کامل ہونا کیا ہے، کامیابی کیا ہے؟ اِن کی کوئی جامع اور مستند تعریف موجود نہیں ہے۔ کوئی بھی انسان مکمل طور پر کامل نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں اور ان سے سیکھتے ہیں اسی طرح کوئی بھی شخص ہمیشہ ناکام نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر انسان کچھ نہ کچھ کرتا ہے، پہلا قدم اٹھاتا ہے، جدوجہد کرتا ہے اور اپنے کام کو بہترین طور پر کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرتا ہے۔ بس یہی کامیابی ہے۔
دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں جو ناممکن ہو یا ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا کوئی حل موجود نہ ہو، یہ سب ہماری سوچ اور دیکھنے کے زاویے پر منحصر ہے، ایک سوچ، ایک خیال آنے کی دیر ہے اور مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ خود کو مشکل سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کچھ اقدامات کریں تاکہ ہم خود کو آنے والے وقت کے لیے تیار کر سکیں کیونکہ تبدیلی رونما ہونے اور اس کو عادت بننے میں وقت لگتا ہے۔
سب سے اہم کام جو ہم کر سکتے ہیں وہ خود میں مثبت تبدیلی لانا ہے اس کے لیے ہمیں ہمیشہ اپنی سوچ کو مثبت رکھنا چاہیے اور مسئلے کے ہر پہلو پر غور کرنا چاہیے۔ جب ہم سکون و اطمینان سے حالات کا جائزہ لیتے ہیں اور اپنے حواسوں کو قابو میں رکھتے ہیں تو کئی بڑے بڑے مسائل کا بہت آسانی سے مقابلہ کر پاتے ہیں اور وہ ہمیں ذہنی و جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچا پاتے۔ اس کے علاوہ پُر سکون دماغ اور جذبات پر قابو ہونے اور مثبت سوچ کی بدولت کئی نئی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں اور ہمیں متبادل راستے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں، ہمارے لیے نئے روشن امکانات پیدا ہوتے ہیں علاوہ ازیں نئے مواقع کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس منفی سوچ ہمیشہ منفی نتائج ہی پیدا کرے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ہم وہی ہیں جیسی ہماری سوچ ہوتی ہے۔
حالات جیسے بھی ہوں ہمیں کبھی بھی ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ امید ہی زندگی ہے یاد رکھیں کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا کوئی حل موجود نہ ہو۔ جب ہم ہمت ہار دیتے ہیں تبھی آگے بڑھنے کی چاہت ختم ہو جاتی ہے۔ ایک ننھا سا دیا ہی روشنی بکھیرنے کے لیے کافی ہوتا ہے لہذا اپنی سوچ کو اپنے اختیار میں رکھیں اور پُرامید رہیں۔
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ وہ حاصل نہیں کر پاتے جو آپ چاہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کا مقصد یا ہدف واضح نہیں ہوتا اور آپ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اُس طرح کی محنت نہیں کر پاتے جس طرح کرنی چاہیے ہوتی ہے یا اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں دے پاتے کیونکہ آپ نے خود کو کہیں اور الجھایا ہوتا ہے یا کئی محاذوں پر تنہا لڑنے کی وجہ سے آپ کا خواب نظرانداز ہو رہا ہوتا ہے یا آپ جان بوجھ کر پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہر خواب کچھ نہ کچھ قربانی مانگتا ہے۔
وکٹر فرینکل نے اپنی زندگی کے تجربات و تحقیق سے یہ یہی نتیجہ اخذ کیا کہ جن لوگوں کا مقصدِ زندگی واضح ہوتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتے اور اُس کے لیے وہ ہر قسم کے حالات سے لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ دنیا میں جتنے بھی لوگ آج تک کامیاب ہوئے ہیں ان کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد تھا یا خواب تھے جن کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی نئی راہیں تلاش کی۔
ہماری ہر مشکل کا حل ہماری سوچ میں پنہاں ہے۔ اگر ہم سوچیں کہ یہ کام ہو سکتا ہے تو ہم کر گزریں گے اسی طرح اگر مسائل سے گھبرا جائیں تو کبھی کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ہر کام محنت مانگتا ہے اور محنت کے بغیر ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے لہذا سب سے پہلے اپنی سوچ پر کام کریں پھر ہمت پکڑیں، اپنے اعصاب کو مضبوط رکھیں۔ پریشانیاں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں یہی زندگی کا نظام ہے۔ بس خود کو منفی، مایوس کن سوچوں کے حصار سے باہر نکالیں۔ اپنے آپ کو اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، صحیح وقت آنے کے انتظار میں نہ بیٹھیے رہیں، کر گزریں، اپنی کی گئی غلطی کو نہ دہرائیں بلکہ تجربات سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھتے جائیں۔ اِسی میں کامیابی کا راز ہے۔ebook




