قانون و انصاف کا مضبوط اور غیر جانب دار نظام ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس نظام کو بہتر بنائے بغیر عوامی اعتماد بحال نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی ملک میں کوئی مستقل سیاسی اور معاشی استحکام آ سکتا ہے۔ وطن عزیز میں سیاسی عدم استحکام ہی اس وقت کے سیاسی مقدمات اور ان کے ریڈی میڈ فیصلوں میں نئے نئے شگوفوں اور پھلجھڑیوں پر مبنی نکات اور نئی آئینی تشریحات کا مرہون منت ہے۔ جہاں وکیلوں کو دلائل دینے سے منع کر کے جج صاحبان خود ہی وکیل بنے ہوتے ہیں اور اپنے منصب کے تقاضے کو ایک سائیڈ پر رکھ کر وکیل کے حصے کی جرح بھی خود فرما رہے ہوتے ہیں یعنی اس وقت کی عدالتوں میں صورتحال کچھ یوں ہے کہ:
تمہی وکیل، تمہی مدعی، تمہی منصف
مجھے یقین ہے میرا قصور نکلے گا
ایک مشہور کہاوت ہے کہ ”انصاف میں تاخیر انصاف کے انکار کے مترادف ہے۔“ یہ جملہ ہماری عدلیہ پر صادق آتا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ کے انصاف کے معیار کو عالمی سطح پر ناپنے کے لیے ”ورلڈ جسٹس پروجیکٹ“ کا ”رول آف لا انڈیکس“ ایک معتبر حوالہ ہے جس کے تحت عالمی درجہ بندی میں ہماری عدالتوں کا انصاف کے معیار اور فیصلوں میں تاخیر کے لحاظ سے دنیا کے 142 ممالک میں سے 130 واں نمبر ہے جو اپنی جگہ پہ ہمارے عدالتی نظام کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
ایک مہذب اور پُرامن معاشرے کی بنیاد انصاف کی فراہمی پر ہوتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا فرمان ہے کہ ”کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر نا انصافی کا نظام نہیں چل سکتا“ ۔
اس کا مطلب ہے کہ نا انصافی وہ معاشرتی ظلم ہے جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے اور جب معاشرے میں دو طبقوں یعنی امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون اور ضابطے ہوں تو عدلیہ کی موجودگی کی ضرورت ہی کیا ہے۔ جہاں دو فریقین کے مابین ظالم دولت مند ہو جبکہ مظلوم ایک عام سا ریڑھی بان ہو ایسے مقامات پر بڑے سے بڑے مقدمے میں غریبوں پر دیت کے نام پر صلح کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کراچی کی سڑک پر ہونے والے ایک روڈ ایکسیڈنٹ کو کافی شہرت ملی۔ یہ خوفناک واقعہ بھی ہمارے دیس کے اندھے قانون اور نظام انصاف کے چہرے پر ایک بد نما داغ ہے جب ایک خاتون کی تیز رفتار ڈرائیونگ سے بائیک سوار ایک بزرگ شہری اپنی بیٹی سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی ہمارے ملک میں نافذ نام نہاد قانون نے ہمیشہ کی طرح قصور وار خاتون کو اس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے کس طرح بچایا یہ سب نے دیکھا کہ کیسے اس وقت بھی دیت کے قانون کے تحت دباؤ کے ذریعے متاثرہ فیملی کو دیت کی رقم ادا کر کے معاملے کو دبا دیا گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ جب دیت کا قانون کسی بھی فریق پر جبرا نافذ نہیں کیا جا سکتا تو اکثر غریب لوگ جو کسی شخص کی لاپرواہی یا غلطی کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا جن کے ساتھ کوئی ظلم ہوا ہوتا ہے انہی پہ فریق مخالف کی جانب سے صلح کے لئے دباؤ کیوں ڈالا جاتا ہے۔ اگر دونوں فریقین ہی سماجی برابری کی سطح پر ایک جیسی حیثیت رکھتے ہوں اور دونوں ہی برابر لیول کے دولت مند اور متمول خاندان سے تعلق رکھتے ہوں تو دیت کے قانون کو نافذ کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے، کیونکہ اس صورت میں ظلم کا شکار ہونے والا شخص بھی صاحب ثروت ہوتا ہے اور دیت لینے سے انکاری ہوتا ہے وہ قصور وار کو عدالت کے ذریعے سزا دلوانا چاہتا ہے چاہے اس کے لئے اسے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔
جب انصاف ہر شخص کو بلا تفریق، بروقت اور مکمل طور پر ملے، تب ہی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں عدالتی اور قانونی نظام عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ اس لئے ہمارا معاشرہ بے سکونی اور انتشار کی ایک مسلسل کیفیت کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کی عدالتوں میں ہزاروں مقدمات کئی سالوں سے زیرِ التوا ہیں۔ دیوانی و فوجداری مقدمات کی لمبی تاریخیں، وکلاء کی ہڑتالیں اور بھاری بھرکم فیسیں، اور عدالتی عملے کی کمی انصاف کی فراہمی کو دیوانے کا خواب بنا دیتی ہیں
اکثر مقدمات اتنے طویل وقت تک چلتے ہیں کہ جسے دائر تو دادا کرتا ہے مگر بدقسمتی سے انصاف لینے کے لئے خود موجود نہیں ہوتا کیونکہ جب سالوں چلنے والے مقدمے کا فیصلہ آتا ہے تو وہ بے چارہ انصاف کی تلاش میں عدالتوں کے دھکے کھا کھا کر اور طویل عدالتی کارروائیوں کی پیشیاں بھگتانے اور اپنی طبعی عمر پوری کر لینے کے بعد دنیا سے ہی رخصت ہو چکا ہوتا ہے اور بالآخر برسوں کیس کی پیروی کرنے کے بعد کہیں جا کر خدا خدا کرتے، اس کے پوتے کے ہاتھ میں فیصلے کی کاپی آ ہی جاتی ہے جس سے وہ مطمئن ہو نہ ہو کم سے کم مزید انتظار کی کلفت میں مبتلا ہونے سے بچ ہی جاتا ہے۔ اس طرح بہت سے لوگ عدالتی نظام کی سست رفتاری کے ممکنہ اندیشوں کے باعث عدالتی دروازے پر دستک ہی نہیں دیتے کہ جہاں سے انصاف ملنے کی توقع ہی نہ ہو وہاں اتنا پیسہ لگانے کی یا خود کو تھکانے کی کیا ضرورت ہے۔
پاکستان کے عدالتی نظام میں بہت زیادہ اور فوری اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ادارہ بھی عوام کو انصاف دینے سے زیادہ اس ملک کی بے لگام اشرافیہ کو بچانے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے بیٹھا ہے۔ اگر لوگوں کا اعتماد اس ادارے پر نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے تو اس کی بہت سی جائز وجوہات موجود ہیں۔ اکثر ہم معاشرتی بے حسی کے شکار لوگوں کو احاطہ عدالت میں ہی ظلم کا شکار ہوتے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کچھ واقعات میں لوگ انصاف کی عدم فراہمی کی شکایت کا شکار ہو کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ فریق مخالف اگر اثر و رسوخ والا ہے تو وہ لے دے کر اپنا معاملہ سلجھا لے گا اور میرے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا۔ اس لئے وہ قانونی راستے سے ہٹ کر اپنا بدلہ خود لینے کی کوشش میں خود کو ہی نقصان پہنچا بیٹھتا ہے۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے آصف اقبال نامی ایک شخص نے لاہور ہائیکورٹ کے باہر خود سوزی کی جو کہ ایک کمپنی کی طرف ملازمت سے نکالے گئے تھے۔ آصف نے فروری 2025 کو لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں خود کو آگ لگا لی تھی۔ یہ اقدام انہوں نے اپنی برطرفی کے خلاف نو سال سے جاری قانونی جنگ اور انصاف میں تاخیر کے خلاف احتجاجاً کیا۔ یہ عدالتی بے حسی اور انصاف میں تاخیر کا محض ایک واقعہ ہے جبکہ عدالتی تاریخ ایسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔
شاہ زیب قتل کیس ہو یا پھر سیالکوٹ کے دو بھائیوں منیب اور مغیث کا ایک وحشی ہجوم کے ہاتھوں بہیمانہ قتل، مشعال خان ہو یا پھر سلیم مسیح، سرفراز شاہ نامی نوجوان کا رینجر اہلکاروں کے ہاتھوں جان گنوانا ہو یا ماڈل ٹاؤن قتل کیس، تقریباً سبھی کیسز میں تمام ملزمان جرم ثابت ہونے کے باوجود بھی آزاد پھر رہے ہیں اور عدالتوں میں ہونے والے اندھے انصاف کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہ عدالتی فیصلوں اور انصاف کی عدم فراہمی کی چند مثالیں ہیں ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے واقعات ہیں جن میں عام آدمی کو انصاف تک رسائی نہیں ہوتی۔
گزشتہ ایک دو سالوں سے تو عدالتوں میں خاص طور سے سیاسی مقدمات میں جو منظر دیکھنے میں آیا ہے وہ دنیا دیکھ کر ہنستی ہے اور ہمارے عدالتی نظام کو محض ایک کٹھ پُتلی کی طرح سمجھتی اور دیکھتی ہے جس کی ڈور کہیں اور سے ہلائی جاتی ہے۔
ماضی قریب میں ایک جج صاحب کو نہ جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے عدالت میں ہونے والی کارروائی کو مکمل طور پر براہ راست دکھانے کے رواج کا آغاز کیا جس میں ان ہی کی عدالت میں جاری پروسیڈنگز میں ان کا ایک بغض اور تعصب سب نے دیکھا۔ تازہ صورت حال کا جائزہ بھی کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ معزز جج صاحبان کے تازہ تازہ بیانات کی صورت میں ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ جس ووٹ کو عزت دو کے نعرے بلند کیے جاتے تھے اور آج سے پہلے یہ قوم ووٹ کو محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ اپنا آئینی اور قانونی حق سمجھتی تھی مگر عدالت کے سنجیدہ اور با وقار ماحول کو بھی اپنی گفتگو سے محفلِ زعفران بنانے کی قدرت رکھنے والے جج صاحبان کے معزز گل دستے میں سے کسی ایک نے یہ گل فشانی کی ہے کہ ووٹ کاسٹ کرنا عوام کا بنیادی حق بالکل بھی نہیں ہے۔
شاید ان کی نظر میں روٹی کپڑا اور مکان ہی وہ بنیادی حقوق ہیں جن پر ایک انسان کی زندگی کا دار و مدار ہے۔ اس سوچ کے تحت لوگوں کے دیگر بہت سے بنیادی حقوق کو سلب کر کے ایک انسان کو اس کو محدود خوابوں میں جینے کا منشور دینے کی بے ڈھب کوشش کی گئی ہے تاکہ وہ محض اسی دائرے میں گھومتے گھومتے اپنی زندگیاں صرف کر دیں اور کنویں کے مینڈک کی طرح اپنی زندگیاں بس اسی دوڑ دھوپ میں گزار دیں۔ ان کے علاوہ نہ پانی مانگیں نہ تعلیم مانگیں نہ صحت کی سہولیات اور نہ ہی نوکریاں مانگیں نہ سوچ کی آزادی مانگیں نہ شعور کے خواب دیکھیں کیونکہ ووٹ کا تعلق شعور اور سوچ کی آزادی سے ہے۔ اس لئے ہماری عدالتوں میں بیٹھے جج صاحبان اس کو بنیادی حقوق کی فہرست میں شامل کرنے سے انکاری ہیں اب ایسے مشکل ماحول میں جہاں کے قاضی اور منصف دلائل سننے کی بجائے دلائل دینے پہ مجبور ہو گئے ہوں یا کر دیے گئے ہوں تو وہ انصاف کے ترازو میں کیسے توازن رکھ پائیں گے؟ جنہیں اس بات کا ادراک ہی نہ ہو کہ انصاف کی جس کرسی پر وہ بیٹھے ہیں وہ ان کے پاس اللّٰہ کی دی ہوئی ایک امانت ہے ان کی ذرا سی بھی لاپرواہی یا غفلت سے دیا گیا فیصلہ کسی مظلوم کو ناحق سزا بھی دلوا سکتا ہے اور اس کی زندگی کو تباہی کے غار میں دھکیل سکتا ہے۔ اس صورت میں روز محشر جواب بھی کسی اور کو نہیں بلکہ خود آپ ہی کو دینا ہو گا کیونکہ اللّٰہ نے آپ کو انصاف کی کرسی پر بٹھایا ہے تو آپ سے اس بارے میں باز پرس بھی ضرور ہو گی کہ فلاں موقع پر فلاں مظلوم کی داد رسی کیوں نہ کی۔
نظام انصاف کے وقار اور اس پر عوامی اعتماد کی بحالی کے لئے بینچ اور بار کو جلد مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے اس سے قبل کہ بہت دیر ہو چکی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

