تیمرگرہ: مقامی ادباء کی 4 نئی کتب کی رونمائی؛ معاشرتی اصلاح کیلیے ‘طرحی مشاعروں’ کے انعقاد کا فیصلہ
دیر پختو ادبی کاروان کے زیرِ اہتمام ڈسٹرکٹ بار میں پروقار تقریب، نامور دانشوروں اور شعراء کی کثیر تعداد میں شرکت
تیمرگرہ:
دیر پختو ادبی کاروان کے زیرِ اہتمام ڈسٹرکٹ یوتھ آفس کے تعاون سے ڈسٹرکٹ بار تیمرگرہ کے کانفرنس ہال میں مقامی ادباء کی چار نئی کتب کی رونمائی اور ایک پروقار محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پرشکوہ ادبی تقریب کی صدارت معروف شخصیت ڈاکٹر سمندر یوسفزئی نے کی، جبکہ ڈاکٹر اقبال شاکر تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
تقریب کے پہلے حصے میں مقامی مصنفین کی چار نئی تصانیف کی رونمائی کی گئی۔ ان کتب میں لطیف سحر کی کتاب ”د سماج رنگونہ“، حزب اللہ بہار کی ”بہارونہ“ اور نصیب روان طالب کی دو کتب ”وزقند“ اور سفرنامہ ”دیر نہ تر ملتانہ“ شامل ہیں۔

اس موقع پر علم و ادب سے وابستہ شخصیات بخاری ایڈووکیٹ، ڈاکٹر رضوان اللہ شمال، مسلم خان وصال، علی حیدر کوثر، سردار علی شیخ، طیب حیران، برھان الدین ناصح، ڈاکٹر عبد الرحمن روھی، ڈاکٹر حیدر حسین افغان، اور امیر خان موسیٰ خیل سمیت دیگر نے ان کتب پر تفصیلی و تنقیدی جائزہ پیش کیا اور مصنفین کی ادبی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
کتب رونمائی کے فوراً بعد ایک شاندار آزاد مشاعرے کا انعقاد ہوا جس میں تنظیم کے سرپرستِ اعلیٰ کفایت یار بخاری، ضلعی صدر طاہر الطاف سرحدی، علی حیدر کوثر، سردار علی سردار اور طیب حیران سمیت متعدد نامور شعراء کرام نے اپنا تازہ کلام پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد سمیٹی۔ اس پروقار تقریب میں یوتھ آفیسر لوئر دیر جہانزیب پاشا اور ڈسٹرکٹ بار تیمرگرہ کے سابق صدور شاہ فیصل ایڈووکیٹ اور جہان بہادر ایڈووکیٹ نے خصوصی طور پر شرکت کی اور ادبی سرگرمیوں کو سراہا۔
تقریب کے اختتام پر دیر پختو ادبی کاروان کے ضلعی صدر طاہر الطاف سرحدی اور سرپرستِ اعلیٰ کفایت یار بخاری ایڈووکیٹ نے شرکاء اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ علاقے میں علم و ادب کے فروغ کے لیے ایسی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔
اس موقع پر انہوں نے تنظیم کی جانب سے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب آزاد مشاعروں کے بعد باقاعدہ ‘طرحی مشاعروں’ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد محض اہل ذوق کی ادبی تسکین نہیں، بلکہ اس کے ذریعے معاشرتی مسائل، سماجی برائیوں اور فرسودہ رسوم و رواج کی نشاندہی کر کے معاشرے کی اصلاح میں اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔




