردار اور سہولت کار بن گئے۔

جب ایک رکن اسمبلی کی اس قانونی اور اخلاقی غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی، تو ان کا جواب اتنا لا یعنی تھا کہ اس نے نمائندگی کے پورے تصور کو ہی رسوا کر دیا۔ یہ انگریزی میں لکھا ہوا تھا، ”انہوں نے اعتراف کیا،“ اور میں سمجھ نہیں پایا کہ یہ کیا ہے۔ ”یہ اعتراف۔ جو ایک قانون ساز کی جانب سے بے تکلفی سے کیا گیا۔ صرف ایک فرد کی نا اہلی کا نہیں، بلکہ پورے نظام کی بوسیدگی کا عکاس ہے۔ عوام اداروں پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں جب ان کے اندر بیٹھے لوگوں کو حکمرانی کے بنیادی اصولوں تک کی سمجھ نہیں؟ یا پھر یہ کوئی معصومانہ غلطی نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ ایک ایسا بہانہ جو دور دراز کے مفادات کی خدمت کر رہا ہے؟ یہ جواب صرف ایک فرد کی نا اہلی نہیں، بلکہ پورے نظام کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ بلوچستان کا معدنی خزانہ جو اس کی تقدیر بدل سکتا تھا، آج اس کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے۔ دور بیٹھے طاقتور اس کے وسائل پر قبضہ جما چکے ہیں، اور مقامی عوام کے حقوق کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی ناخواندگی اور جہالت کا نتیجہ ہے؟ یا پھر یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس میں انگریزی زبان کو جان بوجھ کر حائل کیا گیا ہے تاکہ عوامی نمائندے اپنے ہی عوام کے مفادات کے خلاف فیصلے کرتے رہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کے لیے جواب سے زیادہ اہم اس نظام کا تسلسل ہے جو انہیں ان کے وسائل سے محروم رکھنے پر تلا ہوا ہے۔ آج بھی بلوچستان کا المیہ یہی ہے کہ اس کے وسائل پر سب کا حق ہے سوائے مقامی عوام کے۔

جمہوریت کے اس طلسماتی تماشے میں جہاں حکمرانی کا دعویٰ تو موجود ہے مگر اس کی روح مفقود ہے، بلوچستان کی صورت حال ایک ایسے فلسفیانہ تضاد کو جنم دیتی ہے جو ہماری سیاسی نفسیات کی گہری کہانی بیان کرتا ہے۔ یہاں کے منتخب نمائندے جنہیں قوانین بنانے کا مقدس فریضہ سونپا گیا ہے، وہ کھلے عام اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے انگریزی نہ آ نے کی وجہ سے اہم بلوں کو پڑھے بغیر ہی منظوری دے دی۔ یہ محض ذاتی نا اہلی کا اظہار نہیں، بلکہ اس نظام کی بھیانک تصویر ہے جہاں قانون سازی کا مقدس عمل ایک رسمی مہر ثبت کر دینے کی کارروائی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بلوچستان کے انتخابی معجزے تو اور بھی حیرت انگیز ہیں، جہاں یونین کونسل کے انتخابات میں بھی جو ووٹ تعداد درکار ہوتی ہے، اس سے کم ووٹ لے کر کوئی شخص قومی یا صوبائی اسمبلی کا رکن بن جاتا ہے۔ یہ عددی ناممکنات عوامی مرضی کی نہیں، بلکہ پس پردہ کھیلنے والے ہاتھوں کی کارستانیاں ہیں۔ ان نام نہاد نمائندوں کی خاموشی جہالت نہیں، بلکہ اس ڈرامے میں ان کی شراکت داری کی گواہ ہے۔

بلوچستان کا معدنی خزانہ، جو وسیع اور انمول ہے، طویل عرصے سے اس سرزمین کے لیے ایک عذاب بنا ہوا ہے۔ ایک ایسا مقناطیس جو دور بیٹھے طاقتوروں کی لالچ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہاں کا نظام، جو دور دراز کے محلوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے اشاروں پر چلتا ہے، اس سرزمین اور اس کے عوام کو محض ایک کھلونا بنا کر رکھ دیتا ہے۔ عام شہری، جو سیاسی بازیگری سے پاک ہو چکے ہیں، اب بے وقوف نہیں رہے۔ وہ جھوٹے دلائل کے پیچھے چھپے ہوئے اصل مقاصد کو دیکھ رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ”غلطی“ ۔ یہ ذمہ داری سے دستبرداری۔ واقعی ناخواندگی اور سیاسی جہالت کا نتیجہ ہے؟ یا پھر یہ ایک مکّاری فریب کاری اور دھوکے کی چال ہے، جس میں نا اہلی کا بہانہ بنا کر بے پناہ مالی اور سیاسی فوائد حاصل کیے جا رہے ہیں؟ آخر میں، بلوچستان کے عام آدمی کے لیے ان سیاسی چالوں، معاشی نا انصافیوں اور سماجی فریب کاریوں کے جواب کا کوئی خاص مطلب نہیں رہتا نتیجہ تو وہی ہے۔ محرومی کی ایک اور داستان، ان کی شناخت مٹانے کی ایک اور کوشش بلوچستان کی زمین سونا اگلتی ہے مگر اس کے باسی محرومیوں کے اندھیروں میں جی رہے ہیں۔ یہ کوئی قدرتی المیہ نہیں، بلکہ ایک ایسا سیاسی ڈرامہ ہے جس میں وسائل پر قبضے کے لیے عوامی نمائندوں کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جب تک یہ نا انصافی جاری رہے گی، بلوچستان کا سوال بھی موجود رہے گا۔

اس طرح استحصال کی جدلیات اپنی سنگدل حرکت جاری رکھے ہوئے ہے۔ معدنیات سے مالا مال پہاڑ اس مضحکہ خیز تماشا گاہ کے خاموش گواہ بنے کھڑے ہیں، جہاں طنز اور المیہ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کے عوام خود کو قانون کے اس تصور ’نان بائننگ زون یعنی قانونی طور پر لاگو نہ ہونے والا‘ میں پھنسا ہوا پاتے ہیں، جہاں ان کے وسائل دور دراز کی خوشحالی کو ایندھن فراہم کرتے ہیں جبکہ ان کا سیاسی وجود محض ایک سایہ بن کر رہ گیا ہے۔ یہ محض خراب حکمرانی نہیں بلکہ ساختی تشدد کا منطقی نتیجہ ہے جو قانون سازوں کو ناخواندہ ربر سٹامپ میں تبدیل کر دیتا ہے اور شہریوں کو اپنی ہی سرزمین پر موجود ذہنی طور پر غیر متوازن بنا دیتا ہے۔ مزید برآں، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بل ایک بہانہ ہے تاکہ وسائل سے مالا مال علاقوں میں وفاقی سیکیورٹی فورسز اپنی موجودگی مضبوط کر سکیں۔ سرمایہ کاریوں کے تحفظ کے نام پر۔ اور اس طرح زمینوں پر قبضے کو آسان بنایا جا سکے اور احتجاج کو دبایا جا سکے۔ بالآخر، ان حلقوں کے نزدیک یہ ایک سنگین موقع کی ضرب ہے : اس کے بجائے کہ وسائل پر مکمل صوبائی خودمختاری بحال کی جاتی، یہ بل ایک دھوکہ سمجھا جا رہا ہے جس سے اسلام آباد میں طاقت کو مرتکز کرنے کی پالیسی جاری رہے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ان کے قدموں تلے دفن دولت باہر چلی جائے گی، اور پیچھے رہ جائیں گی تو مایوسی، محرومی اور نا انصافی کی گہری چھاپ۔

آخری المیہ یہ ہے کہ جو انگریزی قانون پڑھ نہیں سکتے، وہ اس کے سنہری فوائد ضرور حاصل کریں گے، جبکہ جو اس نا انصافی کو پڑھ سکتے ہیں، وہ اسے روکنے سے قاصر ہیں۔ اس نیکروپولیٹیکل کیلکولس کے بانی فرانسیسی فلسفی آکیل مبیمبے کے نظریے میں یہ تصور پیش کیا قومی سلامتی کے لیے یہ نقصان (انسانی جانوں کا) قابلِ قبول ہے ایسے میں، بلوچستان کی دولت اس کا عذاب بن جاتی ہے، اس کے نمائندے اس کے غدار بن جاتے ہیں، اور اس کے عوام پاکستان کی سیاسی سوچ میں زندہ لاشوں کی مانند ہو جاتے ہیں۔ جنہیں صرف نکالنے کے لیے وسائل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، سننے کے لیے شہریوں کے طور پر کبھی نہیں۔

انگریزی زبان یہاں ہتھیار اور بہانے دونوں کا کام کرتی ہے۔ لسانی سامراجیت جو قانون کو ناقابل فہم بنا دیتی ہے، قانونی ناجائزیت کے لیے بہترین پردہ فراہم کرتی ہے۔ جو بات ’ہم نہیں سمجھ پائے‘ سے شروع ہوتی ہے، وہ ’تمہاری کوئی اہمیت نہیں‘ پر ختم ہوتی ہے۔ اس استحصال کے تھیٹر میں، پردہ کبھی نہیں گرتا، ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوتا، اور تماشائی۔ بلوچستان کے عوام کو اپنی سیٹوں سے کبھی اٹھنے کی اجازت نہیں ملتی۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے