فوڈ ڈیلیوری رائیڈر نے پانچ سال میں 4 کروڑ روپے سے زائد کی جمع پونجی بنا لی

شیئر کریں

چین کے شہر شنگھائی میں ایک نوجوان فوڈ ڈیلیوری رائیڈر نے اپنی کفایت شعاری اور محنت سے پانچ سال کے دوران حیرت انگیز رقم جمع کر کے سب کو حیران کر دیا ہے، 25 سالہ زینگ شیوچیانگ نے 2020 میں شنگھائی میں ڈیلیوری رائیڈر کے طور پر کام شروع کیا اور اب تک اس نے ایک لاکھ 60 ہزار ڈالرز (تقریباً 4 کروڑ 47 لاکھ پاکستانی روپے) جمع کر لیے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زینگ نے قبل ازیں صوبہ فوجیان میں ایک ناشتہ فروخت کرنے والی دکان چلاتی تھی، لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے اسے بند کرنا پڑا اور اس پر 7 ہزار ڈالرز کا قرضہ چڑھ گیا۔ تاہم اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت اور نظم و ضبط سے دوبارہ زندگی کی شروعات کی۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں زینگ نے بتایا کہ وہ بنیادی ضروریات سے ہٹ کر کوئی بھی اضافی خرچ نہیں کرتا اور ہفتے کے سات دن، روزانہ تقریباً 13 گھنٹے کام کرتا ہے۔

زینگ نے اپنے بیان میں کہا کہ میں سونے اور کھانے کے علاوہ اپنا سارا وقت لوگوں تک کھانا پہنچانے میں صرف کرتا ہوں۔

زینگ صرف چین کے موسم بہار کے فیسٹیول کے دوران چھٹی کرتا ہے۔ اس کا روزانہ کا آغاز صبح 10 بج کر 40 منٹ پر ہوتا ہے اور کام رات ایک بجے تک جاری رہتا ہے۔ اپنی توانائی برقرار رکھنے کے لیے وہ روزانہ ساڑھے آٹھ گھنٹے کی نیند لیتا ہے۔

زینگ کا کہنا ہے کہ وہ ماہانہ تقریباً 300 آرڈرز مکمل کرتا ہے اور اس دوران 3 لاکھ 24 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ اب اس نے اپنا تمام قرضہ ادا کر دیا ہے اور کافی رقم جمع کر لی ہے۔

اپنی محنت کے صلے میں زینگ نے شنگھائی میں دوبارہ کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے ایک لاکھ 13 ہزار ڈالرز خرچ کر کے دو دکانیں کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اس حوالے سے زینگ کا کہنا تھا کہ پہلی بار میں ناکام ہوا تھا، لیکن اب میں دوبارہ کوشش کرنا چاہتا ہوں اور اس بار کامیابی یقینی بنانا چاہتا ہوں۔

زینگ کی کہانی نہ صرف محنت اور عزم کی مثال ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ عزم اور نظم و ضبط کے ساتھ محنت انسان کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔

 


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے