ہماری جمہوریت اور آمریت دونوں جعلی نکلیں

شیئر کریں

دنیا میں صرف اسلام ہی نے انقلابات برپا نہیں کیے دنیا میں انسانی ساختہ نظریات نے بھی کمالات دکھائے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ پورا مغرب عیسائی تھا مگر پھر مغرب نے عیسائیت کو مسترد کرکے سیکولر ازم اور لبرل ازم کو اپنا رہنما بنا لیا۔ اس نے وحی کی روایت کو مسترد کرکے ’’عقل پرستی‘‘ کا راستہ اختیار کرلیا۔ اس نے وحی اور الہام کی روایت کو ترک کرکے سائنس کو اپنا رہنما بنالیا۔ اس کی بنیاد پر یورپ تین صدیوں میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔ آج دنیا میں امریکا اور یورپ کی طاقت کا عالم یہ ہے کہ علوم ہوں یا فنون، سیاست ہو یا معیشت، آرٹ ہو یا کلچر، مغرب پوری دنیا کا امام ہے۔ ہر کوئی مغرب کی طرح بننا چاہتا ہے۔ مغرب کا اصرار ہے کہ اس کی ترقی کی دو بنیادیں ہیں عقل پرستی اور جمہوریت۔ مغرب کی سائنس اور ٹیکنالوجی اور خود جمہوریت بھی عقل پرستی کا حاصل ہے۔

لینن نے 1917ء میں روس میں سوشلزم کی بنیاد پر انقلاب برپا کردیا۔ سوشلزم ایک مذہب دشمن نظریہ تھا مگر اس نظریے نے روس اور بعدازاں آدھی دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ سوشلسٹ انقلاب نے روس کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنادیا۔ روس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے دائروں میں امریکا اور یورپ کی برابری کرکے دکھا دی۔ سوشلسٹ انقلاب نے روس میں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں کوئی بیروزگار نہیں تھا۔ جہاں ہر سطح کی تعلیم مفت تھی۔ شہریوں کی رہائش کا بندوبست ریاست کرتی تھی۔ کوئی بیمار پڑتا تھا تو ریاست اس کا مفت علاج کرتی تھی۔ روس میں مطالعے کا رجحان عام تھا۔ روس کا سب سے بڑا اخبار پراودا تھا جس کی اشاعت دو کروڑ تھی۔ دوسرا بڑا اخبار ایزوستا تھا جس کی اشاعت ڈیڑھ کروڑ تھی۔ روس میں طوائفوں کا وجود نہیں تھا۔ روس کا کمال یہ تھا کہ اس نے جمہوریت کے بغیر غیر معمولی ترقی کرکے دکھا دی تھی۔

سوشلسٹ انقلاب صرف روس میں نہیں چین میں بھی آیا۔ اس انقلاب نے بھی چین کی قلب ماہیت تبدیل کردی۔ انقلاب سے پہلے چین ایشیا کا مردِ بیمار تھا۔ پوری چینی قوم افیون کھانے میں لگی ہوئی تھی۔ مگر سوشلسٹ انقلاب نے چین کو اندر سے بدل کر رکھ دیا۔ آج چین کی مجموعی قومی پیداوار 18 ہزار ارب ڈالر ہے۔ چین نے 40 سال میں 75 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا ہے۔ چین کے پاس آج 4 ہزار ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر ہیں۔ اس میدان میں امریکا اور یورپ بھی چین کے مقابل نہیں آسکتے۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تحقیقی مقالے چینی محققین کے شائع ہورہے ہیں۔ پاک بھارت جنگ میں پاک فضائیہ کی برتری نے ثابت کردیا کہ چین کی دفاعی ٹیکنالوجی مغرب کی ٹیکنالوجی سے برتر ہے۔

اس پورے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں کی ناکامیاں ہولناک بن کر ہمارے سامنے آتی ہیں۔ ان ناکامیوں کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے جرنیل اسلام کی قوت کو استعمال کرکے پاکستان میں ہمہ گیر علمی، سیاسی، معاشی، سماجی اور اخلاقی انقلاب برپا کرسکتے تھے مگر انہوں نے قومی زندگی میں اسلام کو بنیادی قوت محرکہ بننے ہی نہیں دیا۔ جرنیلوں نے کہا پاکستان کی بنیادی حقیقت اسلام تھوڑی ہے ہم خود ہیں یا ہماری فوج۔ اسلام تو ایک ازکار رفتہ شے ہے۔ اس کا زمانہ گزر چکا۔ چنانچہ جنرل ایوب خان نے پاکستان کو سیکولر بنانے کی سازش کی۔ جنرل پرویز مشرف لبرل تھے انہوں نے 9 سال تک پاکستان کو لبرل بنانے کے لیے ہاتھ پائوں مارے۔ جنرل ضیا الحق اسلام پسند تھے مگر ان کا اسلام کھال سے نیچے نہیں جاتا تھا۔ اس لیے کہ وہ صرف Skin Deep تھا، چنانچہ جنرل ضیا الحق کے ساڑھے دس سال بھی پاکستان کو نہ اسلامی بنا سکے نہ ترقی یافتہ۔

اس کے برعکس قائداعظم کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے برصغیر کی پوری ملت اسلامیہ کو اسلام اور پاکستان کے نام پر ایک وحدت بنادیا تھا مگر ہمارے جرنیل اور سیاستداں پاکستانی قوم کو 75 سال میں بھی ایک قوم نہیں بنا سکے۔ ہم آج بھی پنجابی ہیں، مہاجر ہیں، سندھی ہیں، پشتون ہیں، بلوچ ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جرنیلوں نے ’’فوجیت‘‘ کو ایک قوم بنا کر کھڑا کیا ہوا ہے۔

بھٹو صاحب کا نعرہ ’’اسلامی سوشلزم‘‘ تھا۔ کاش وہ سچے سوشلسٹ ہی ہوتے۔ مگر نہ سچے مسلمان تھے نہ سچے سوشلسٹ اس لیے انہوں نے اسلامی سوشلزم جیسی گمراہ کن اصطلاح وضع کی تھی۔ اس اصطلاح کے گمراہ کن ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسلام سوشلزم کی اور سوشلزم اسلام کی ضد تھا اور یہ دونوں ایک جگہ جمع ہو ہی نہیں سکتے تھے۔

ایک تازہ ملک گیر سروے کے مطابق پاکستان کے 65 فی صد لوگ جمہوریت چاہتے ہیں اور صرف 10 فی صد لوگ ملک میں فوجی حکومت کے خواہش مند ہیں۔ مگر بدقسمتی سے جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں نے پاکستان میں جمہوریت کو بھی نہیں چلنے دیا۔ بدقسمتی سے پاکستان کی آمریت بھی جعلی ہے اور جمہوریت بھی جعلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ہماری سیاست ٹھیک ہے نہ معیشت۔ ملک میں غربت کا یہ عالم ہے کہ 10 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے کھڑے ہوئے ہیں۔ 70 فیصد لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں، 60 فی صد لوگ بیمار پڑتے ہیں تو ان کو بہتر علاج میسر نہیں آتا۔ ہمارے سیاستداں اور جرنیل پاکستانی قوم کو دین نہ دیتے دنیا ہی دے دیتے مگر پاکستانیوں کی عظیم اکثریت کے پاس نہ دین ہے نہ دنیا۔

اس مایوس کن اور گھمبیر صورتحال سے نکلنے کا ایک بڑا راستہ قانون کا ہر سطح پر احترام اور بلا امتیاز نفاذ ہے۔ ہر ادارے کو اس کے دائرہ اختیار میں کام کرنے کا موقع دیا جائے اور حصول انصاف کو آسان اور تیز تر کیا جائے۔ ادب کے دائرے میں اظہار خیال کی آزادی کا احترام اور مکمل موقع دیا جائے۔ خیالات پر جبر کبھی بھی انسانی تاریخ میں کامیاب نہیں ہوا۔ ادب کے دائرے میں اظہار خیال کی آزادی سے مسلسل بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے اور معاشرے سے متشدد سوچ اور رویوں کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے