سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ایڈجوڈیکیشن کیسز کا بیک لاگ 98 فیصد نمٹاتے ہوئے کمپنیز ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزیوں پر 573 مقدمات پر فیصلے جاری کرتے ہوئے مجموعی طور پر 4.73 ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے ہیں۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو کی تعیناتی کے بعد کمیشن کے شعبہ ایڈجوڈیکیشن کو مزید مستحکم کیا گیا۔ شعبے نے 969 ایڈجوڈیکیشن ریکمنڈیشن نوٹسز میں سے 953 کا جائزہ مکمل کیا اور 573 کیسز میں کارروائی مکمل کر کے فیصلے جاری کیے۔ قانونی کارروائی شروع کرنے سے متعلق باقی سفارشات بھی بہتر نگرانی اور مؤثر کیس مینجمنٹ کے ذریعے نمٹادی گئی ہیں، جس کے بعد شعبہ ایڈجوڈیکیشن کا تمام بیک لاگ ختم ہوگیا ہے۔
یہ جرمانے لسٹڈ، ان لسٹڈ اور نجی کمپنیوں کے علاوہ سیکیورٹیز بروکرز، انشورنس کمپنیوں اور نان بینکنگ فنانس کمپنیوں پر کمپنیز ایکٹ، سیکیورٹیز ایکٹ اور دیگر قوانین اور ریگولیٹری ضابطوں کی خلاف ورزیوں پر عائد کیے گئے۔ سرکاری ملکیتی کمپنیوں کی جانب سے قابلِ اطلاق کارپوریٹ اور ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزیوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور اس ضمن میں 117 فیصلے جاری کیے گئے۔
کیسز میں کمپنیز ایکٹ، سیکیورٹیز قوانین اور انسدادِ منی لانڈرنگ کے ضابطہ جاتی فریم ورک کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔
اہم خلاف ورزیوں میں مالیاتی گوشوارے اور قانونی معلومات جمع نہ کرانا، سالانہ اجلاس بروقت منعقد نہ کرنا، لازمی معلومات ظاہر نہ کرنا، مالیاتی رپورٹنگ اور کارپوریٹ گورننس کے تقاضوں پر عمل نہ کرنا، اور خواتین اور آزاد ڈائریکٹرز کی عدم تعیناتی شامل تھی۔
ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ ایڈجوڈیکیشن کے تمام معاملات میں بروقت، شفاف اور شواہد پر مبنی فیصلوں کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر کیس مینجمنٹ کے ذریعے زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانا، قانون کی عمل داری یقینی بنانا، کمپنیوں میں کمپلائنس کے کلچر کو فروغ دینا اور سرمایہ کاروں، بالخصوص اقلیتی حصہ داران، کے مفادات کا تحفظ کمیشن کی اولین ترجیحات ہیں۔




