پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے ہاں جمہوریت کمزور ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم جمہوریت سے زیادہ اپنے پسندیدہ سیاسی رہنماؤں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں آئین کی بالادستی چاہیے، مگر صرف اس وقت تک جب تک آئین ہمارے سیاسی مفادات سے متصادم نہ ہو۔ ہمیں قانون کی حکمرانی پسند ہے، مگر قانون کی گرفت اپنے پسندیدہ رہنما تک پہنچ جائے تو وہی قانون سیاسی انتقام بن جاتا ہے۔ ہمیں شفاف انتخابات چاہئیں، مگر نتائج ہماری توقعات کے خلاف آ جائیں تو پورا انتخابی نظام مشکوک قرار پاتا ہے۔ ہم انصاف کے علمبردار ہیں، لیکن انصاف کا ترازو اپنے اور مخالف کے لیے الگ الگ رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے دوہرے سیاسی معیار کے ساتھ جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی اور ریاستی ادارے کیسے مستحکم ہوں گے؟
ہماری سیاسی شناختیں اس قدر مضبوط ہو چکی ہیں کہ قومی شناخت اکثر ان کے پیچھے دب جاتی ہے۔ کوئی جیالا ہے، کوئی متوالا، کوئی لیگی ہے اور کوئی کھلاڑی۔ ہر شخص اپنے رہنما کی حمایت میں دلائل کے انبار لگا دیتا ہے اور مخالف قیادت کی خامیاں گنوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ مگر اس سارے سیاسی شور میں ایک بنیادی سوال مسلسل نظرانداز ہو رہا ہے: کیا یہاں کوئی پاکستانی بھی ہے؟ کیا پاکستان کا مفاد کسی ایک جماعت، خاندان یا سیاسی شخصیت کے مفاد سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے؟ ہم سیاسی جماعتوں کے لیے لڑنے، تعلقات خراب کرنے اور ایک دوسرے کو غدار قرار دینے تک پہنچ جاتے ہیں، مگر قومی مسائل کے حل کے لیے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے؟
سیاسی جماعتوں سے وابستگی ہر شہری کا حق ہے، لیکن پاکستان سے وفاداری کسی جماعت، شخصیت یا حکومت کی غیر مشروط حمایت کا نام نہیں۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی اختلاف ایک فطری اور ضروری عمل ہے۔ اختلاف رائے جمہوریت کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ اسے زندہ رکھتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف دشمنی میں بدل جائے، سیاسی وابستگی اندھی عقیدت اختیار کر لے اور رہنما کی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھ لیا جائے۔ شخصیت پرستی کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ یہ انسان سے سوال کرنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ پھر سیاسی فیصلوں کا معیار آئین، قانون، کارکردگی یا عوامی مفاد نہیں رہتا، بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ کس کے حق میں اور کس کے خلاف ہوا ہے۔ اپنے رہنما کی غلطی حکمتِ عملی بن جاتی ہے اور مخالف کی وہی غلطی قومی جرم قرار پاتی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان کے سیاسی مسائل صرف عوام کے رویوں کا نتیجہ نہیں۔ سیاسی قیادت، ریاستی اداروں اور طاقت کے مختلف مراکز نے بھی جمہوری روایات کو مضبوط بنانے میں ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ آئینی بالادستی، شفاف احتساب، انتخابی ساکھ اور قانون کے مساوی نفاذ کے معاملات میں ہماری تاریخ کئی تلخ سوالات چھوڑتی ہے۔ لیکن ان کمزوریوں کی اصلاح کا راستہ کسی نئے سیاسی مسیحا کی تلاش نہیں، بلکہ ایسے اداروں کی تعمیر ہے جو شخصیات کے بدلنے سے کمزور نہ ہوں۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں قانون طاقتور کے سامنے بے بس نہ ہو، انصاف سیاسی وابستگی دیکھ کر نہ ملے اور ریاستی اداروں کی وفاداری افراد کے بجائے آئین سے ہو۔
ہمارے ہاں ایک اور خطرناک رجحان ریاست، حکومت اور سیاسی جماعت کے درمیان فرق مٹا دینا ہے۔ حکومت پر تنقید کو ریاست دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ بعض اوقات حکومت کی مخالفت میں ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف بھی غیر ذمہ دارانہ زبان استعمال ہونے لگتی ہے۔ دونوں رویے غلط ہیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرتی اور کھوتی رہتی ہیں، مگر ریاست ایک مستقل قومی حقیقت ہے۔ ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھانا شہریوں کا آئینی حق ہے، لیکن اس حق کے ساتھ دلیل، شواہد اور ذمہ داری بھی ضروری ہیں۔ حب الوطنی کا مطلب خاموشی یا ہر حکومتی فیصلے کی حمایت نہیں، بلکہ قومی مفاد میں درست فیصلوں کی تائید اور غلط پالیسیوں کی اصلاح کے لیے آئینی و جمہوری جدوجہد ہے۔
ہم اکثر پاکستان کی ترقی، قومی یکجہتی اور اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں، مگر اپنے سیاسی رویوں میں انہی مقاصد کی نفی کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالتیں آزاد ہوں، لیکن فیصلہ اپنے پسندیدہ رہنما کے خلاف آئے تو عدالتوں کی ساکھ پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ ہم بلا امتیاز احتساب چاہتے ہیں، مگر احتساب کا رخ اپنی جماعت کی طرف مڑ جائے تو اسے انتقام قرار دیتے ہیں۔ ہم پارلیمان کی بالادستی کے دعوے کرتے ہیں، مگر مخالفین کی اکثریت کو تسلیم کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ گویا ہمیں اصولوں کی بالادستی نہیں، اپنے سیاسی مفادات کی بالادستی درکار ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو نظام کی اصلاح کے بجائے اقتدار کی مسلسل کشمکش کو جنم دیتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی نظام بدلنا چاہتے ہیں یا صرف نظام پر اپنے پسندیدہ لوگوں کا قبضہ دیکھنا چاہتے ہیں؟ اگر ہمارا مقصد محض چہروں کی تبدیلی ہے تو ہر انتخاب کے بعد امیدوں اور مایوسیوں کا وہی سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک جماعت اقتدار میں آئے گی، دوسری احتجاج کرے گی، پھر کردار بدل جائیں گے مگر سیاسی رویے وہی رہیں گے۔ عوام اپنے مسائل کے حل کے منتظر رہیں گے اور سیاسی قیادت اقتدار کی کشمکش میں مصروف رہے گی۔ اس مسلسل محاذ آرائی کی قیمت ملک کی معیشت، کمزور ادارے اور عام شہری ادا کرتے رہیں گے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے یا اپنی جماعت کی کامیابی کا جشن منانے کا نام نہیں، بلکہ اختلاف برداشت کرنے، شکست تسلیم کرنے، قانون کا احترام کرنے اور اقتدار کو عوامی خدمت کی ذمہ داری سمجھنے کا نام ہے۔
ایک باشعور سیاسی کارکن کی اصل پہچان اپنے رہنما کے حق میں نعرے لگانا نہیں، بلکہ اس سے سوال کرنے کا حوصلہ رکھنا ہے۔ جو کارکن اپنی قیادت کی ہر غلطی کا دفاع کرتا ہے، وہ بظاہر وفاداری نبھاتا ہے، مگر درحقیقت اصلاح کے راستے بند کر دیتا ہے۔ سیاسی شعور کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے پسندیدہ رہنما کی اچھی پالیسی کی حمایت کریں، غلط فیصلے پر تنقید کریں اور مخالف جماعت کے درست اقدام کو بھی تسلیم کرنے کی اخلاقی جرات رکھیں۔ پاکستان کو ایسے شہریوں کی ضرورت ہے جو حکومت سے کارکردگی کا حساب مانگیں، اپوزیشن سے ذمہ دارانہ کردار کا تقاضا کریں اور ریاستی اداروں سے آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کی توقع رکھیں۔
قومی یکجہتی کا مطلب سیاسی اختلافات کا خاتمہ نہیں۔ ایک مضبوط پاکستان وہ نہیں ہو گا جہاں سب ایک ہی جماعت کو ووٹ دیں یا ایک ہی رہنما کی تعریف کریں۔ مضبوط پاکستان وہ ہو گا جہاں مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے شہری ایک دوسرے کے جمہوری حقوق تسلیم کریں اور آئین کی بالادستی پر اتفاق رکھیں۔ سیاسی شخصیات آتی جاتی رہیں گی، حکومتیں بنتی اور ختم ہوتی رہیں گی، مگر پاکستان نے قائم رہنا ہے۔ اس کے آئین، اداروں، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو کسی ایک سیاسی شخصیت کی کامیابی یا ناکامی کا یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔
اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہماری جماعت، ہمارا رہنما اور ہمارے اصول آمنے سامنے کھڑے ہوں۔ اگر ہم ہر بار شخصیت کو اصولوں پر ترجیح دیں گے تو پھر نظام کی خرابی کا شکوہ کرنے سے پہلے اپنے سیاسی رویوں کا احتساب کرنا ہو گا۔ پاکستان کو سیاسی عقیدت مندوں سے زیادہ باشعور شہریوں کی ضرورت ہے۔ ایسے شہری جو رہنماؤں کو جواب دہ سمجھیں، مقدس نہیں؛ جو جماعتوں کو سیاسی نمائندگی کا ذریعہ سمجھیں، اپنی شناخت کا واحد حوالہ نہیں؛ اور جو پاکستان کو کسی شخصیت کی جاگیر نہیں، اپنے اور آنے والی نسلوں کا مشترکہ وطن سمجھیں۔
ہم جیالے بھی رہیں، متوالے بھی، لیگی بھی اور کھلاڑی بھی۔ لیکن ان سب شناختوں سے پہلے اور ان سب سے بڑھ کر ہمیں پاکستانی ہونا ہو گا۔ کیونکہ سیاسی جماعتیں پاکستان کے لیے ہیں، پاکستان کسی سیاسی جماعت کے لیے نہیں۔


