گھر کے باغیچے سے وائکنگ دور کا 700 نوادرات پر مشتمل خزانہ برآمد

شیئر کریں

کوپن ہیگن: ڈنمارک کے علاقے رِینِلڈ میں ایک گھر کے باغیچے سے وائکنگ دور کا اب تک کا سب سے بڑا چاندی کا خزانہ دریافت ہوا ہے، جس میں تقریباً 700 قیمتی اشیاء شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر گھر کے مالک کو یہ ہزاروں سال پرانا خزانہ نیا ٹائل والا ٹیرس بنانے کے لیے گھاس، پتھر اور بجری ہٹاتے ہوئے صرف آدھے گھنٹے کی کھدائی میں مل گیا۔

خزانے میں چاندی کے کنگن، سلاخیں، سکے، چاندی کے کاٹے گئے ٹکڑے اور دیگر مختلف نوادرات شامل ہیں۔ ان میں ایک انتہائی چھوٹا ہتھوڑا بھی موجود ہے، جسے ماہرین ابتدائی طور پر نورس دیوتا تھور سے منسوب کر رہے ہیں۔

آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس غیر معمولی دریافت کا تفصیلی جائزہ شروع کردیا ہے۔ ان کے مطابق یہ خزانہ وائکنگ دور کی تاریخ کے کئی پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے، بالخصوص اس زمانے میں دولت چھپانے، تجارت کرنے اور قیمتی اشیاء استعمال کرنے کے طریقوں کے بارے میں اہم شواہد فراہم کرسکتا ہے۔

یہ دریافت اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ اتنا بڑا تاریخی خزانہ کسی باقاعدہ آثار قدیمہ کی کھدائی کے بجائے ایک نجی گھر کے باغیچے میں معمول کی تعمیراتی تیاری کے دوران سامنے آیا۔ اس واقعے نے ڈنمارک میں وائکنگ عہد کے آثار اور تاریخ کے حوالے سے نئی دلچسپی پیدا کردی ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے